زلزلہ 2005ء چودہ سال بعد !

رپورٹ: سید عاصم محمود

سورج کی روپہلی کرنوں نے چہار سو اپنے سنہری رنگ بکھیرے‘ تو آزاد کشمیر کے صدر مقام مظفر آباد میں بھی زندگی انگڑائی لے کر بیدار ہو ئی۔ لوگ روزمرہ کام کاج کرنے پر جت گئے۔

بڑے اپنے کاموں پر جانے کی تیاری کرنے لگے‘ تو بچوں نے سکولوں کا رخ کیا۔ 8 اکتوبر 2005ء کی اس بدقسمت صبح مگر کسی شہری کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ جلد ہی زلزلے کی قدرتی آفت علاقے کو تہہ و بالا کر دینے والی ہے۔ انسان سائنس و ٹیکنالوجی میں کارہائے نمایاں انجام دے چکا مگر وہ اب تک سو فیصد حد تک اس قابل نہیں ہوا کہ سائنسی آلات کے ذریعے جان سکے ، تہہِ زمین میں زلزلہ کب نے والا ہے۔

حرکت کرتی زمین
ہم جس خشکی پر رہتے ہیں، وہ تہہ ِ زمین مختلف پلیٹوں یا ٹکڑوں(tectonic plates) میں تقسیم ہے۔یہ پلیٹیں تیس سے ایک سو کلومیٹر دبیز (موٹی) ہیں۔ان میں آٹھ بڑی اور سو سے زائد چھوٹی پلیٹیں شامل ہیں۔ ہمارے پاکستان کا نصف سے زیادہ علاقہ ایک بڑی پلیٹ،ہندوستانی پلیٹ(Indian Plate) جبکہ بقیہ دوسری بڑی پلیٹ،یورشیائی پلیٹ(Eurasian Plate) کا حصہ ہے۔کروڑوں سال پہلے ہندوستانی پلیٹ اور یورشیائی پلیٹ کا ٹکراؤ ہوا تھا جس سے ہمالیہ‘ ہندو کش و غیرہ کے پہاڑ پیدا ہوئے۔ ہندوستانی پلیٹ اب بھی یورشیائی پلیٹ سے ٹکرا رہی ہے۔دونوں پلیٹیں سینکڑوں ذیلی ٹکرے یا حصے رکھتی ہیں جنہیں جغرافیائی زبان میں ’’فالٹ لائن‘‘ کہتے ہیں۔

دونوں پلیٹوں کی فالٹ لائنیں ایک دوسرے سے ٹکرائیں تو عموماً ایک نیچے چلی جاتی اور دوسری اس کے اوپر رخ کرتی ہے۔ فالٹ لائنوں کی اسی حرکت سے ان کے علاقے میں زلزلہ آ جاتا ہے۔ہمارے پنجاب اور سندھ کے صوبے ہندوستانی پلیٹ پر واقع ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے صوبے یورشیائی پلیٹ میں آتے ہیں۔

پاکستان بھر میں پھیلے دونوں پلیٹوں کے ٹکراؤ والے علاقے کے قریب یہ بڑے پاکستانی شہر آباد ہو چکے: کراچی‘ خضدار‘ کوئٹہ‘ ڈیرہ غازی خان‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ بنوں‘ پشاور‘ مظفر آباد اور سیالکوٹ۔ اس ٹکراؤ والے علاقے میں مظفر آباد کے قریب واقع فالٹ لائنیں سب سے زیادہ متحرک ہیں۔ چنانچہ 8 اکتوبر 2005ء کو صبح آٹھ بج کر پچاس منٹ پر اچانک ہندوستانی پلیٹ کی ایک فالٹ لائن یورشیائی پلیٹ کے نیچے جا گھسی۔ یہ عمل تقریبا ایک منٹ تک جاری رہا۔ فالٹ لائنوں کی اسی حرکت سے علاقے میں زلزلہ آ گیا۔

آزادکشمیر ہل گیا

یہ فالٹ لائن زمین کی تہہ میں صرف سوا نو میل نیچے واقع تھی۔ اس باعث حرکت کی شدت بہت زیادہ تھی۔ اگر وہ پچیس تیس میل نیچے ہوتی تو زلزلے کی شدت کم ہی رہتی۔فالٹ لائنوں میں جس جگہ حرکت پیدا ہوئی، وہ مظفر آباد شہر سے صرف بارہ میل دور تھی۔ یہی وجہ ہے‘ وہ علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ کئی جگہ زمین پھٹ گئی اور بہت سی عمارتیں اندر دھنس گئیں۔ تکنیکی لحاظ سے زلزلے کی شدت 7.6 میگنا ٹیوڈ رہی۔ زلزلہ براہ راست انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا مگر جب اس کی زد میں آ کر گھر و عمارتیں تباہ ہو جائیں تو ان میں بستے لوگ بھی مارے جاتے ہیں۔

زلزلہ 8اکتوبر میں بھی گھر‘ عمارتیں‘ دفاتر وغیرہ گرنے سے ہزار ہا انسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق زلزلے نے 30 ہزار مربع کلو میٹر رقبے کو اپنا نشانہ بنایا۔73,338 مرد عورتیں اور بچے شہید ہوئے۔ 128`304 شہری زخمی ہو گئے۔ چھ لاکھ گھر تباہ ہوئے اور 35لاکھ پاکستانی بے گھر ہو گئے۔ 5772 سکول و کالج ‘726 سرکاری عمارتیں اور 320 ہیلتھ یونٹ تباہ ہو ئے۔ نیز کئی سڑکیں‘ پل‘ بجلی گھر ‘ پانی کی پائپ لائنیں اور سیوریج سسٹم بھی صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ مظفر آباد اور باغ کے اضلاع میں سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا۔ نیز ضلع مانسہرہ میں بالاکوٹ شہر بھی مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے تباہ کن زلزلہ ثابت تھا ۔ اس مہینے یہ خوفناک زلزلہ آئے چودہ سال بیت جائیں گے۔

ایثار و ہمدری کا بے مثال مظاہرہ

زلزلہ آنے کے بعد اہل پاکستان نے ایثار،جذبہ ہمدردی اور اخوت کا بے مثال مظاہرہ پیش کرتے ہوئے زلزلہ متاثرین کی دامے درمے سخنے مدد کی۔ کراچی اور لاہور میں مقیم ممی ڈیڈی قسم کے لڑکے بھی زلزلہ زدہ علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کی مدد کرتے دیکھے گئے۔ ملک بھر سے رقوم اور امدادی سامان ان علاقوں تک بھجوایا گیا۔ پاک فوج کے جوان اور سماجی تنظیموں کے اہل کاروں نے بھی امدادی کارروائیوں میں سرگرمی سے حصہ لیا اور محبت و تعاون کی بے مثال تاریخ مرتب کی۔ بین الاقوامی برادری بھی متاثرین زلزلہ کی امداد میں پیش پیش رہی۔ بیرون ممالک سے ادویہ‘ کمبل‘ خیمے اور دیگر سامان بڑی تعداد میں موصول ہوا۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں بھی مدد کرنے پہنچیں۔ نیز مختلف ممالک نے حکومت پاکستان کو تقریباً ساڑھے پانچ ارب ڈالر فراہم کیے تاکہ زلزلہ متاثرین کی بحالی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر نو پر کام شروع ہو سکے۔

دو اداروں کی تشکیل

زلزلہ متاثرین کی بحالی و تعمیر نو کے لیے حکومت پاکستان نے 24 اکتوبر 2005ء کو ایک سرکاری ادارے ’’ایرا‘‘ (Earthquake Reconstruction and Rehabilitation Authority) کی بنیاد رکھی۔17 اگست 2007ء کو قدرتی آفات اور حادثات کے نقصانات سے عہدہ براں ہونے کی خاطر ایک اور سرکاری ادارے‘ این ڈی ایم اے(National Disaster Management Authority) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ پچھلے دنوں خبریں آئی تھیں کہ پی ٹی آئی حکومت ایرا کو این ڈی ایم اے میں ضم کرنا چاہتی ہے۔اس وقت لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل دونوں اداروں کے چیئرمین ہیں۔پچھلے چودہ برس سے ’’ایرا‘‘ ہی زلزلہ 8 اکتوبر کے متاثرین کی بحالی اور زلزلے سے متاثرہ علاقے میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو میں مصروف ہے۔’’ایرا‘‘ کے مطابق زلزلے کے بعد مختلف شعبہ جات میں بحالی و تعمیر نو کے 14704منصوبے تشکیل دیئے گئے۔ ان میں 10805 منصوبے مکمل ہو چکے۔2269 منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ 1630 منصوبوں پر کام شروع ہوتا ہے۔ ان تمام منصوبوں پر 5ارب ڈالر لاگت آنی تھی۔

درج بالا اعداد و شمار سے عیاں ہے کہ زلزلہ 8اکتوبر سے متاثرہ علاقوں کی بحالی و تعمیر نو میں ’’ایرا‘‘ نے تسّلی بخش اور قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یہی وجہ ہے‘ زلزلے کے باعث آزاد کشمیر اور خیبر پختون خواہ کے علاقے جو مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے‘ آج وہاں زندگی کی چہل پہل نظر آتی ہے اور لوگ اپنے روز مرہ معمولات میں مصروف ہو چکے ۔ امید ہے کہ ’’ایرا‘‘ اپنے متحرک چیئرمین کی زیر قیادت بقیہ غیر مکمل منصوبے بھی کامیابی سے مکمل کر لے گا۔ اگرچہ آزاد کشمیر میں 24 ستمبر2019ء کے حالیہ زلزلے نے ’’ایرا‘‘ کا کام بڑھا دیا ہے۔ اب اسے نئے زلزلہ متاثرین کو بھی امداد فراہم کرنا ہو گی۔

گندی مچھلیاں

ایک ادارے میں باصلاحیت، محنتی اور ایماندار لوگ ہوتے ہیں تو وہاں کچھ گندی مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ ایرا بھی ان سے محفوظ نہیں رہا۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے احتساب نے انکشاف کیا تھا کہ اکرام نوید نامی ایک افسر ایرا میں ڈائریکٹر فنانس تعینات رہا۔ اسی دوران وہ غیر ملکی امداد میں سے بیس کروڑ روپے خرد برد کرنے میں کامیاب رہا۔ بہرحال اب وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ چکا۔حکومت کا دعوی ہے کہ وہ سابقہ حکمران شریف خاندان کی ایک اہم شخصیت کے داماد کا آلہ کار تھا۔

2018ء میں تب کے چیف جسٹس پاکستان، ثاقب نثار نے اس شکایت پر سوموٹو ایکشن لیا تھا کہ بالا کوٹ کے متاثرین زلزلہ کی بحالی و تعمیر نو کے لیے ’’ایرا‘‘ نے منصوبے شروع نہیں کیے ہیں۔ دراصل بالا کوٹ فالٹ لائن کے بالکل اوپر واقع تھا۔ اس لیے فیصلہ ہوا کہ متاثرین کے لیے دس بارہ میل دور ایک نیا شہر، نیو بالا کوٹ کے نام سے بسایا جائے۔ ایک نیا شہر تعمیر کرنا آسان کام نہیں، اس کے لیے ایرا کو اپنے تمام وسائل مختص کرنا پڑتے۔ شاید اس لیے سوچا گیا کہ پہلے دیگر علاقوں میں جاری منصوبے ختم ہوجائیں، پھر نیا شہر بسانے پر توجہ دی جائے گی۔

2007ء میں حکومت پاکستان نے نیوبالا کوٹ بنانے کے لیے بارہ ارب روپے مختص کرنے کی منظوری دی تھی۔ مگر یہ منصوبہ عملی جامہ نہیں پہن سکا۔ اس وقت تباہ شدہ بالا کوٹ کے پانچ ہزار سے خاندان عارضی گھروں یا خیموں میں مقیم ہیں۔ انہیں امید ہے کہ ایک دن حکومت پاکستان اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے نیو بالا کوٹ میں ان کے لیے گھر تعمیر کردے گی۔یہ خاندان پچھلے چودہ برس سے تکالیف اور مصائب برداشت کررہے ہیں۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ نیا شہر بسانے کی خاطر ایرا کو فوراً مطلوبہ فنڈز فراہم کرے تاکہ ہمارے مصیبت زدہ ہم وطن اپنے دکھوں سے نجات پاسکیں۔

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے زلزلہ متاثرین کی بحالی و تعمیر نو کے لیے مختص فنڈز سے رقم نکلوا کر بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام، ملتان میٹروبس منصوبے اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو فراہم کردیں۔ یہ ایک قسم کی چوری ہے جو سابقہ حکمرانوں نے انجام دی۔ انہوں نے زلزلہ متاثرین کو ان کے حق سے محروم کردیا۔ چرائی گئی رقم سے نیو بالا کوٹ شہر میں بہت سے گھر تعمیر ہوسکتے تھے۔ یوں ہزارہا ہم وطنوں کو کسمپرسی کی زندگی سے نجات مل جاتی۔

قانون کی خلاف ورزی

کچھ عرصہ قبل یہ انکشاف بھی ہوا تھا کہ آزاد کشمیر کے کئی علاقوں خصوصاً مظفرآباد میں شہریوں نے تین منزلہ عمارتیں اور گھر بھی تعمیر کرلیے ہیں۔ یہ بلڈنگ کوڈز کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ زلزلہ 8 اکتوبر کے بعد حکومت آزاد کشمیر نے یہ قانون بنایا تھا کہ ہر شہری صرف دو منزلہ عمارت ہی تعمیر کرسکے گا۔ لیکن آزاد کشمیر اور خیبر پختون خواہ میں بھی لوگوں نے فالٹ لائنوں کے علاقوں میں کئی منزلہ عمارات تعمیر کرلی ہیں۔

مستقبل میں خدانخواستہ زلزلہ آیا، تو یہ عمارات بہت زیادہ جانی نقصان ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں بلند و بالا عمارتوں اور گھروں کی تعمیر نہ ہونے دیں کیونکہ زلزلہ آنے کی صورت میں عمارتیں موت کی پیغام بر بن جائیں گی۔آزاد کشمیر اور خیبرپختونخوا کی طرح جاپان کا بیشتر علاقہ بھی متحرک فالٹ لائنوں کے اوپر واقع ہے۔ جاپان میں ہر عمارت یا گھر مجوزہ قوانین اور ہدایات مدنظر رکھ کر تعمیر کیے جاتے ہیں۔ ایسی ہر عمارت شدید زلزلوں میں سالم رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی لیے اب جاپان میں زلزلے آئیں تو بہت کم جانی و مالی نقصان ہوتاہے۔ جاپان کی طرح ہمیں بھی فالٹ لائن کے قریب آباد شہروں اور قصبات میں ایسے گھر اور عمارتیں تعمیر کرنا ہوں گے جو آٹھ میگنا ٹیوڈ کے زلزلے بھی برداشت کرلیں اور منہدم نہ ہوں۔ ان عمارتوں کی تعمیر پر زیادہ خرچ آتا ہے مگر قیمتی انسانی جانیں بچانے کے لیے کچھ زیادہ اخراجات کرلینا ہرگز خسارے کا سودا نہیں۔

درج بالا حقائق سے عیاں ہے کہ ایرا اور دیگر حکومتی و صوبائی اداروں نے زلزلہ 2005ء کے متاثرین کی بحالی کے لیے قابل قدر کام کیے ہیں۔ لیکن اب بھی کئی متاثرین خصوصاً بالا کوٹ کے شہری حکومتی امداد و توجہ کے منتظر ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ان کی اشک شوئی کریں تاکہ مصیبت زدگان اپنی حالت زار سے چھٹکارا پاکر خوشحال اور خوش باش زندگی بسر کرسکیں۔زلزلہ متاثرین بھی مایوسی سے نجات پائیں اور مسائل زندگی کا دلیری سے مقابلہ کریں۔ مشہور موجد،الیگزینڈر گراہم بیل کا خوبصورت قول ہے: ’’جب ایک دروازہ بند ہو تو دوسرا کھل جاتا ہے۔ مگر اکثر ہم بند دروازے کو تاسف و افسوس سے اتنی دیر تک دیکھتے رہتے ہیں کہ ہمیں دکھائی ہی نہیں دیتا، ہمارے لیے دوسرا دروازہ کھل چکا۔‘‘ n

میر پور میں تباہی

2005ء کے زلزلے نے ضلع میر پور کو کم ہی نقصان پہنچایا تھا۔ لیکن اسی سانحہ جانکاہ کے چودہ سال مکمل ہونے سے صرف دو ہفتے قبل 27 ستمبر 2019ء کو ضلع میر پور بھی ایک بڑے زلزلے کا نشانہ بن گیا۔ ماہرین ارضیات کے مطابق یہ زلزلہ انہی فالٹ لائنوں کے ٹکراؤ سے وجود میں آیا جنہوں نے 2005ء کے زلزلے کو جنم دیا تھا۔ اگرچہ اسی زلزلے کی شدت کم تھی یعنی 5.6 میگنا ٹیوڈ۔فالٹ لائنوں کا ٹکراؤ تہہ زمین صرف 10 کلو میٹر دور تھا، اس لیے کم شدت کا زلزلہ بھی کافی تباہی پھیلانے کا موجب بن گیا۔ ضلع میر پور اور ضلع بھمبر میں مکانات گرنے سے 39 ہم وطن چل بسے۔ ایک خاتون ضلع جہلم میں جاں بحق ہوئیں۔ زلزلے سے جاتلاں روڈ کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا اور سڑک پر جابجا گڑھے پڑگئے۔

تقریباً ایک ہزار شہری زخمی بھی ہوئے۔ اپر جہلم نہر میں شگاف پڑنے سے کئی دیہات زیر آب آگئے۔زلزلے کے بعد ’’ایرا‘‘ فوراً سرگرم ہوگیا اور متاثرین زلزلے کو فوری امداد فراہم کی گئی۔ ضلع میرپور کے رہائشیوں نے بھی جذبہ ایثار و ہمدردی کا مظاہرہ کیا اور متاثرین کی ہر ممکن مدد کرتے رہے۔ امید ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اب زلزلوں سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دیں گی تاکہ مستقبل میں اہل پاکستان کو شدید جانی و مالی نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔ مزید براں یہ ضروری ہے کہ علاقے میں جدید ترین آلات سے لیس ارضیاتی مراکز بنائے جائیں تاکہ ماہرین تہہ زمین ہونے والی تبدیلیوں اور ارضی حرکات پرنظر رکھ سکیں۔ جدید آلات کے ذریعے کچھ حد تک زلزلے کی پیشن گوئی کرنا ممکن ہوچکا ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *