بیت المقدس کی آزادی کا واحد راستہ جہاد ہے : قاری محمد عثمان

کراچی : جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ فلسطین میں مسلمانوں کا بہتا لہو امت مسلمہ کا ضمیر جھنجوڑ رہا ہے ۔فلسطین کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔ مسلم حکمران ضمیر کا سودا کر کے خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ بوڑھوں، نوجوانوں اور بچوں کے پرخچے اڑا دیئے گئے ہیں۔ بیت المقدس کی آزادی کا واحد راستہ جہاد ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے عید کے تیسرے اور چوتھے روز ملاقات کیلئے آئے ہوئے جماعتی احباب سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جے یو آئی ضلع شرقی کے امیر مولانا فتح اللہ، حافظ فاروق سید، جمال خان کاکڑ ، مولانا سیف الرحمن، رشید احمد خاکسار، قاری زرداد، ضلع سینٹرل کے جنرل سیکریٹری مولانا زرین شاہ ، مولانا محمد یوسف، مولانا سلطان محمود، حاجی نصیب رازق، سید اکبر شاہ ہاشمی، مولانا محمد طالوت، مولانا عبدالطیف، مولانا حسن ربانی، مولانا احتشام الحق، مولانا گل رفیق حسن زئی، ماما جھانزیب، مفتی محمد اشرف، مولانا حفیظ اللہ لاشاری، مولانا تاج محمد، مولانا سراج احمد اور بڑی تعداد میں جماعتی احباب اور علماء کرام موجود تھے ۔

قاری محمد عثمان نے فلسطین میں جاری اسرائیلی فوج کی درندگی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جا رہا ہے۔ مسلم حکمرانوں کی بے حسی پر دنیا بھر میں مسلمانوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں ۔ ان مظالم کو رکوانے والے کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج فلسطینیوں پر مظالم ڈھا رہی ہیں۔ بچوں اورجوانوں کو ماں باپ کے سامنے قتل کر دیا جاتا ہے ۔

مذید پڑھیں :نئے بورڈز اور عصری تعلیم :: خلط مبحث سے گریز کیجیئے (تیسری قسط)

ماؤں بہنوں کی عصمتیں تار تار کی جارہی ہیں لیکن ان مظالم کے باوجود فلسطینی مسلمان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم وبربریت کے شکار کوئی غیر مسلم ہوتے تو دنیا میں طوفان برپا ہو جاتا لیکن چونکہ فلسطینی مسلمان ہیں اسلئے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیموں نے آنکھیں بند کرلی ہیں ۔ اسرائیل جتنا زور لگالے فلسطینیوں سے زیادہ عرصہ آزادی اور ان کا حق خود ارادیت نہیں چھین سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار خاموش بیٹھے خون مسلم پر خوشیاں منارہے ہیں۔ مسلم حکمرانوں کو اپنی کرسی بچانے کیلئے امریکا بہادر کی غلامی میں سبقت حاصل کرنے کی دوڑ سے فراغت نہیں ۔دوسری طرف قبلہ اول سلگ رہا ہے۔ مسلمانوں کا قتل عام، نسل کشی اور آبادیوں کی آبادیاں جلائی جارہی ہیں مگر مسلم حکمرانوں نے بے غیرتی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ پاکستان قائدانہ کردار ادا کر تے ہوئے مسلم حکمرانوں کو فلسطینی مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو رکوانے پر مجبور کرتا مگر ہمارے حکمران خود یہود وہنود کے پیروکاروں میں شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں بہایا جانے والاخون اتنا ارزاں نہیں، یہ ناحق خون رائیگاں نہیں جائے گا ۔ یہ حکمران جہنم کا ایندھن بنیں گے اور ایک دن ان پر عذاب الٰہی ضرور آئیگا مگر جو مسلم حکمران خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں وہ بھی عذاب الٰہی کو دعوت دے رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں :نئے وفاق : اثرات و خدشات :: چند تمہیدی باتیں ( پہلی قسط)

قاری محمد عثمان نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ میں فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر نہ صرف آواز اٹھائی جائے بلکہ ان مظالم کو رکوانے کے لئے 34 ممالک کی اتحادی افواج کو فعال کرنے کیلئے کردار ادا کرنا ایٹمی اسلامی قوت پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ مسلم حکمرانوں کو معاف نہیں کرے گی ۔

اب بھی اگر ہم خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو کل کو ہمارے اپنے شہر اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ دنیائے کفر اسلام کے خلاف متحد ہو چکی ہے اور پوری مسلم امہ خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہے۔ قاری محمد عثمان نے کراچی سمیت ملک بھر کے ائمہ مساجد اور خطبائے کرام سے اپیل کی ہے کہ وہ کم از کم ہر نماز کے بعد فلسطینی مسلمانوں کی مدد اور اسرائیل کی تباہی کیلئے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کریں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *