نئے بورڈز اور عصری تعلیم :: خلط مبحث سے گریز کیجیئے (تیسری قسط)

تحریر : عبدالقدوس محمدی 

نئے بورڈز کے قیام کے جواز کے لیے دلائل تراشنے والے بورڈز سے زیادہ عصری تعلیم کی وکالت فرماتے ہیں- عصری تعلیم کی ضرورت واہمیت سے انکار کیا کس نے ہے؟ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ تعلیم عصری دینی ہے اور بورڈ مدارس کا بنالیا ۔

ارے بھیا! جب جامعةالرشید کو جامعہ اشرفیہ اور دارالعلوم کراچی کی طرح خصوصی حیثیت مل گئ تھی،کلیة الشریعہ کی ڈگری منظور ہو گئ تھی تو عصری تعلیم کے لیے کافی تھا پھر مجمع کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ۔

جب جامعہ کو خصوصی حیثیت دی گئی اس وقت دیگر وفاقوں کے قیام پر بہت زیادہ اعتراض کیا گیا لیکن جامعہ الرشید کے معاملے میں کوئ نہیں بولا اگرچہ سب کو خبر تھی کہ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟…..جامعہ الرشید کو خصوصی حیثیت ملنے پر سب نے خوشی یا خاموشی اختیار کی تو بس کافی تھا۔۔۔۔۔اگر صرف عصری تعلیم کا معاملہ ہوتا تو اس خصوصی حیثیت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا مزید عصری تعلیم دینی ہے تو ضرور دیجیے……دس ادارے بنائیے……یونیورسٹیز بنائیے….اسکولنگ نیٹ ورک تشکیل دیجیے۔۔۔۔۔فرنچائزسسٹم لانچ کیجیے۔۔۔۔۔۔کوچنگ سنٹرز بنائیے۔۔۔۔سی ایس ایس اکیڈمیاں بنائیے۔۔۔۔کیڈٹ کالج بنائیے۔۔۔۔۔ترکی کے اسٹائل میں عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے ہاسٹلز بنائیے۔۔۔۔۔ہمارے حضرت جی پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب کی طرح تعلیم یافتہ اور زندگی کے مختلف شعبوں کے وابستگان کو علماء بنائیے۔

سید عدنان کاکاخیل کے البرہان کی طرح پروفیشنلز کو تعلیم دیجیے ۔۔۔۔۔ کبھی وفاق المدارس نے عصری تعلیم سے منع کیا؟۔۔۔۔۔ کبھی اکابر نے آپ کے نت نئے تجربات پر اعتراض کیا؟۔۔۔۔ بلکہ حوصلہ افزائ کی….قدردانی کی…..ساتھ دیا ۔۔۔ ۔۔تعاون کیا۔۔۔۔جامعہ الرشید کو اپنا ادارہ سمجھا۔۔۔۔ تمام مدارس نے اپنے فضلاء دیئے۔۔۔جامعہ نے جو اچھا اور منفرد کام کیاکوئ معترض نہ ہوا۔۔۔۔ان فضلاء کی عمران خان کے حق میں ذہن سازی کی گئ تب بھی سب چپ رہے۔۔۔۔اور بہت سے معاملات ہوئے لیکن سب نے سب کچھ گوارا کیا۔۔۔۔لیکن اج سب کا ایک ہی سوال یے کہ کیا یہ سارا سفر اس لیے تھا کہ آج جامعہ الرشید اتحاد تنظیمات مدارس اور وفاق المدارس کی اجتماعیت اور مرکزی حیثیت میں چھید کرنے والوں کا ہمنوا ہو جائے؟۔

پاکستانی دینی مدارس میں عصری تعلیم کا سب سے پہلا،کامیاب اور منفرد تجربہ مولانا فیض الرحمن عثمانی نے کیا اور اس وقت کیا جب یہ سب سوچنا بھی جرم تھا لیکن انہوں نے تو کبھی تنہا پرواز کا نہ سوچا حالیہ دنوں میں ان کا وائس میسج گردش کررہا ہے جس میں وہ وفاق المدارس کی چھتری تلے سے نکلنے کی مخالفت کررہے ہیں بلکہ مولانا فیض الرحمن عثمانی ایک اور دلچسپ بات کہا کرتے ہیں جو بڑی قابلِ غور ہے آپ فرماتے ہیں عصری تعلیم عصری اداروں سے دلوانی چاہیے تاکہ کل مقابلے کے میدان میں آپ کے بچوں کے پاس بھی فیڈرل بورڈ یا کسی بھی سرکاری بورڈ کی ڈگری ہو اگر کسی وفاق، مجمع یا کلیہ وجامعہ کی ڈگری لے کر کوئی بچہ مقابلے کے میدان میں جائے گا خواہ وہ عصری تعلیم کی ہی ڈگری کیوں نہ ہو تو اسے امتیازی رویوں کا سامنا کرنا پڑے گا اور آگے اگے تو یہ امتیازی رویے مزید بڑھیں گے ۔

اس لیے عصری تعلیم کے بہانے سے اپنے بورڈز بنانے کے بجائے اگر عصری تعلیم دینی ہی ہے تو پھر اپنے بچوں کو اس میدان میں اتارئیے اور وہی سکہ دے کر اتارئیے جو رائج الوقت ہو۔۔۔جامعہ بیت السلام اور مولانا عبدالستار صاحب کی مثال لے لیجیے ان کی طرح،ان جیسے معیار اور اسٹائل کی عصری تعلیم تو اسکولز والے خود بھی نہیں دے پاتے،بھاری بھرکم فیسیں لینے والے بھی جامعہ بیت السلام کی گرد راہ کو نہیں پہنچ سکتے لیکن بیت السلام والوں نے تو کسی نئے بورڈ کے قیام کی ضرورت محسوس نہیں کی۔۔۔ہمارے اسلام آباد میں وفاق المدارس کے مسؤول حضرت مولانا ظہور احمد علوی صاحب کے ادارے میں سی ایس ایس کی تیاری کے لیے اکیڈمی قائم ہے لیکن وہاں سے تو کبھی نئے بورڈ کی آواز نہیں گونجی۔

دلچسپ امر یہ کہ نئے بورڈز بمشکل ماسٹر ڈگری دے پائیں گے جبکہ تخصصات اور خصوصی کورسز کی ڈگریوں کو ان کے قیام کا عذر قرار دیا جا رہا ہے یہ کام تو یونیورسٹی کر سکتی ہے اس لیے یونیورسٹی بنائیے۔۔۔اس وقت آپ جہاں چلے جائیں کہیں انڈین لابی،کہیں اسلام بیزار طبقہ،کہیں قادیانی اور کہیں ایرانی لابی موجود ہوگی لیکن اسلامی اور پاکستانی لابی کہیں نہیں اس پر توجہ کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔اس پر محنت کی ضرورت ہے اور یہ محنت آپ ہی کر سکتے ہیں۔۔۔یہ کام اپ ہی کے کرنے کا ہے۔۔۔آپ ہماری امیدوں کا مرکز ہیں۔۔۔آپ اہل حق کاسرمایہ ہیں۔۔۔۔اپ اہل حق کے لیے ایک بہت اچھا آپشن ہیں۔۔۔اپ وفاق المدارس اور دیگر دینی کام کرنے والوں کے معاون بنیے ان کے مقابلے میں دانستہ یا نادانستہ غیروں کے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنیے ۔

آپ کے ذمے جو کام ہیں یا جن کی آپ سے توقعات وابستہ کی گئ ہیں اس کام کے لیے ماحول چاہیے۔۔۔۔اعتماد چاہیے سو اپنا اعتماد بحال کیجیے۔۔۔اپ غلط لائن میں جا لگے ہیں۔۔۔۔آپ کسی اور ٹریک پر چڑھ گئے ہیں واپس لوٹ آئیے۔۔۔آپ جو کچھ کر رہے تھے ۔۔۔اپ جو کچھ کرناچاہتے ہیں۔۔۔۔یا جو کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں یا جو کر سکتے ہیں اس کے لیے کم از کم مدارس کا الگ بورڈ بنانے کی قطعا ضرورت نہیں۔۔۔۔قوم کو مخمصوں میں مت ڈالیے۔۔۔میرے جیسے ہزاروں لوگ اپ سے بہت سی توقعات لگائے بیٹھے ہیں ہمیں مایوس مت کیجیے

نوٹ: یہ "نئے مدارس بورڈ۔۔۔خدشات وتوقعات” سیریز کا تیسرا (3) مضمون یے براہ مہربانی پہلے دو مضامین بھی ہڑھ لیجیے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *