اللہ اپنا گھر خود تعمیر کرے گا

تحریر : یعقوب الرحمن

ہمارے والدہ کا انتقال آج سے 21سال قبل ہوا جب ہم چھوٹے تھے۔ ہمارے سات ماموں ہیں ،تین فوت ہیں چار حیات ہیں۔ہم ریگولر اپنے ماموں کے گھر جاتے ہیں۔ غمی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔ صلہ رحمی پالتے ہیں۔رشتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ ہمارے سارے ماموں زاد بھائیوں کی طرح ہیں۔

اس گاؤں کا نام کارزینہ (نیا نام جان آباد) ہے۔ 7 گھر ایک ساتھ موجود ہیں.پورا محلہ مسجد سے محروم ہے حال یہ ہے کہ ایک عالم اور دو حافظ قرآن بھی اس محلے میں رہائش پذیر ہیں۔

آج جب ہم گئے نماز کا وقت ہوا۔ ہم مسجد جانے کے عادی ہیں۔ ہم نے کہا مسجد چلتے ہیں جواب ملا دور ہے ۔ فیصلہ کیا کہ کیوں نہ یہاں مسجد کی تعمیر ہو جائے۔

ہم نے مردوں اور زندہ تمام افراد کے صدقہ جاریہ کے طور پر مسجدبنانے کی بات کی ،تحرک Motivation دی۔ مشورے سے ایک کنال زمین ہدیہ کی گئی ۔ بلاتاخیر فوری منتخب سائیٹ پر پہنچے۔چٹائی بچھائی گئی نماز با جماعت پڑھی گئی۔ اللہ کا نام لیا۔

والد صاحب کے ہاتھوں سنگ بنیاد رکھی ،دعا کی گئی۔ بڑے بھائی مولانا عبدالرحمن بھی موجود تھے۔ لوگوں مزید رغبت دلائی اور باقاعدہ میٹنگ کی، کمیٹی بنائی، چیرمین مقرر کیا اور ممبران ساتھ لئے۔ الحمدللہ میٹنگ کے دوران 2لاکھ 36 ہزار 500 روپے جمع کی گئی۔جس سے سامان خرید کر فوری کام کا آغاز ہوگا ان شاء اللہ۔

یہ مسجد صحابی رسول ہلال “مسجد ہلال بن امیہ رض” کے نام سے موسوم کی گئی۔ حاضرین سے کہا عزم کرےاس رقم سے شروع کرے ،اللہ اپنا گھر خود بنائے گا، ہم نے کہا آپ نے ہمت کی ،آپ کے علاوہ کوئی اللہ کا بندہ یہ پوسٹ پڑھے گا تو سریا، سیمنٹ وغیرہ کچھ نہ کچھ مدد کرے گا اور یہ مسجد شاندار تعمیر ہوگی ان شاءاللہ ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *