ڈی آئی خان : چشمہ بیراج میں واپڈا ریسٹ ہائوس کے قریب کشتی اُلٹ گئی

ڈیرہ اسماعیل خان : چشمہ بیراج پکنک کی غرض سے آنیوالے لکی مروت سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی کشتی تیز ہوا اور آندھی کے باعث ملاح سے بے قابو ہو کر چشمہ بیراج میں الٹ گئی ۔

جس کے نتیجے میں کشتی میں سوار تمام افراد چشمہ بیراج میں ڈوب گئے، مقامی افراد اور ریسکیو 1122 میانوالی کے غوطہ غوروں نے 8 افراد کو پانی سے زندہ نکال لیا ، 2 نوجوان تاحال لاپتہ ہو گئے ہیں ۔ تلاش کیلئے ریسکیو 1122 کے اہلکاروں کی مدد کیلئے پاک فوج کے غوطہ خوروں کی ٹیم بھی پہنچ گئی ۔

تفصیلات کے مطابق لکی مروت سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کا ایک گروپ چشمہ بیراج پر قائم ایک نجی ریسٹ ہائوس کے منیجر محمد سلیمان ولد فیض اللہ مروت سکنہ ٹانک کی دعوت پر پکنک منانے کیلئے چشمہ بیراج گیا ہوا تھا ۔ اس دوران تفریح کیلئے آئے نوجوان شیر دل ولد محمد اشرف قوم جائی سکنہ سرداری والا نامی شخص کی پرائیویٹ کشتی میں بیراج کی سیر کیلئے گئے ۔ جہاں تیز آندھی کے باعث کشتی کے تختے کھل جانے سے کشتی الٹ گئی ۔

مذید پڑھیں :او آئی سی اجلاس، فلسطینیوں کے حق میں صرف قرارداد منظور

حادثے کے نتیجے میں نور اسلم ولد حکیم خان ، محمد عرفان ولد عبدالائق ، احمد رشید ولد دولت خان، حزب اللہ ولد گل تیازخان، محمد ابرار ولد بازید خان، عارف اللہ ولد یوسف خان، شوکت سلیم ولد سلیم خان، تعریف اللہ ولد عصمت اللہ خان، نعمان رشید ولد دولت خان، سجاد اسلم ولد شیر اسلم اقوام مچن خیل مروت سکنائے لکی مروت بیراج میں ڈوب گئے ۔

حادثہ کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد نے اپنی مدد آپ امداد کاروائیاں شروع کر دیں ۔ جب کہ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان عارف اللہ اعوان کے رابطہ پر ڈپٹی کمشنر میانوالی کی ہدایت پر میانوالی سے ریسکیو 1122 کے غوطہ خور بھی موقع پر پہنچ گئے اور فوری امداد کاروائیوں میں 8 افراد کو پانی سے نکال کر بیہوشی کی حالت میں طبی امداد فراہمی کیلئے چشمہ اٹامک ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔

مذید پڑھیں :پاکستانی پائلٹوں نے اسرائیلی جہاز کب گرائے ؟

جب کہ ڈوبنے والے دو نوجوان نور اسلم اور عرفان تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کیلئے ریسکیو 1122 میانوالی کے غوطہ خوروں کی مدد کیلئے پاک فوج کے غوطہ خوروں کا خصوصی دستہ بھی پہنچ گیا ہے اور آخری اطلاعات تک لاپتہ نوجوانوں کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری تھا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *