محکمہ تعلیم کی "ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن” بھرتیوں کا معاملہ کھٹائی میں پڑنے کا اندیشہ

کراچی : رپورٹ صفدر رضوری

محکمہ اسکول ایجوکیشن کے مختلف اضلاع کے ڈائریکٹوریٹ پرائمری اور ڈائریکٹوریٹ سیکنڈری کے مابین ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے اساتذہ کی اسامیوں کی تقسیم کاتنازع ’’ای سی ٹی‘‘ (ارلی چائلڈ ہڈٹیچرز) کی بھرتیوں کی راہ میں رکاوٹ بن گیا۔

بھرتیوں کیلیے منعقدہ ٹیسٹ کے ایک سال بعد بھی سندھ کے سرکاری اسکولوں کے ’’پری پرائمری کلاسز‘‘ کی سطح کے ہزاروں بچے متعلقہ اساتذہ سے محروم ہیں حکومت سندھ کے محکمہ اسکول ایجوکیشن کی ناقص پالیسیوں اورحکمت عملی کے فقدان کے سبب کراچی سمیت سندھ کے سرکاری اسکولوں میں قائم ارلی چائلڈ ہڈایجوکیشن کی کلاسز کومتعلقہ پیشہ ورانہ اساتذہ فراہم نہیں کیے جا سکے۔

سندھ کے سرکاری اسکولوں میں 6 سال سے کم عمربچوں کیلیے رسمی اور غیررسمی تعلیم کے سلسلے میں”ارلی چائلڈ ہڈایجوکیشن”کے نام سے قائم کی گئی نرسریاں رواں تعلیمی سیشن 2019/20میں بھی متعلقہ پیشہ ورانہ تعلیم سے آراستہ اساتذہ سے خالی ہیں ان بھرتیوں کے سلسلے میں ٹیسٹ پاس کرکے میرٹ کی تمام شرائط پوری کرنے والے بیشتر امیدوارآفرلیٹرکے حصول کے باوجوداب تک سرکاری اسکولوں میں جوائنگ دے کرکم عمربچوں کوارلی چائلڈ ہڈ کی تعلیم دینے سے تاحال قاصرہیں اوران کم عمرطلبہ کوارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن سسٹم سے ناآشنا پرائمری اسکول ٹیچر(پی ایس ٹی) ہی تعلیم دے رہے ہیں اوراطلاعات ہیں کہ اب پی ایس ٹی اساتذہ کوہی ارلی چائلڈ ہڈایجوکیشن کی تربیت پر بھجوادیا گیاہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کواس امرکا انکشاف ہواہے کہ اب تقریباًایک سال گزرنے سے کچھ قبل محکمہ اسکول ایجوکیشن کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ای سی ٹی (ارلی چائلڈ ہڈ ٹیچر) کی جن اسامیوں پر ان 1100کے قریب اساتذہ کی تقرریاں کی جانی ہیں ان اسامیوں کوتخلیق Create کیے جانے کے بعد سندھ کے تمام اضلاع کے ڈائریکٹوریٹ پرائمری کے حوالے کردیاگیاجس پر مختلف اضلاع کے ڈائریکٹوریٹ سیکنڈری نے اختلاف کیااورموقف اختیار کیا کہ اکثرارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کی کلاسز کیمپس اسکولوں میں چل رہی ہیں جبکہ یہ کیمپس اسکول ڈائریکٹوریٹ آف سیکنڈری ایجوکیشن کے ماتحت آتے ہیں۔

لہذاان اسامیوں کومحض ڈائریکٹوریٹ پرائمری کودینے کے بجائے یہاں بھی منتقل کیاجائے، یہ معاملہ سامنے آنے کے بعدارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کے اساتذہ کی بھرتیوں کاعمل عین جوائننگ کی سطح پر پہنچنے کے بعد روک دیاگیاہے اورارلی چائلڈ ہڈ کلاسز کو پڑھانے والے پرائمری اسکول اساتذہ کوہی ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن کی تربیت پربھجوادیاگیاہے۔

ادھریہ بھی معلوم ہواہے کہ ارلی چائلڈ ہڈٹیچرزمیں کچھ تعدادایسے امیداروں کی بھی ہے جنھیں نہ توآفرلیٹردیے جارہے ہیں اورنہ ہی انھیں کوئی معقول وجہ بتائی جارہی ہے انھیں میں سے اکثرگلبرگ ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے امیدوارہیں، ’’ایکسپریس‘‘ کومحکمہ تعلیم سندھ کے ایک اعلیٰ افسرنے بتایاکہ اب بعض اضلاع کے ڈائریکٹراسکولز نے سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کوخطو ط کے ذریعے سفارش کی ہے کہ جونیئر ایلیمنٹری اسکول ٹیچر(جے ای ایس ٹی) اورارلی چائلڈ ہڈ ٹیچر(ای سی ٹی) اساتذہ کی اسامیوں ڈائریکٹوریٹ سیکنڈری کوبھی منتقل کی جائیں۔

ڈائریکٹر اسکولز سیکنڈری کراچی حامد کریم کی جانب سے حال ہی میں اس حوالے سے سیکریٹری تعلیم کولکھے گئے خط میں سفارش کی گئی ہے کہ متعلقہ اسامیاں پرنٹ میڈیامیں مشتہر کرنے کے ساتھ ساتھ “ایس این ای”2019/20 (سینکشنڈ نیوایکسپینڈیچر)میںمختص توکی گئی ہیں تاہم بجٹ بک (والیوم تھرڈ)برائے مالی سال 2019/20میں یہ اسامیاں سیکنڈری ایجوکیشن کے بجائے ایڈمنسٹریشن کے مختلف Cost centerڈائریکٹوریٹ اسکولزپرائمری اور ٹاؤن ایجوکیشن آفیسرز(ٹی ای او)پرائمری کودے دی گئی۔

لہذا اب ان اسامیوں کوسیکنڈری ایجوکیشن کے متعلقہ کوسٹ سینٹرز میں منتقل کیاجائے تاکہ تقرریوں کاعمل مکمل کیاجاسکے اوراس معاملے کی اہمیت کے پیش نظرکوسٹ سینٹرکی منتقلی کے ’’پرپوزل‘‘ کو محکمہ خزانہ کو بھجوایاجائے تاکہ بھرتی کیے جانے والے اساتذہ کی تنخواہیں بروقت جاری ہوسکیں۔

ادھر’’ ایکسپریس ‘‘ کے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹراسکولز سیکنڈری حامد کریم کاکہناتھاکہ ہم نے ’’پرپوزل‘‘ دیاہے کہ جس پرائمری اورسیکنڈری اسکولوں میں جس عددی تناسب سے طلبہ کی تقسیم ہے اسی تناسب سے یہ اسامیاں بھی پرائمری اورسیکنڈری میں تقسیم کردی جائیں، کراچی میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی مجموعی انرولمنٹ کا70فیصد پرائمری اسکولوں جبکہ 30فیصد سیکنڈری اسکولوں میں ہے۔

لہذا اسی تناسب سے ای سی ٹی کی اسامیاں بھی تقسیم کردی جائیں، انھوںنے اس بات پر اتفاق کیاکہ ارلی چائلڈ ہڈ اساتذہ کی تقرریوں کے عمل میں غیرمعمولی تاخیرکی وجہ ان کی اسامیوں میں پرائمری اورسیکنڈری کے مابین تقسیم ہی ہے۔

ادھر’’ایکسپریس‘‘ نے گلبرگ ٹاؤن کے اکثر امیدواروں کوآفرلیٹرجاری نہ کیے جانے کے حوالے سے جب ڈی ای او(ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسر) سیکنڈری ارشد بیگ سے اس معاملے پر دریافت کیاتوان کاکہناتھاکہ ہم نے پہلی ڈی آرسی میں آنے والے امیدواروں کوآفرلیٹردے دیے تھے جونہیں آئے ان کی جگہ دوسروں کیلیے اشتہارجاری کیا اب دوبارہ ڈی آرسی ہوگئی ہے۔ آئندہ ہفتے ان کے بھی آفرلیٹرجاری کردیں گے۔

اسامیوں کی تقسیم کے حوالے سے ارشدبیگ کاکہناتھاکہ دونوں کیلیے اسامیاں ہیں زیادہ ای سی پرائمری اسکولوں میں کچھ کیمپس اسکولوں میں قائم پرائمری اسکولوں میں ہیں لیکن کیمپس اسکولوں کاانتظام سیکنڈری کے پاس ہے فارمولے کے تحت 70فیصد ای سی اسامیاں پرائمری جبکہ 30 فیصد سیکنڈری کودی جانی ہے فنانس میں پرپوزل جاچکاہے اب امیدہے کہ جلد یہ مسئلہ حل ہو اور تقرریوں کاعمل مکمل ہوسکے.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *