کتب خانہ، کیماڑی اور تبادلہ کتب

شہرِ کراچی میں ہماری زندگیاں جَوتے ہوئے بیل کی مانند لگاتار ایک گول دائرے کے گرد گھوم رہی ہے ۔
کراچی میں میرے پاس جانے کو سوائے اپنے گھر کے کچھ نہیں نا ہی رشتے دار اور نا ہی ہم عمر رقیب ۔
خیر اس سب کے باوجود شہرِ کراچی نے اچھے دوست ضرور دیئے ہیں ۔
یہ ایک چھوٹا سا مضمون اسی بارے میں ہے ۔

عید کا دوسرا روز بھی دن میں سوتے اور رات میں سگریٹیں پھونکنے میں گزرنے والا تھا کہ واٹس ایپ پر عادل عزیز میرے حبیب نے لوکیشن بھیج دی اور میں کیماڑی کی طرف نکل گیا ۔

میری لسٹ میں بہت سے لوگ اس دھان پان سے خاموش طبع مگر مسکراہٹیں رکھنے والے اس لڑکے نما آدمی سے کسی نا کسی درجے میں واقف ہیں ۔

(یہاں ایک خاص ذکر حذف ہے)

عادل عزیز کے لئے لفظ آدمی لکھنا اگرچہ زیادتی ہے مگر یہ اس کے فیصلوں، پختہ سوچ اور ہمت کی جانب اشارہ ہے ۔
عادل ایک ماہ میں چھ سے زائد بار اپنی ذاتی لائبریری اور کتاب دوست اشخاص کی لائبریریز کے لئے کتابیں خریدنے دن کے صبح چھ بجے بہت سی ایسی جگہوں سے کتابیں جمع کرنے نکل جاتا ہے ۔
جہاں فقط اوراق کی خوشبو اور بکھرے ہوئے لٹریچرز ہوتے ہیں ۔
اس کی لائبریری میں جوکہ اس کا ایک کمرہ ہے پندرہ سو سے زائد ذاتی کتب سانسیں لے رہی ہیں ۔
کیماڑی جیسی گنجان آبادی میں یہ لڑکا حیرت کی علامت ہے ۔
اس کا سارا شغل میلا اور ساری بھاگ دوڑ کتابوں سے شروع ہوکر کتابوں پر ختم ہوجاتی ہے ۔
وہ کمپوزنگ کرتا ہے ۔
بہت سے اداروں کے لئے پسِ پردہ پروف ریڈنگ اور لکھائی کا کام کرتا ہے ۔
اس پاس عبداللہ حسین، انتظار حسین اور مستنصر حسین تارڑ صاحب جیسے قلم کاروں کے ساتھ ملاقاتوں کی یادیں ہیں تو وہیں کہیں حسن منظر صاحب کے ہاتھ کی لکھی غیر مطبوع تحریریں بھی ہیں ۔

آپ عادل عزیز سے پرانی کتب براستہ “محذوف عبارت” کم سے کم قیمت پر خرید سکتے ہیں ۔
یعنی آپ عادل بھائی سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطہ کیجیے اور بس!!
کتابوں کا سستا ہونا میری ذمے داری ہے !
اندازہ لگائے کہ “خدا کی بستی” اور “امراء و جان ادا” جیسی دو کتب فقط 500 روپے میں ۔۔۔۔۔۔۔۔!!
واہ ❤️

اور ہاں
آپ جو یہ پڑھ رہے ہیں اس میں ایک خوشخبری بھی ہے کہ میری پہلی کتاب “خاموش دریچے” اب عادل عزیز سے مناسب قیمت پر منگواسکتے ہیں یا پھر اس سے ایک ہزار روپے سے زائد کتب کی خریداری کی جیئے اور میرے توسط سے “خاموش دریچے” بطورِ تحفہ وصول کیجیے!!

مجھے لگتا ہے جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ یہ کتابوں سے محبت کی آخری صدی ہے وہ لوگ غلط ہیں ۔
ایسا کچھ نہیں ہے!!

اور جب سورج ڈوب رہا تھا اور میں کیماڑی کے کچے پکے راستوں سے ہوتا شہرِ کراچی کی بھیڑ سے گزرتا ہوا پرندوں کی طرح گھر لوٹ رہا تھا تو عادل عزیز کی مہمان نوازی کے عوض میں شکم سیر تھا اور اس کے خلوص کے باعث میری ساتھ کچھ کتابیں بھی سوار ہوکر میرے گھر جارہی تھیں جن میں “میرا داغستان” اور “اُس بازار میں” شامل تھیں!!

شکریہ عادل عزیز ۔
اب سمجھ آیا کہ تم اتنے عزیز کیوں ہو!!

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *