نئے وفاق : اثرات و خدشات :: چند تمہیدی باتیں ( پہلی قسط)

تحریر : عبدالقدوس محمدی

دینی مدارس کے نومولود، نووارد اور نوخیز بورڈز کے حوالے سے دوست استفسار کرتے رہے ، لیکن رمضان المبارک کے معمولات، دورہ قرآن اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس پر کچھ لکھا نہ جا سکا ۔ مکمل بات کرنے کا موقع نہ تھا اور ادھوری بات مناسب نہ تھی ۔ اس لیے کچھ تاخیر ہو گئ ۔

اب عید کے موقع پر پنج پیر والے مولانا طیب صاحب نے ایک اور بورڈ کا اعلان کیا تو سوالات کا یہ سلسلہ مزید بڑھ گیا ۔ بلکہ بہت سے لوگوں کو ان کے سوالات کا جواب مل گیا، لیکن تشویش و اصطراب کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ۔ اس لیےکوشش ہو گی کہ نئے بورڈز کے قضیے پر کچھ لکھا جائے لیکن اس سے پہلے چند باتیں پیش نظر رہیں ۔

(1) اس آئی ڈی سے شیئر کی جانے والی دیگر پوسٹوں کی طرح اس موضوع پر لکھی گئ تحریریں بھی فقط میرے ذاتی خیالات اور شخصی تجزیہ ہو گا کسی ادارے،تنظیم یا شخصیت سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو گا ۔

(2) عموماً دیگر موضوعات پر ایک ہی کالم میں مکمل بات لکھنے کی کوشش ہوتی ہے لیکن گزشتہ چند پوسٹوں سے اندازہ ہوا کہ بہت طویل تحریریں آج کل پڑھی نہیں جاتیں اس لیے مختصر شذروں کی صورت میں لکھنے کی کوشش ہو گی ۔ یوں ہر تحریر مستقل بھی ہو گی اور سلسلہ وار بھی اس لیے پوری بات سمجھنے کے لیے اس سیریز کی تمام تحریریں سامنے رکھنا ضروری ہو گا ۔ لیکن کوئی ایک حصہ پڑھنے سے بھی ان شاءاللہ اس حوالے سے تشنگی نہ رہے گی ۔

مذید پڑھیں : دیوبندیت کی تاریخِ حُریت اور اجتماعیت پر خود کش حملہ (دوسری قسط)

(3) وفاق المدارس کے ساتھ میری وابستگی میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے اور میں اسے اپنے لیے ذریعہ نجات اور ذخیرہ آخرت سمجھتا ہوں، جامعة الرشید ایک ایسا ادارہ ہے جسے میں اپنی امیدوں کا مرکز اور خوابوں کی تعبیر سمجھتا رہا ہوں اور خود کو کبھی بھی جامعہ الرشید کی ٹیم یا فیملی سے الگ نہیں سمجھا اور حضرت استاذ صاحب سے لے کر عام کارکنان تک جامعہ کے وابستگان سے بھی ہمیشہ ڈھیروں محبتیں ملیں ۔

جب کہ جامعہ بنوریہ ہمارا اثاثہ اور سرمایہ ہے اور حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ عقیدت و محبت ہی نہیں دوستی اور بے تکلفی بھی تھی ۔ آدمی کو گلہ شکوہ بھی وہیں ہوتا ہے ، جہاں تعلق ہوتا ہے، وابستگی ہوتی ہے، توقع ہوتی ہے، محبت ہوتی ہے اس وجہ سے بات تو عمومی طور پر بورڈز کی ہی کی جائے گی لیکن دکھ،احساس اور فکر کسی کسی کے لیے ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ جامعة الرشید اور جامعہ بنوریہ کی طرح کے احساسات وجذبات کسی اور کے لیے نہیں اس لیے روئے سخن زیادہ تر اپنے ان دونوں گھروں کی طرف ہی رہے گا ۔

(4) عمومی دینی، اجتماعی معاملات میں میری کوشش ہوتی ہے کہ سوشل میڈیا اور میڈیا پر معاملات کو زیر بحث نہ لایا جائے بلکہ عملی اقدامات اٹھائے جائیں ۔ اصلاح احوال کی کوشش کی جائے اور متعلقہ فورمز پر بات کی جائے ۔ لیکن دینی مدارس کے نئے بورڈز کا قضیہ ہے ہی ایسا اور اس حد تک چلا گیا ہے کہ اب ہمارے بس میں اس پر رونے اور دہائی دینے اور مدارس کے لاکھوں وابستگان کی رائے سازی کے سوا اور کچھ رہا بھی نہیں ۔ سو یہی کرنے کا فیصلہ کیا ہے؟ اللہ ربّ العزت اسے قبول فرما لیں اور خیر کا ذریعہ بنا دیں ۔ آمین

مذید پڑھیں :نئے بورڈز اور عصری تعلیم :: خلط مبحث سے گریز کیجیئے (تیسری قسط)

(5) ان تحریروں میں ممکن ہے کسی جگہ بات ذرا تلخ ہو جائے اس پر پیشگی معذرت ۔ لیکن آدمی کو چوٹ جتنی گہری لگتی ہے آہ بھی اسی شدت سے نکلتی ہے یا خطرہ جتنا شدید ہوتا ہے شور بھی اسی حساب سے مچانا چاہیے ۔ ممکن ہے کوئی پلٹ آئے اور ویسے بھی تکلف سے اور لگی لپٹی بات کرنے سے بات بنتی نہیں اس لیے ذرا کھل کر بات ہونی چاہیے ۔

(6) میری گذارشات پر اختلاف رائے کا ہر کسی کو حق ہو گا ۔ لیکن بدتمیزی کا نہیں اور وہ بھی خاص طور پر میری وال پر تو بالکل بھی نہیں ۔ ہاں اپنی وال پر اگر کوئی کچھ بھی لکھنا چاہے، کہنا چاہے ضرور کہے ۔

(7) اللہ کریم محض اپنی رضا کے لیے وہ بات کہنے لکھنے کی توفیق دیں ، جو اللہ کو پسند ہو اور خیر اور اصلاح احوال کا زریعہ بن جائے ۔ امین

 نوٹ: یہ تحریر "مدارس کے نئے بورڈز۔۔۔اثرات وخدشات” کے سلسلے کا پہلا حصہ(1) ہے- اسے اس سیریز کی دیگر تحریروں کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *