روزے و اعتکاف مکمل اور عیدالفطر صحیح وقت پر ہوئی : مفتی تقی عثمانی

مفتی تقی عثمانی

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے جمعہ کے خطاب میں کہا ہے کہ ’’ چاند کی پیدائش کا مطلب یہ ہے کہ چاند سورج کے نیچھے چپ جائے یعنی متضمن ہو جائے، اب جب آہستہ آہستہ چاند سورج کے شعاعوں سے نکلنے لگتا ہے تو دکھنے کے سلسلے میں خود ماہرین فلکیات کا اختلاف ہے۔ کوئی کہتا ہے سولہ گھنٹے بعد رؤیت ممکن ہے کوئی کہتا ہے اٹھارہ، کوئی چوبیس، کوئی تیس ۔

اس مرتبہ چاند 11 بج کر 59 منٹس پر پیدا ہوا، جو اگلے دن شام تک تقریبا 19 گھنٹے کا ہو چکا تھا ۔ جو بسا اوقات دیکھنے کیلئے کافی ہوتے ہیں، البتہ بعض دوسرے عوامل بھی ہوتے ہیں کہ وہ افق کے اوپر کتنا اونچا ہے کتنا نیچا ہے، مطلع ابر آلود ہے یا نہیں ہے، اس لیے چاند جتنا افق پر نیچے ہو اور اس کے دکھنے کا دورانیہ بھی ، 35. 38، منٹس کا ہو تو پھر افق پر اس کی رؤیت کا احتمال ذرا کم ہوتا ہے لیکن پھر بھی ناممکن نہیں ہوتا امکان پھر بھی رہتا ہے، اس لیے شریعت نے اعتبار حساب کا نہیں کیا بلکہ اعتبار آنکھوں سے دیکھنے کا کیا ہے، اگر حساب کچھ بھی کہہ رہا ہو لیکن آنکھوں سے دیکھ لیا تو اس کے اوپر شرعی احکام مرتب ہوں گے ۔

اب اس دفعہ چاند کی رؤیت مشکل ضرور تھی لیکن ناممکن نہیں تھی ۔ اب ایسی صورت میں جب دیکھنے کا احتمال کم ہو لیکن امکان ہو تو پھر اگر زیادہ لوگ دیکھ لیں تو معتبر سمجھی جائے گی۔ ویسے تو عام حالات میں اگر مطلع صاف ہو تو دو گواہوں کی گواہی بھی معتبر ہے۔ اگر مطلع ابر آلود ہو تو پھر جم غفیر یعنی تیس چالیس افراد کا ہونا ضروری ہے۔

مذید پڑھیں :کراچی: ایئرپورٹ پر محکمہ صحت سندھ کی غفلت، شہر میں کورونا پھیلنے کا خدشہ

اس دفعہ بھی جم غفیر نے گواہی دی، میرے سے خود کے پی کے ایک کے ایک بہت بڑے عالم کی بات ہوئی انہوں نے بتایا کہ میرے سامنے بارہ لوگوں نے گواہی دی جن میں خود خود بعض بڑے علماء، فقہاء تھے، انہوں کہا کہ ہم قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے چاند کو دیکھا ہے ۔ تو جب شہادتیں موصول ہوئی ، جانچ پڑتال ہوا، پھر اس کے بعد کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائی جائے۔

ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ جس کو اللہ تعالی نے فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے یا جس کو صلاحیت دی ہے کہ جب وہ کہے کہ میرے سامنے اتنے لوگوں یعنی جم غفیر نے گواہی دی ہے تو پھر ہماری ذمہ داری ختم۔ اب ہم اس کے اعلان کے پابند ہیں۔ اب خوب سمجھ لو ! اگر قاضی یعنی رؤیت ہلال کمیٹی یہ اعلان کر دے کہ چاند نظر آگیا تو یہ ہمارے لیے حجت ہے۔ اور اس کے بارے میں بلا وجہ شک و شبہ پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

دوسرا یہ کہ اگر کوئی یہ اعلان کرے کہ چاند نظر نہیں آیا، تو یہ کوئی فیصلہ نہیں ہوتا یعنی چاند نظر نہ آنا کوئی فیصلہ نہیں ہوتا کیونکہ ہوسکتا ہے بعد میں کوئی آجائے اور کہے کہ میں نے چاند دیکھا ہے ۔ تو پہلے زمانوں (بظاہر مفتی منیب الرحمن صاحب کا زمانہ مراد ہے) میں اس کا خیال ذرا کم رکھا جاتا تھا، رات کو تراویح سے پہلے اگر چاند کی شہادت نہ آتی تو کہہ دیتے کہ چاند نظر نہیں آیا لہذا عید فلاں دن کو ہو گی بعد میں اگر کوئی شہادتیں آئے وہ قبول نہیں کرتے تھے ۔

مذید پڑھیں :ایک سگریٹ ہُوا کرتی تھی پرنسٹن

اس مرتبہ ایسا ہوا کہ شہادتیں لینے میں کچھ تاخیر ہوئی، پشاور کے علماء نے اعلان کیا کہ ہمارے پاس جم غفیر نے گواہی دی۔ اور اس کے کچھ قرائن بھی ملے، چمن میں بھی ایک دوست سے بات ہوئی انہوں نے بھی فرمایا کہ وہاں بھی لوگوں نے چاند دیکھا وہاں کے علماء نے جانچ پڑتال کے بعد اس کو معتبر سمجھا اسی وجہ سے (مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کو) اعلان کرنے میں کچھ تاخیر ہوئی۔ اور یہ تاخیر کوئی قابل ملامت نہیں ہے، اگر تمام شہادتوں کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس میں کچھ دیر لگ رہی ہے تو یہ کوئی قابل ملامت بات نہیں ہے اور نہ یہ کوئی ایسی بات ہے کہ اعلان پر ہی شک کیا جائے ۔

لہذا بلکل کوئی شک شبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ الحمد للہ عیدالفطر بھی صحیح وقت پر ہوئی ہے، روزے بھی صحیح ہیں ، اعتکاف بھی صحیح ہیں، جو بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ روزے کی قضاء کی جائے تو روزے کی قضاء کسی کے ذمے شرعا واجب نہیں ہے ۔ یہ وضاحت اسی لیے کر دی کہ بعض لوگ سوال کررہے ہیں کہ روزے کی قضاء کرے یا نہ کرے ۔ اللہ تعالی ہمیں انتشار سے محفوظ فرمائے ۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *