دیار خلافت کا سفر شوق (اڑتیسویں قسط)

تحریر: مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

قائی اوغز ترک جنگجو اپنے بہادر سردار ارطغرل کی قیادت میں بجلی کی طرح کوندتے ہوئے طاقتور لشکر کے سر پر پہنچا اور آنا فانا تیغ و سناں کی دھار سے کشتوں کے وہ پشتے لگائے کہ لمحوں میں طاقتور لشکر کی ساری طاقت ہوا کی طرح نکل گئی۔ قائی جنگجووں نے انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ وہ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ ارطغرل کے سپاہیوں نے ان کی صفیں چیر کر رکھ دیں۔ کچھ ہی دیر میں پانسہ پلٹ چکا تھا۔ طاقتور لشکر کی ہوا اکھڑ گئی تھی اور ان کے گھوڑے بری طرح بدک رہے تھے۔ ایک افراتفری اور سراسیمگی پھیل چکی تھی۔ کہاں کچھ دیر پہلے یہ عالم کہ جو طاقتور تھا وہ کمزور پر فتح ہی پانے والا تھا، جبکہ کمزور لشکر کو یہ فکر لاحق تھی کہ اب مزید تباہی سے بچت کیسے ممکن ہے اور ان نقشہ بدلنے کے بعد ساری ترتیب، پوزیشن اور نتیجہ الٹ چکا تھا۔

ارطغرل کا قبیلہ قائی، ترکوں کے معروف اوغز شاخ سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ جنگجو اور خانہ بدوش لوگ تھے۔ ان کا آبائی علاقہ اور وطن اصلی منگول سلطنت کے قریب واقع تھا جس کی وجہ سے یہ آئے دن منگولوں کی یورش اور ناگہانی حملوں سے تنگ آچکے تھے۔ وطن سے ہجرت کے کچھ اسباب ہم پہلے بتا چکے ہیں، منجملہ ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ منگول انہیں تنگ کرتے تھے۔ قائی اوغز ترک بہادر اور جفاکش تھے، مگر منگول چونکہ ایک بڑی اور مضبوط سلطنت رکھنے والی طاقتور قوم تھی اور ان کے لاؤ لشکر کے سامنے ان کی حیثیت بہت کم تھی اس لئے یہ آئے دن ان سے لڑنے بھڑنے سے تنگ آچکے تھے اور ایک ایسی جگہ بسنا چاہتے تھے جو منگولوں کی دسترس اور دستبرد سے محفوظ اور دور ہو۔۔۔۔

مزید پڑھیں: دیار خلافت کا سفر شوق ( 35ویں قسط)

“آگ لینے گئے تو پیغمبری مل گئی…..”

سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارطغرل کی قیادت میں اوغز قائی ترکوں کا یہ مختصر قافلہ نئی دنیا تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا تھا کہ اب ناگہانی انہیں ایک ایسی جنگ میں کودنا پڑ گیا تھا جس کے دونوں فریقوں سے انہیں اس وقت تک کوئی سروکار نہیں تھا۔۔۔

ارطغرل کی زیر قیادت قائی قبیلے کی نصرت ایزدی ملنے کے بعد اب جنگ کا نقشہ بدل چکا تھا۔ ارطغرل نے کمال جرات و بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے لمحے کی تاخیر اور جانچ کے تردد میں پڑے بغیر کمزور نظر آنے والے لشکر کی طاقت بننے کا نہ صرف فیصلہ کیا بلکہ عملاً اس کا ساتھ دے کر اسے وہ تقویت پہنچائی کہ جو ہزیمت کی آخری حدوں کو پہنچنے والے فریق کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔ میدان اب صاف ہوچکا تھا۔ طاقتور کی ہوا اکھڑ چکی تھی اور اس کے بچے کھچے سپاہی اور جنگی سردار اپنی میتیں میدان جنگ میں ہی چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر چکی تھیں۔۔۔ غبار چھٹا اور چہرے واضح ہوئے تو ارطغرل نے اپنے ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور جس لشکر کی انہوں نے حمایت کی تھی، اس کے سردار کے پاس حاضر ہوئے۔ دونوں جتھوں نے ایک دوسرے کا احوال معلوم کیا تو دونوں انتہائی خوشگوار حیرت سے دوچار ہوگئے۔۔۔۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *