کیا آپ جانتے ہیں بیت المقدس کیوں ضروری ہے ؟

تحریر : محمد رفیق خان

نیشنل سیکرٹ فورس آف پاکستان

فلسطین دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ یہ اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر اب اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے۔ 1948ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا۔ جو خلافت عثمانیہ میں قائم رہا مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1948ء میں یہاں کے بیشتر علاقے پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ اس کا دار الحکومت بیت المقدس تھا جس پر 1967ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں اور یہ شہر یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ مسلمانوں کا قبلہ اول یہیں ہے۔

اور سب سے اہم کیوں ہے یہ

” فلسطین "

01: یہ سب جانتے ہیں کہ فلسطین انبیاء علیھم السلام کا مسکن اور سر زمین رہی ہے۔
02: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فلسطین کی طرف ہجرت فرمائی۔
03: اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اس عذاب سے نجات دی جو ان کی قوم پر اسی جگہ نازل ہوا تھا۔
04: حضرت داؤود علیہ السلام نے اسی سرزمین پر سکونت رکھی اور یہیں اپنا ایک محراب بھی تعمیر فرمایا۔
05: حضرت سلیمان علیہ اسی ملک میں بیٹھ کر ساری دنیا پر حکومت فرمایا کرتے تھے۔
06: چیونٹی کا وہ مشہور قصہ جس میں ایک چیونٹی نے اپنی باقی ساتھیوں سے کہا تھا "اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھس جاؤ” یہیں اس ملک میں واقع عسقلان شہر کی ایک وادی میں پیش آیا تھا جس کا نام بعد میں "وادی النمل – چیونٹیوں کی وادی” رکھ دیا گیا تھا۔
07: حضرت زکریا علیہ السلام کا محراب بھی اسی شہر میں ہے ۔

08: حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسی ملک کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے کہا تھا کہ اس مقدس شہر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے اس شہر کو مقدس اس شہر کے شرک سے پاک ہونے اور انبیاء علیھم السلام کا مسکن ہونے کی وجہ سے کہا تھا۔
09: اس شہر میں کئی معجزات وقوع پذیر ہوئے جن میں ایک کنواری بی بی حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ولادت مبارکہ بھی ہے۔
10: حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے قتل کرنا چاہا تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اسی شہر سے آسمان پر اُٹھا لیا تھا۔

مزید پڑھیں :اسرائیلی فورسز نے فلسطینی اداکارہ مائزہ عبدالہدی کو گولی مار کر زخمی کر دیا

11: ولادت کے بعد جب عورت اپنی جسمانی کمزوری کی انتہاء پر ہوتی ہے ایسی حالت میں بی بی مریم کا کھجور کے تنے کو ہلا دینا بھی ایک معجزہ الٰہی ہے۔
12: قیامت کی علامات میں سے ایک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمین پر واپس تشریف اسی شہر کے مقام سفید مینار کے پاس ہوگا۔
13: اسی شہر کے ہی مقام باب لُد پر حضرت عیسٰی علیہ السلام مسیح دجال کو قتل کریں گے۔
14: فلسطین ہی ارض محشر ہے۔
15: اسی شہر سے ہی یاجوج و ماجوج کا زمین میں قتال اور فساد کا کام شروع ہو گا۔

16: اس شہر میں وقوع پذیر ہونے والے قصوں میں سے ایک قصہ طالوت اور جالوت کا بھی ہے۔
17: فلسطین کو نماز کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ ہجرت کے بعد حضرت جبرائیل علیہ السلام دوران نماز ہی حکم ربی سے آقا علیہ السلام کو مسجد اقصیٰ (فلسطین) سے بیت اللہ کعبہ مشرفہ (مکہ مکرمہ) کی طرف رخ کرا گئے تھے۔ جس مسجد میں یہ واقعہ پیش آیا وہ مسجد آج بھی مسجد قبلتین کہلاتی ہے۔
18: حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم معراج کی رات آسمان پر لے جانے سے پہلے مکہ مکرمہ سے یہاں بیت المقدس (فلسطین) لائے گئے۔
19: سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی اقتداء میں انبیاء علیھم السلام نے یہاں نماز ادا فرمائی۔ اس طرح فلسطین ایک بار پھر سارے انبیاء کا مسکن بن گیا۔
20: سیدنا ابو ذرؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ زمین پر سب سے پہلی مسجد کونسی بنائی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الحرام(یعنی خانہ کعبہ)۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کونسی؟ (مسجد بنائی گئی تو) آپﷺ نے فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (یعنی بیت المقدس)۔ میں نے پھر عرض کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ تھا؟ آپﷺ نے فرمایا کہ چالیس برس کا اور تو جہاں بھی نماز کا وقت پالے ، وہیں نماز ادا کر لے پس وہ مسجد ہی ہے۔

مذید پڑھیں :فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور لشکر کشی کیخلاف MWM کی احتجاجی ریلی

21 : وصال حبیبنا صل اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ارتداد کے فتنہ اور دیگر
کئی مشاکل سے نمٹنے کیلئے عسکری اور افرادی قوت کی اشد ضرورت کے باوجود بھی ارض شام (فلسطین) کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تیار کردہ لشکر بھیجنا بھی ایک ناقابل فراموش حقیقت ہے۔
22 : اسلام کے سنہری دور فاروقی میں دنیا بھر کی فتوحات کو چھوڑ کر محض فلسطین کی فتح کیلئے خود سیدنا عمر کا چل کر جانا اور یہاں پر جا کر نماز ادا کرنا اس شہر کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔
23 : دوسری بار بعینہ معراج کی رات بروز جمعہ 27 رجب 583 ھجری کو صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں اس شہر کا دوبارہ فتح ہونا بھی ایک نشانی ہے۔
24 : بیت المقدس کا نام قدس قران سے پہلے تک ہوا کرتا تھا، قرآن نازل ہوا تو اس کا نام مسجد اقصیٰ رکھ گیا۔ قدس اس شہر کی اس تقدیس کی وجہ سے ہے جو اسے دوسرے شہروں سے ممتاز کرتی ہے۔ اس شہر کے حصول اور اسے رومیوں کے جبر و استبداد سے بچانے کیلئے 5000 سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جام شہادت نوش کیا۔ اور شہادت کا باب آج تک بند نہیں ہوا، سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے۔ یہ شہر اس طرح شہیدوں کا شہر ہے۔

25: مسجد اقصیٰ اور بلاد شام کی اہمیت بالکل حرمین الشریفین جیسی ہی ہے۔ جب قران پاک کی یہ آیت (والتين والزيتون وطور سينين وهذا البلد الأمين) نازل ہوئی ّ تو ابن عباس کہتے ہیں کہ ہم نے بلاد شام کو "التین” انجیر سے، بلاد فلسطین کو "الزیتون” زیتون سے اور الطور سینین کو مصر کے پہاڑ کوہ طور جس پر جا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ پاک سے کلام کیا کرتےتھے سے استدلال کیا۔
26: اور قران پاک کی یہ آیت مبارک (ولقد كتبنا في الزبور من بعد الذكر أن الأرض يرثها عبادي الصالحون) سے یہ استدلال لیا گیا کہ امت محمد حقیقت میں اس مقدس سر زمین کی وارث ہے ۔
27: فلسطین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے یہاں پر پڑھی جانے والی ہر نماز کا اجر 500 گنا بڑھا کر دیا جاتا ہے ۔ مسجد اقصیٰ کے بارے میں اَہم معلومات ۔۔
اگر کسی مومن کو بیت المقدس کی سرزمین پر گھوڑے کی ایک رسی جتنی جگہ بھی مل جائے کہ جس کی بدولت وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت سے مستفید ہوتا رہے تو یہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔

مزید پڑھیں :محمد حسین محنتی کی سید منور حسن، عظیم بلوچ اور نسیم صدیقی کے گھر آمد

1)۔۔۔ مسجد اقصیٰ ایک مکمل احاطے کا نام ہے ،چنانچہ عام طور سے تصویر میں جو ایک لمبی چوڑی چار دیواری دِکھائی دیتی ہے ، تو اس کے اندر جو کچھ بھی ہے ، یعنی اس میں موجود دروازے، مختلف چھوٹے بڑے صحن،برآمدے، جامع مسجد، قبۃ الصخرہ، مصلیٰ مروانی، قبے، پانی کی سبیلیں اور دیگر جو بھی تاریخ آثار اس چار دیواری میں موجود ہیں ، حتی کہ اس پر موجود اذان دینے کے منارے سب ’’مسجد اقصیٰ‘‘ میں شامل ہے۔
2)۔۔۔ یہ مسجد بیت المقدس شہر کے ایک ٹیلے پر واقع ہے اور یہ مسجد اس اعتبار سے دنیا کی واحد ترین مسجد ہے کہ اس کے احاطے میں جس قدر تاریخی آثار موجود ہیں وہ کسی اورجگہ موجود نہیں ہیں۔ اس مسجد کا کل احاطہ چالیس ہزار ، ایک سو چار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔
3)۔۔۔ یہ مسجد بیت المقدس شہر کے ایک ٹیلے پر واقع ہے اور یہ مسجد اس اعتبار سے دنیا کی واحد ترین مسجد ہے کہ اس کے احاطے میں جس قدر تاریخی آثار موجود ہیں وہ کسی اورجگہ موجود نہیں ہیں۔ اس مسجد کا کل احاطہ چالیس ہزار ، ایک سو چار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔
4) زمین پر مسجد حرام کے بعد دوسرے نمبر پر بننے والی مسجد یہی ’’مسجد اقصیٰ‘‘ ہے۔ چنانچہ حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: زمین پر سب سے پہلی کون سی مسجد تعمیر کی گئی؟ تو آپ نے فرمایا: مسجد حرام!۔ میں نے پوچھا: پھر اس کے بعد کون سی؟ تو آپ نے فرمایا: مسجد اقصی۔ میں نے پوچھا: ان دونوں کی تعمیر میں کتنی مدت کا فرق ہے؟ تو آپ نے فرمایا: چالیس سال۔‘‘ (بخاری)

4)۔۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا پہلا قبلہ ہے ۔
اس کی تفصیل حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنئے۔ فرماتے ہیں :
ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مل کر ، سولہ یا سترہ مہینوں تک بیت المقدس کی طرف رُخ کر کے نمازیں پڑھیں، پھر ہمارا رُخ قبلہ بیت اللہ کی طرف پھیر دیا گیا (بخاری و مسلم )
یاد رہے کہ قبلے کی تبدیلی کے بعد بھی اس مسجد اقصیٰ کی اہمیت ختم نہیں ہوئی، بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں اور اسلامی شریعت میں پہلے کی طرح ہمیشہ کے لیے اس کی عظمت برقرار رہی ہے اور برقرار چلی آرہی ہے۔ الحمد للہ۔
5)  نبی کریمﷺ نے اس کے فتح ہونے سے پہلے ہی اس کے فتح ہونے کی بشارت عطاء فرمائی جو ایک طرف ہمارے نبیﷺ کا معجزہ ہے اور دوسری جانب اس مسجد کی عظمت کا نشان بھی ہے ۔

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: غزوہ تبوک کے موقع پر میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضرہوا، اُس وقت آپ چمڑے کے بنے ہوئے ایک خیمے میں موجود تھے، اس وقت آپ نے فرمایا :
یہ بات شمار کرکے رکھ لو کہ قیامت سے پہلے یہ چھ باتیں ضرور ہوں گی: (۱) میری وفات (۲) پھر بیت المقدس کی فتح (۳) پھر دو ایسے عام موتیں جو تم بکریوں کی وباء کی طرح پھیل جائیں گی(۴) . پھر مال میں اس قدر اضافہ کہ اگر کسی کو ایک سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ اس پر بھی ( کمی محسوس کر کے ) ناراضی ظاہر کرے گا (۵) پھر ایک ایسا فتنہ آئے گا عرب کے کسی بھی گھر میں داخل ہوئے بغیر نہیں رہے گا (۶) پھر تمہارے اور بنو اصفر(رومیوں) کے درمیان ایک صلح کا زمانہ آئے گا، مگر وہ تم سے بدعہدی کریں گے اور تم سے لڑنے کے لیے اسی جھنڈوں تلے جمع ہوکر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گی(بخاری:۳۱۷۶)۔

6) مسجد اقصیٰ، بیت المقدس اور بلادِ شام : یہ ارضِ محشر ( جمع ہونے کی جگہ) بھی ہے اور ارضِ محشر(دوبارہ زندہ کر کے اُٹھائے جانے کی جگہ) بھی ۔
7) مسجد اقصیٰ کا یہ بھی امتیاز ہے کہ اس سرزمین کے اہل ایمان دجال سے حفاظت کے لیے اس میں پناہ لیں گے اور دجال اس میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے :
(دجال کی) ’’علامت یہ ہے کہ وہ چالیس دن زمین پر رہے گا، ہر پانی کے گھاٹ تک اس کی حکومت پھیل جائے گی، البتہ چار مسجدوں تک وہ نہیں آ سکے گا : کعبہ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ اور طور ‘‘ ۔

8) اِسی مسجد اقصیٰ کی جانب نبی کریمﷺ کو معراج کی شب سیر کرائی گئی اور اس میں عجیب حکمت یہ ہے کہ اس سیر کی ابتداء مسجد حرام سے ہوئی جوزمین پر بننے والی پہلی مسجد ہے اور اس زمینی سیر کی آخری منزل مسجد اقصیٰ بنائی گئی جو زمین پر بننے والے دوسری مسجد ہے ، اس طرح نبی کریمﷺ کے لیے دو قبلے اور ان کی فضیلت جمع کردی گئیں اور اسی کے ساتھ آپﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا بلیغ اِشارہ بھی دے دیا گیا ۔

9) یہ مسجد اقصیٰ وہ واحد مبارک جگہ ہے جہاں انسانی تاریخ کا سب سے عظیم الشان اجتماع ہوا ۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ہمارے نبی حضرت محمدﷺ تک جتنے بھی نبی گزرے ہیں وہ سب کے سب اس مبارک جگہ پر معراج نبوی کے موقع پر جمع ہوئے اور نبی کریمﷺ کی امامت میں نماز اداء کی۔ جس میں یہ پیغام بھی تھا کہ یہ نبی تما م نبیوں کے امام ہیں اور یہ بھی پیغام تھا کہ اب اس مبارک جگہ کی خلافت و وراثت امت محمدیہ کے سپرد کی جارہی ہے۔ اب دین وہی قبول ہوگا جو سیدنا محمدﷺ لے کر آئے ہیں اور جو ان کی امت میں داخل ہو گا وہی کامیاب ہو گا ۔

10) پوری تاریخ میں مسجد اقصیٰ ہمیشہ ایک اسلامی مسجد کے طور پر موجود رہی ہے اور مسلمانوں کی ملک میں رہی ہے۔ حتی کہ یہود کے آنے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ فلسطین انبیائے کرام مثلا حضرت ابراہیم ، حضرت یعقوب ، حضرت موسی ، حضرت عیسی ، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور دیگر انبیاء علیٰ نبینا و علیہم السلام کی زمین ہے اور یہ سب کے سب مسلمان تھے اور ہم ان میں کوئی تفریق نہیں کرتے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

اور ملتِ ابراہیم سے تو وہی شخص اعراض کرتا ہے جو بے وقوف ہے اور بلاشبہ ہم نے تو انہیں دنیا میں چن لیا تھا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے۔ جب ان کے رب نے ان سے کہا کہ تم فرماں بردار بن جاؤ تو انہوں نے کہا: میں رب العالمین کا فرماں بردار بنتا ہوں۔ اور اسی کی وصیت کی تھی ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب نے بھی کہ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ تعالی نے تمہارے لیے دین چنا ہے، پس تم مسلمان ہونے کی حالت میں ہی مرنا۔(سورۃ البقرۃ:۱۳۲)

مذید پڑھیں :اسٹنٹ کمشنر ریونیو ہری پور علی شیر خان کی کھلابٹ پکھرال چوک آمد

11) مسجد اقصیٰ کو بعض لوگ ’’حرم‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ تعبیر درست نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ تعبیر اسلامی شریعت میں ایک خاص مفہوم رکھتی ہے یعنی ایسی جگہ جہاں شکار کرنا اور درخت وغیرہ کاٹنا ممنوع ہو جیسا کہ حرم مکی کا حکم ہے۔ مگر چونکہ یہ احکامات بیت المقدس کے لیے نہیں ہیں اس لیے اسے ’’حرم‘‘ سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ اس نام کے علاوہ کتاب و سنت میں اس کے جو نام آئے ہیں ان میں یہ تین نام سب سے زیادہ مشہور ہیں: مسجد اقصی، بیت المقدس، مسجد ایلیائ۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ انہی ناموں سے اس مسجد کو یاد کیا جائے۔

11) مسجد اقصیٰ کا ایک اہم حصہ وہ ہے جسے آج کل ’’دیوارِ گریہ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ مسجد اقصیٰ کی جنوب مغرب جانب کی دیوار ہے اور یہ بھی اسلامی مملوکات میں سے ہے۔ اس اسرائیلی جارحیت و غاصبیت سے پہلے کبھی بھی اس کے بارے میں یہودیوں کا کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیاتھا۔ اور پھر جب اس زمانے کے یہودیوں نے ایسا دعویٰ کھڑا کیاتو امت مسلمہ نے ان کے اس جھوٹے دعوے کو ردکیا حتی کہ 1930ء میں اقوام متحدہ نے بھی یہ فیصلہ دیا کہ ’’یہ دیوار صرف اور صرف مسلمانوں کی ہی ملکیت ہے اور یہ مسجد اقصیٰ کا ہی ایک حصہ ہے جسے اس سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور یہ اسلامی اوقاف کی ملکیت میں ہی ہے۔‘‘۔

12) مسجد اقصیٰ کو جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے آزاد کرایا تو اس جامع مسجد کی اصلاح و تعمیر نو کا حکم دیا تاکہ یہ واپس اسی اصلی حالت پر آجائے جس حالت پر صلیبیوں کے قبضے سے پہلے تھی۔ پھر انہوں نے حلب سے ایک شاندار منبر منگوایا، جس کے بنانے کا حکم اس فتح سے بیس سال پہلے سلطان نورالدین زنگی رحمہ اللہ تعالیٰ نے دیا تھا۔ چنانچہ پھر وہ منبر مسجد اقصیٰ میں رکھ دیا گیا تاکہ خطیب اس پر کھڑے ہو کر جمعہ کے دن خطبہ دیا کرے ۔ پھر یہ منبر کئی صدیوں تک باقی رہا تاآناکہ سنہ 1969ء ، اگست کی اکیس تاریخ کو یہودیوں نے اس کو آگ لگائی اور اسی کے ساتھ انہوں نے نماز پڑھنے والی جگہ جسے المصلی الجامع کہتے ہیں، اسے بھی آگ لگائی۔

13) مسجد اقصیٰ ، بیت المقدس اور ہمارے نبیﷺ کے معراج و اسراء کی سرزمین تاریخ کے اکثر زمانوں میں اسلامی سرزمین کے طور پر جانی جاتی رہی سوائے اُن چند زمانوں کے جب اس پر کچھ قاتل اور ظالم لوگ مسلط ہو گئے ۔چنانچہ دورِ محمدی سے ایسی ہی ایک قوم تھی جس کا بادشاہ جالوت تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت داود علیہ السلام کے ہاتھوں اس جابر بادشاہ کو قتل کرایا ۔ اسی طرح بعد کے متعدد زمانوں میں رومی اور یورپ کے صلیبی اور اس دور میں یہودی ایسے ہی ظالم و قاتل لوگ ہیں جس عارضی طور پر اس مقدس مقام پر قابض و مسلط ہیں۔ اور ایک وقت آئے گا کہ ان کے ناپاک ہاتھوں سے اس مقدس مقام کو آزادی ملے گی۔ ان شاء اللہ

14) مسجد اقصیٰ کے بارے میں ایک اہم اور دلدوز بات یہ ہے کہ یہودیوں نے اِسے گرانے اور اس کی جگہ اپنا مزعومہ ہیکل بنانے کے لیے کئی منصوبے بنا رکھے ہیں۔ یہ وہ بات ہے کہ جس پر اس وقت کے تقریبا سب ہی یہودی اوران کی سب ہی سیاسی جماعتیں اوران کے سب ہی سرپرست متفق ہیں ۔

مزید پڑھیں :حماس کے رہنما نے ایرانی سپورٹ کا پول کھول دیا

15) مسجد اقصیٰ کو گرانے کے لیے یہودی قابضین وقتا فوقتا مختلف چھوٹے بڑے حربے اختیا ر کرتے رہتے ہیں۔ حتی کہ اسی کی پیش بندی کے لیے اب تک وہ فلسطین اور خاص کر بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے آس پاس میں کئی سڑکوںاور گراؤنڈز وغیرہ کے اسلامی شناخت والے نام بھی تبدیل کر چکے ہیں ۔

چنانچہ جس جگہ مسجد اقصیٰ قائم ہے اس جگہ کا نام انہوں نے ’’جبل ہیکل‘‘ یعنی ہیکل کا پہاڑ رکھ دیا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ پہاڑی جگہ ’’جبل بیت المقد س یا جبل مسجد اقصی‘‘ کے نام سے جانی پہچانی جاتی رہی ہے۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ اس مبارک مسجد سے ہر قسم کی اسلامی شناخت ختم کی جائے۔ لیکن ان کی یہ مذموم کاوشیں بالآخرناکام ہوں گی۔ ان شاء اللہ

16 مسجد اقصیٰ کے بارے میں یہودیوں کا گمان یہ ہے کہ یہ مسجد ، اُن کے مزعومہ عبادت گاہ ہیکل کی جگہ پر بنائی گئی ہے۔ اسی بنیاد پر اپنے حق کی واپسی کے لیے دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتے اوراپنی مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ نہ تو تاریخی حقائق کو جھٹلانے سے گریز کرتے ہیں اور نہ ہی تورات جیسی مقدس کتاب میں تحریک کرنے سے کتراتے ہیں اور جو قوم اپنے مذموم مقاصد کے لیے آسمانی کتاب کو بدلنے اورا س میں تحریف کرنے سے نہ کتراتی ہو، اس سے بھلا دیگر حقائق میں سچ کی کیا توقع رکھنا ؟؟

17 مسجدِ اقصیٰ اور مسئلۂ فلسطین، فقط اہل فلسطین کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اسلامی مسئلہ اور اسلامی قضیہ ہے اور جب سے اس کی چابیاں حضرت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سپرد کی گئیں تب سے دُنیا کے تمام مسلمانوں کا حق اِس سے جڑا ہوا ہے، اور یہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے صلیبی یلغار کے وقت اپنے جان و مال کی قربانی دے کر اس کی حفاظت بھی کی اور اس کو آزاد بھی کرایا، چنانچہ ایک اسلامی اوقاف کا حصہ ہے اور مسلمانوں کے سپرد کی گئی امانت ہے ۔

18) مسجد اقصیٰ ان شاء اللہ ضرور بالضرور امت مسلمہ محمدیہ کے پاس دوبارہ لوٹ کر آئے گی، اور اس پر قابض یہودیوں سے قتال بھی ہو گا اور مسلمان مجاہدین، یہودیوں کے سردار دَجّال اور خود یہودیوں کا کام تمام کریں گے، اور پھر یہ وہ وقت ہو گا کہ پوری انسانیت یہودیوں کے شر و فساد سے نجات پائے گی ۔

19 ) مسجد اقصیٰ اہل اسلام کی ہے، اس پر تاریخ بھی گواہ ہے اور زمینی و آسمانی حقائق بھی۔ یہ سرزمین اسلامی امانت ہے اور کسی بھی صورت یہ جائز نہیں ہے کہ یہ مقدس سرزمین اس بدبخت قوم کے حوالے کردی جائے جو انبیاء کرام علیہم السلام کی قاتل ہے ۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ عہد ہے کہ اس کا ایک چپے سے بھی اپنے سے دستبرداری نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کوئی ایسا عہد و پیمان قبول کیا جائے گا کہ یہودی اس مقدس سرزمین کے رئیس اور اہل اسلام کے سردار قرار پائیں ۔

20) مسجد اقصیٰ مسلمانوں کو دینی و مذہبی میراث ہے، اس لیے اس کی امامت بھی مسلمانوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، نبی کریمﷺ کی ترغیبات بھی اس پر موجودہیں اور آپﷺ نے صحابہ کرام کے دلوں میں اس کی محبت پیوست کی اور انہیں بیت المقدس فتح ہونے کی بشارت بھی عنایت فرمائی ۔یہ سب کچھ اسی حقیقت کا اظہار ہے کہ یہ مسجد اور یہ مبارک سرزمین مسلمانوں کی دینی و مذہبی میراث ہے۔

اس لیے مسجد اقصی اور بیت المقدس کی محبت کے چراغ ہمیشہ اہل اسلام کے دلوں میں روشن رہیں گے۔ یہی ہمارا عقیدہ ہے۔ اور دشمن کبھی مسلمانوں کے دلوں سے اس کی محبت ختم نہیں کر سکتے اور ان شاء اللہ ، قیامت تک یہ محبت باقی رہے گی کیوں کہ یہ سر زمین مسلمانوں کا ایک اہم ٹھکانہ اور طائفہ منصورہ کا مرکز ہے اور دنیا ماضی میں بھی اس کے مناظر دیکھ چکی ہے اور مستقبل میں بھی یہ حقیقت پوری ہو کر رہے گی اور دنیا اس کا مشاہدہ کر کے رہی گی ۔ ان شاء اللہ ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *