مولوی کے ساتھ ہو کیا رہا ہے

تحریر : رعایت اللہ فاروقی

کچھ وہ ہیں جو بلیک میل ہو رہے ہیں۔ اور کچھ وہ ہیں جو کوڑیوں کے مول بک رہے ہیں۔ غامدی صاحب پر بھاری سرمایہ کاری کرکے ملک کے تقریبا ہر اہم ٹی وی چینل سے بیس سال تک "نئے اسلام” کی ایجاد کی کوششیں کی گئیں جو بری طرح فیل ہوگئیں۔ حضرت غامدی کی سحر لسانی سوائے دین بیزار لوگوں کے کسی کو بھی ان کا "مقلد” نہ بنا سکی ۔

دو تین مولوی زادے وہاں گئے ضرور مگر کسی مفاد کے لئے گئے تھے۔ مفاد پورا نہ ہوا تو ان میں سے بعض پچھلے دروازے سے کب کے کھسک بھی چکے۔ نیا اسلام ایجاد نہ ہوسکنے پر ڈونر سخت غصے میں ہے۔ یہ غصہ اب نزلہ بنا کر پرانے اسلام پر ہی گرایا جا رہا ہے۔ سو نئی حکمت عملی یہ ہے کہ چونکہ نیا اسلام کوئی قبول کرنے کو تیار نہیں لھذا پرانے اسلام کے تعلیمی اداروں کو برباد کیا جائے تاکہ یہ بھی نہ رہے۔ یعنی جو حال معیشت ٹھیک کرنے کے نام پر ملک کا کیا ہے وہی اب مدارس کا کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے وہ دھونس، دھمکی، اور بلیک میلنگ سمیت ہر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ مولوی کا یہ خیال ہے کہ جاسوسی کا نظام وہی موٹرسائیکل پر تعاقب والا ہے نظام ہے۔ اسے نہیں پتہ کہ اس کے فون سنے جا رہے ہیں۔ اس کے بیڈروم کو لائیو دیکھا جا رہا ہے ۔ اور اس کی زیر زمین زگزیگ بناتی منی ٹریل نظروں میں ہے۔ اس کمبخت کو تویہ بھی نہیں پتہ کہ رائے عامہ پر اثرانداز ہونے والا ہر شخص سرویلنس کٹیگری میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس نے ابھی کچھ غلط کیا بھی نہیں ہوتا کہ اس کی تحقیق شروع ہوجاتی ہے۔ کھنگالا جاتا ہے کہ بچپن، لڑکپن، جوانی کیسے گزری ؟ دوستوں میں اکثریت بددیانت لوگوں کی ہے یا دیانتدار لوگوں کی ؟ کیونکہ انسان اپنے دوستوں سے پہچانا جاتا ہے ۔ جس کے دوست کرپٹ ہوں اس کی بددیانتی معلوم نہیں تو تلاش کرو کیونکہ ہے یہ بھی بددیانت ہی۔ یوں ساتویں زمین میں چھپائی گئی حرامزدگی بھی اگلے برآمد کر لیتے ہیں۔ آپ مریدوں اور معتقدین کے سامنے کتنے ہی پاک دامن کیوں نہ ہوں۔ سرویلنس کے سامنے نہیں رہتے۔ آپ میں سے کسی کو انہوں نے بدنی ننگے پن میں دیکھ رکھا ہے تو کسی کو کردار کے ننگے پن میں۔ یوں اب آپ کے پاس ڈگڈگی پر ناچنے کے سوا کوئی آپشن ہے ؟

مذید پڑھیں :عید کے موقع پر علماء کرام اور خطباء و ائمہ حضرات متوجہ ہوں

آپ سوچتے ہوں گے کہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ ہے آپشن۔ آپ لوگوں نظر انداز کرکے خود کو خدا کے سامنے صاف کرنے کا عزم کرلیں۔ اور پریس کانفرنس کرکے اپنی غلطیوں اور بددیانتیوں کا اعتراف کرلیں۔ اور یہ دین کی خدمت والی لائن چھوڑ دیں۔ آپ اللہ کی نظر میں بھی سرخرو ہو جائیں گے، اور عوام میں جو صاحب الرائے ہوں گے وہ اسے آپ کے لئے ہدایت کا لمحہ سمجھ کر قبول کرلیں گے۔ جبکہ سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کو باقی زندگی کسی کے اشاروں پر ناچ کر دین اور اس کے اداروں کے خلاف استعمال نہیں ہونا پڑے گا۔

ایک حضرت اپنی حیات میں لینڈ مافیا بنے رہے۔ آج اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اب ان کی اولاد کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہیں لگا تھا کہ بس ڈی سی اور کمشنر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ سو مذہبی اثر رسوخ استعمال کرتے جاؤ اور قبضے جماتے جاؤ۔ نہیں بھئی ! یہ ڈی سی ویسی کراچی والوں کو توپ چیز نظر آتے ہیں۔ اصل توپیں تو وہ ہیں جو نظروں سے مخفی ہیں مگر تقریبا حاضر ناظر ہیں۔ ملکی نظام کا ایک نہ نظر آنے والا سسٹم بھی تو ہے۔ وہ چپ چاپ آپ کو ساری حرام خوریاں کرنے دیتا ہے۔ اور جب آپ گردن تک دھنس جاتے ہیں پھر اس کے اہلکار حرکت میں آتے ہیں اور آپ کا سارا "مقدس تکبر” آپ کے پچھواڑے سے نکالتے ہوئے آپ کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ آپ کہتے ہیں

"خدا کا خوف کیجئے”

وہ کہتے ہیں ۔ ۔

"تم نے خود کبھی کیا ہے؟”

آپ کی نظریں جھک جاتی ہیں کیونکہ اس نے تو آپ کو ننگا دیکھ رکھا ہے۔ وہ تو یہ بھی جانتا ہے کہ مدرسے کی آڈٹ رپورٹ میں تین کروڑ روپے مدرسے کے جریدے کے نام قرض کیوں شو کئے گئے ہیں ؟جو جریدہ چھپتا ہی دو چار سو ہے۔ جس کا کل سٹاف ہی تین افراد ہیں۔ اسے تین کروڑ کا قرض ؟وہ بھی مدرسے کے فنڈز سے ؟ صرف یہی نہیں وہ تو یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ نے سائل بن کر درخواست لکھی کہ بندہ کو اتنے لاکھ روپے قرض حسنہ چاہئے کیونکہ احقر کو آمد و رفت کی مشکل دور کرنی ہے اور احقر بہت غریب ہے۔ یہ درخواست آپ نے ذاتی حیثیت میں خود اپنی مہتمم والی حیثیت کو دی۔ اور بطور مہتمم درخواست منظور کرکے مدرسے کے فنڈ سے قرض حسنہ وصول فرما لیا۔ میرے حضرت ! وہ جانتے ہیں کہ آپ کے پچھواڑے تلے جو شاندار گاڑی ہے وہ آپ نے اسی قرض حسنہ سے خریدی ہے۔

مذید پڑھیں :چاند سے متعلق مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی کی حیثیت قاضی کی ہے، مفتی عدنان کاکاخیل

آپ کا نصاب سارے کا سارا اس دور کی کتب پر مشتمل ہےجب بجلی ابھی ایجاد نہ ہوئی تھی۔ جب بجلی نہ تھی تو مشین بھی نہ تھی۔ نتیجہ یہ کہ آپ اس نصاب کے مطابق صرف اتنا جانتے ہیں کہ

"اللہ ہی سب جانتا ہے، اور اللہ توبہ کرتے ہی معاف کردیتا ہے”

مگر آپ وہ نہیں جانتے جو مشینی دور میں لکھی کتاب بتاتی ہے۔ مشینی دور کی یہ کتاب کہتی ہے، اللہ سب جانتا ہے سے نیچے کی بھی ایک کٹیگری ہے۔ اور وہ کٹیگری ہے

"ادارے بہت کچھ جانتے ہیں اور وہ معاف بالکل نہیں کرتے”

اور یہیں سے آپ مار کھا گئے۔ سب کچھ جاننے والا اللہ توبہ کے دو بول پر راضی ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ بہت کچھ جاننے والے کمبخت پھر کسی کی ایک نہیں سنتے۔ وہ آپ سے صاف کہدیتے ہیں

"تم اپنے لئے حرامی پنے کر رہے تھے تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔ اب ہم قومی مفاد میں حرامی پنے کرانا چاہتے ہیں تو تمہیں خدا یاد آرہا ہے ؟”

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *