تھانہ رضویہ کے ہیڈکانسٹیبل چوہدری اشفاق کا آٹھویں کلاس کے طالب پر تشدد

کراچی : کراچی میں پولیس گردی کا ایک اور واقعہ سامنے آ گیا ، شہر قائد میں پولیس گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔تھانہ رضویہ کا ہیڈ کانسٹیبل شہریوں پر تشدد کرنے لگا ۔

شہر قائد میں پولیس گردی کا شکار بننے والا ایک معصوم بچہ نکلا ، جسے تھانہ رضویہ میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل چودھری اشفاق نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ وردی و اختیارات کا نا جائز فائدہ اٹھاتے ہوئے چودھری اشفاق نے رضویہ کے رہائشی نا بالغ بچے طارق ولد مرحوم نیاز پر بربریت کی انتہاء کر دی ۔

زرائع کے مطابق ہیڈ کانسٹیبل چودھری اشفاق نے رضویہ کے علاقے میں خوف و دہشت کی فضا قائم رکھی ہے ۔ بچے کے بیان کے مطابق میں دُودھ لے کر گھر جا رہا تھا تو شراب کے نشے میں دھت ہیڈ کانسٹیبل نے لاٹھیوں سے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ جب مجھے موبائل میں بٹھا نے کی کوشش کی گئی رونا شروع کر دیا۔ تو ہیڈ کانسٹیبل نے لاتوں اور تھپڑوں کی بارش کر دی ۔

مذید پڑھیں :عمران بلوچ امتیاز اسپورٹس کے نئے سرپرست اعلیٰ منتخب

تھانہ رضویہ کے ہیڈ کانسٹیبل کا آٹھویں کلاس کے معصوم بچے پر پولیس کے خلاف جو منفی سوچ بیدار ہوئی ہے وہ اس کے زمہ داروں نے محکمہ پولیس کے فرض شناس افسران کی وردی پر دھبہ لگا دیا ہے۔ چودھری اشفاق کے بے رحمانہ تشدد کے خلاف تھانہ رضویہ میں باقاعدہ درخواست بھی جمع کروا دی گئی ہے مگر ہیڈ کانسٹیبل کے خلاف کسی قسم کاروائی کرنے سے معذور دکھائی دیتے ہیں ۔

واضع رہے چند دن قبل بھی تھانہ لیاقت آباد کے بدنام زمانہ ایس ایچ او رضوان پٹیل کی وڈیو سامنے آئی تھی جس نے بزرگ تاجر کو سر عام تشدد کیا اور انتہائی غلیظ زبان کا استعمال کیا تھا۔ اس کے گذشتہ دنوں کیمرہ مین پر بھی گلشن اقبال پولیس نے تشدد کیا تھا ۔

علاقہ مکینوں کہنا تھا کے کاغذی امتحانات پاس کرنے والوں کو اخلاقیات کا بھی سبق دیا جائے۔ بچے کے اہل خانہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں آئی جی سندھ۔ اے آئی جی کراچی۔ ڈی آئی جی ویسٹ۔ ایس ایس پی سینٹرل۔ سینٹرل سے درخواست ہے کہ شہریوں پر عادی مجرموں جیسا سلوک کرنے پر نوٹس لیں۔ اور تھانہ رضویہ کے ہیڈ کآنسٹیبل چودھری اشفاق کے خلاف محکمانہ کاروائی کی جائے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *