کتاب : ایک اور آدمی

ایک اور آدمی

کتاب : ایک اور آدمی

مصنف : حسن منظر صاحب

تبصرہ : مسلم انصاری


ایک نظر مصنف پر!

حسن منظر صاحب 4 مارچ 1933 کو اترپردیش (انڈیا) میں پیدا ہوئے 1947 میں ان کا کنبہ ہجرت کرکے لاہور آیا

آپ نے ایف سی کالج، اسلامیہ کالج اور کنگ ایڈورڈ کالج میں تعلیم حاصل کی

آپ ہیشے کے اعتبار سے ایک ڈاکٹر ہیں

اور اس پیشے سے جڑی بہت سی سچی کہانیاں مذکورہ کتاب “ایک اور آدمی” میں موری پور نامی افسانے میں بیان کرتے ہیں!

آپ نے اپنے ہنر کی ابتدا کراچی سے کی

بیرونِ ملک طب کی پوسٹ گریجویٹ تعلیم مکمل کی

ایشیا اور افریقا میں خدمات انجام دیں

پھر آپ سندھو دھرتی میں مقیم ہوگئے !!

“ایک اور آدمی” حسن منظر صاحب کی کہانیوں کا پانچواں مجموعہ ہے

کتاب کی پہلی اشاعت 1999 میں ہوئی ہے

کتاب 9 کہانیوں/افسانوں پر مشتمل ہے

کتاب میں موجود کچھ کہانیوں کا انگریزی ترجمہ Requiem for the earth کے عنوان سے 1998 میں آکسفورڈ یونیورسٹی سٹی پریس کراچی سے شائع ہوا تھا

کتاب مصنف کی پوتیوں عمرہ، ناشیہ اور یشما کے نام ہے !

حسن منظر صاحب نے جس وقت اس کتاب کو لکھا

پاکستان مارشل لاء، ایم کیو ایم، بھوک اور پیاس جیسی نسلیں کھا جانے والی چکی میں پس رہا تھا

آپ کی کہانیوں میں ایک تکنیکی اضافہ ہے

تکنیکی اضافہ میرے نزدیک ان کی کہانیوں کے لئے تعریفی کلمہ ہے کیونکہ یہ ایک ایسا اضافہ ہے جو قاری کے لئے ہے

کہ وہ ان کہانیوں سے اپنے اندر پیدا ہونے والے خلا کو کس طرح پورا کرتا ہے

حسن منظر صاحب کی کہانیوں کا پلاٹ متوسط طبقے کے کرداروں کے بیچ پنپتے ان کے روز مرہ کے مسائل اور ان کی زندگیاں ہیں

اس اعتبار سے آپ کا اسلوب جدا ہے اور آپ کو جدید بلکہ ترقی پسند کہا جاسکتا ہے

کتاب میں مذکورہ موضوعات پر قلم بند کیا گیا ہے

غربت، عورت، بھوک، سمندر، موت، ہجرت، جنگلی حیات، آزادی، سندھ، کراچی، رویے، مختلف نسلیں، ہندوستان اور ان کا ڈاکٹری کا پیشہ!

آدھی سے زیادہ کتاب ان کی زندگی سے حاصل ہوئے تجربات کا خلاصہ ہے

جسے انہوں نے کہانیوں یا افسانوں کا روپ دیکر صفحے پر اتارا ہے

چند ایک سطریں جو الگ الگ افسانوں سے لی گئی ہیں

اس کتاب کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں

ملاحظہ کیجیے

“جس عورت کو کبھی حمل نا ہوا ہو وہ اولاد کے لئے اتنا نہیں روتی ہے جتنا وہ جس کا حمل ضائع ہو گیا ہو!”

“دنیا میں ہر کام کی فیس ہوتی ہے کام جائز یا نا جائز نہیں ہوتا ناجائز فعل کام کی فیس ادا نہ کرنا ہے”

“عورت کے ہاتھ کا کھانا تا عمر ہر اس مرد کی کمزوری رہتی ہے جسے صحیح بچپن ملا ہو”

“زیادہ عبادت اکثر انسانوں میں سے ہر قسم کے جذبات کو سلب کرلیتی ہے حتیٰ کے خدا سے لگاؤ کو بھی اور ایسا انسان خود اپنی ذات کا مرکز بن جاتا ہے”

“جب پیسے ہوتے ہونگے تو پیسہ دینے والے زندگی کی ان چیزوں کے لئے وقت کہاں چھوڑتے ہوں گے اور اب جب وقت ہی وقت ہے تو پیسہ کہاں”

“غربت کی طرف کون لوٹنا چاہتا ہے خواہ وہ اپنا ہی گھر کیوں نا ہو!”

بڑھاپے اور جوانی کا موازنہ دوستی اور تعلقات کے ساتھ کرتے ہوئے “افسردگیِ دل” نامی افسانے میں لکھتے ہیں

“بڑھاپے کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ دیر پا تعلقات کی بنیاد رکھے ۔ نوجوانی کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے ۔ جب کوئی کام بچی کھچی مدت کے لئے کیا جائے تو اس کی بنیاد ریت پر بھی رکھی جا سکتی ہے اور جب ارادہ تا عمر کا ہوتو دیکھنا پڑتا ہے ریت کے نیچے مضبوط بنیاد رکھنے کے لئے چٹان ہے یا نہیں ۔ بوڑھے جب کسی نوجوان لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوتے ہیں تو یہ نہیں سوچتے کہ اس کی وفاداری کتنی پائیدار ہوگی جتنا بھی مل جائے غنیمت گردانتے ہیں!!”

کتاب میں سب سے اہم اور طویل افسانہ “موری پور” ہے

شاید یہ میرے دل کے زیادہ قریب اس لئے ہے کہ جتنا لگاؤ حسن منظر صاحب کو اس سندھ دھرتی کے کراچی سے ہے ۔۔۔۔ ہم کراچی باسیوں کو بھی ہے

دراصل یہ افسانہ موری پور ۔۔۔۔ ماڑی پور کے اصل نام کی طرف منسوب ہے

جب یہ افسانہ لکھا گیا اس وقت موری پور بھی ملیر، منوڑا اور بند مراد خاں کی طرح کراچی سے مستقل جڑے ہوئے حصے نہیں تھے

بلکہ کراچی سے ماڑی پور تک جانے کے لئے مکمل سنسان رستے اور کھلی ہوا والی سڑکیں تھیں

وہ جگہ 1999 سے پہلے اور کچھ بعد تک بھی ائر فورس اور سنٹرل ایکسائز اینڈ لینڈ کسٹمز حکام کے زیر استعمال تھی

(اب بھی کراچی ایسے ہی لوگوں اور اداروں کے بیچ کہیں کہیں شہری آبادی کا حصہ ہے)

ماڑی پور کے لوگوں کی الگ دنیا تھی

وہاں مکرانیوں کے گوٹھ کی زندگی منفرد تھی

ان کا رہن سہن جدا تھا

موری پور افسانہ آپ کی آنکھوں میں کچھ دیر کے لئے نمی ضرور لائے گا

ایک جگہ کراچی کے متعلق لکھتے ہیں

“کراچی نہ صرف یہ کہ غریب پرور شہر ہے بلکہ ان کے لئے بھی اپنے بازو کھلے رکھتا ہے جو اسے پسند نہ کرتے ہوں اور ان کی حسبِ حیثیت سیوا بھی کرتا ہے میرا خیال ہے کراچی کا حسن اور اس کی وسعت چیونٹیوں کی طرح صبح سے شام تک مصروف انسانوں کے دم سے ہے “

موری پور افسانے سے ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے

“ایک بار دروازہ کھلا تھا میں میز پر کام کررہا تھا

ایک مکرانی بڑھیا ایک بچے کو ہاتھوں میں لئے برآمده پار کرکے کمرے میں داخل ہوئی اور میرے پاس آکر خاموش کھڑی ہوگئی

نوکر پیچھے باورچی خانے میں تھا اسے بھی اس کے آنے کی اطلاع نا ہوئی

میں نے غالباً پوچھا ہوگا کہ کیا ہوا؟ کیا بات ہے؟

لیکن وہ چپ رہی

مجھے خبر نہیں تھی کہ وہ دور کے کسی گاؤں سے مردہ بچے کو دکھانے کے لئے لیکر آئی ہے

وہ رو نہیں رہی تھی

اور اس کے ساتھ کے لوگ جن میں بچے کی ماں بھی تھی دروازے کے باہر صبر سے خاموش کھڑے تھے

میں نے بچے کو دیکھا اور اس میں زندگی کی کوئی علامت نا پاکر سر اور آنکھوں سے بڑھیا کو آگاہ کیا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا

اس نے بچے کو میری میز پر پھیلے ہوئے کاغذات پر رکھا

برآمدے کی طرف دو قدم بڑھی اور کسی کو آواز دی

“بابو تو بیا”

جیسے وہ بات ماننے کو تیار نا ہو اور اپنے کسی ساتھ والے کو میری بات سمجھنے کو بلا رہی ہو میری سمجھ میں یہی آیا کہ بابو اس کا بیٹا ہے

اسے میری بات سمجھنے میں دیر نہیں لگی پھر بوڑھی عورت نے بابو سے کہا

“بچہ بگیر”

جیسے اب یہی ایک کام کرنے کو رہ گیا تھا

ماں، بیٹے اور مردہ پوتے کے باہر نکلتے ہی لوگوں نے بین شروع کردیا

بڑھیا کا خاموشی سے میرے پاس کھڑے ہوجانا میرے لئے عرصے تک معمّا رہا

وہ شاید راستے میں ہمراہیوں سے کہتی آئی تھی

“بچہ ٹھیک ہے سوگیا ہے”

اور اتنی بات کا مطلب انہوں نے باوجود اس کے راستے بھر بچے نے کوں کاں نہیں کی ہوگی

یہ لیا ہوگا کہ بچہ بچ جائے گا

اور ابھی رونے کا وقت نہیں آیا

پھر میرے ایک ہی اطلاعی جملے نے انہیں جیسے رونے کا اذن دے دیا ہو!”

کتاب میں بس یہی کچھ نہیں ہے

اس میں ایم کیو ایم کی بربریت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ظلم لکھا گیا ہے آمریت کا ننگا ناچ اور مارشل لاء کی دو طرفہ سچائی کی تاریخ لکھی گئی ہے

جسے ہر اپنے آپ کو طالب علم سمجھنے والے قاری کے لئے پڑھنا سود مند ہے

میرے خیال سے بہترین کتاب وہی ہے جس میں مصنف اپنے خیالات کی رائے کا اظہار واضح اور کھلے الفاظوں میں کرے اور یہ کتاب اس پر پورا اترتی ہے

حسن منظر اب کافی ضعیف ہوچکے ہیں مگر ان کا تمام ادبی کام اسی طرح جوان اور سچا ہے

ایک ادبی حلقے کے اعتبار سے ان کے کام میں “حبس” ناول ہمیشہ عالمی ادب کی فہرست میں سر فہرست رہے گا!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *