زبردستی عید پڑھواتے ہوئے امام بھاگ نکلا

تحریر : ضیا چترالی 

جنوری 1967 بدھ 29 رمضان کی بات ہے جب پاکستان میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا قیام عمل میں نہیں آیا تھا ۔ اُن دنوں عوام میں یہ بات بھی مشہور تھی کہ جمعہ کی عید حکمرانوں پر بڑی بھاری ہوتی ہے ۔ رمضان المبارک اپنی برکتیں لٹا رہا تھا کہ 29 رمضان بدھ کا دن آ گیا پورے ملک میں لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی مگر کسی کو کامیابی نہ ملی اور لوگ نمازِ تراویح پڑھنے میں مصروف ہو گئے ۔

کچھ ہی دیر کے بعد حکومت کی طرف سے اگلے دن یعنی جمعرات کو عید کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ بات جب اکابر علماء تک پہنچی تو انہوں نے 29 رمضان کو چاند نظر آئے بغیر زبردستی کی عید کرنے سے انکار کر دیا اور لوگوں کو جمعرات کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ جن لوگوں تک علمائے کرام کا پیغام پہنچا انہوں نے روزہ رکھا ۔

ایک جگہ بڑی دلچسپ صورت حال بنی، حکومتی لوگ نمازِ عید کے لیے عید گاہ پہنچنے لگے مگر اب اِن لوگوں کو عید پڑھانے والا کوئی اِمام نہ ملے وہ جس بھی عالم ِ دین سے رابطہ کریں وہ جواب دے کہ میں تو روزے سے ہوں۔ بہر کیف حکومتی نمائندوں نے ایک مولانا کو ڈرا دھمکا کر امامت کے مصلے پر کھڑا کر دیا ۔

اُن مولانا نے پہلی رکعت میں معمول سے زیادہ قیام کیا اور پہلا سجدہ بھی معمول سے لمبا کیا پھر جب دوسرا سجدہ بھی معمول سے لمبا ہوتا چلا گیا تو ایک بے چین نمازی نے سر اٹھا کر امام صاحب کے مصلے کی طرف دیکھا تووہ فوراً اُٹھ کھڑا ہوا اور بلند آواز سے بولا کہ نمازیو! اُٹھو تمہاری نماز ختم ہو گئی ۔

مذید پڑھیں :رویت کے حوالے سے مفتی منیب الرحمن کے اجلاس کی حقیقت کیا ہے ؟

نمازی اُس کی آواز پر اُٹھے تو دیکھا کہ مولانا مصلے پر موجود نہیں تھے اور مصلے کے پہلو میں اُن کے جوتوں کا جوڑا پڑا ہوا تھا۔ لوگوں نے اِدھر اُدھر نگاہ دوڑائی تو مولانا دور ننگے پاوں بھاگے جا رہے تھے۔

( کتاب : رویت ہلال مسئلہ اور حل ، تالیف: خالد اعجاز مفتی ، صفحہ 11، ایڈیشن 2006 )

اِس بار پھر پاکستان میں 29 رمضان بدھ کو تھا اور دنیا بھر کے فلکیاتی اداروں کے مطابق پاکستان بھر میں بلکہ پورے خطے میں دور بینوں سے بھی چاند نظر آنا ممکن نہیں تھا۔ پھر بھی عید کا اعلان فرما دیا گیا۔ کہیں یہ بھی سرکاری توہم پرستی کا شاخسانہ تو نہیں ؟ ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *