راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا

ایک بار اور بھی بطحا سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا

فلسطین، غزہ اور مسجد اقصیٰ کے اندرون و بیرون برپا قیامتِ صغریٰ کی چیخیں، درد اور آہیں ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہیں
اپنی دعاؤں میں وہاں موجود چھلنی جسموں، تار تار عصمتوں، مجروح روحوں اور تڑپتے خون میں نہلائے بدنوں کو یاد رکھیں!!

امجداسلام امجد نے کیا خوب کہا ہے کہ
پھر وہی ہم تھے وہی ارض فلسطین تھی وہی درد کا جال
وہی سرگوشیاں کانوں میں وہی شام ملال
شوق کے کرب مسلسل میں گرفتار خیال
اُسی خاموش خرابے میں گراں گام تھے ہم

اور دکھ یہ ہے اس الم بھری گھڑی میں نام نہاد مسلمانوں اور امت کے ٹھیکیداروں کا اعلان کچھ اس طرح ہے کہ ” تم اور تمہارا رب جاکر لڑو ہم بیٹھے ہیں ”

بے حد دکھ ہے دل رنجیدہ ہے
فلسطین کے متعلق کوئی اچھی خبر سننے کو نہیں مل رہی ہے!!

الٰہی فلسطین میں موجود ہمارے بھائیوں بہنوں اولادوں کی مدد فرما آمین ثم آمین!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *