رویت کے حوالے سے مفتی منیب الرحمن کے اجلاس کی حقیقت کیا ہے ؟

کراچی :  ( رپورٹ / شاکراحمد خان ) مفتی منیب الرحمن کے حوالے سے روزے و اعتکاف کی قضا کے حوالے سے جاری ’’ پیغام ‘‘ کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ مفتی منیب الرحمن اس حوالے سے تاحال خاموش ہیں ۔

پشاور مسجد قاسم علی خان سے مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے 26 شہادتیں مسجد قاسم علی خان سے اور دیگر اضلاع سے 189 شہادتیں موصول ہونے کا دعوی کرنے کے بعد رویتِ چاند کا اعلان کیا تھا ۔ جس کے بعد مزکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین صاحبزدہ مفتی عبدالخبیر آزاد نے شہادتوں کا کہہ کر رات 11 بج کر 7 منٹ پر عید منانے کا اعلان کیا ہے ۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے بعد ملک بھر میں افراتفری سی مچ گئی ۔ عوام الناس کی اکثریت کی تیاریاں جمعہ کو عید منانے کے حوالے سے تھیں ۔ رات 11 بجے اعلان کے بعد ملک بھر میں شکوک و شبہات اور افواہیں گردش کرنے لگیں ۔ جس میں اکثریت کی نگاہیں مفتی منیب الرحمن کی جانب تھیں ، خصوصا ملک بھر میں اہلسنت و جماعت بریلوی مکتب فکر کی عوام نے مفتی منیب الرحمن اور دیگر متعلقہ مفتیان کرام سے رجوع کرنا شروع کیا ۔

اہلسنت و جماعت بریلوی مکتب فکر کی رویت

جس طرح دیوبندی مکتب فکر کے عالم دین مفتی شہاب الدین پوپلزئی مسجد قاسم علی خان میں سرکاری رویت ہلال کمیٹی کے ہوتے ہوئے شہادتیں وصول کرتے اور رویت کا اعلان کرتے ہیں ۔ اسی طرح کراچی میں امسال اہلسنت و جماعت کے علمائے کرام نے بھی میمن مسجد بولٹن مارکیٹ کی چھت پر رویت کے لئے اجلاس منعقد کیا ۔

اس اجلاس میں مفتی محمد عابد مبارک المدنی  ، علامہ رضوان نقشبندی ، مفتی رفیع الرحمن نورانی ، مفتی الیاس رضوی اشرفی ، مفتی وسیم اختر المدنی ، ابو جعفر سید پیر مظفر شاہ قادری ، سید محمد مبشر اللہ رکھا قادری اجلاس میں شامل تھے ۔ جب کہ دیگر مقامات پر صاحبزادہ محمد ریحان نعمان امجدی ، مفتی ابوبکر صدیق الشازلی ، مفتی اسماعیل ضیائی ، مفتی محمد ندیم اقبال سعیدی ، مفتی نذیر جان نعیمی شامل تھے ۔

مذید پڑھیں :مفتی منیب، مولانا عبدالخبیر آزاد اور پروپیگنڈا

مذکوہ علمائے کرام نے 9 بج کر 20 منٹ پر اجلاس ختم کیا اور اعلان کیا کہ انہیں کوئی شرعی شہادت موصول نہیں ہوئی ہے ۔ جس پر اجلاس ختم کیا جاتا ہے ۔ مذکورہ علمائے کرام نے بھی جس وقت یہ پیغام جاری کیا ، اس وقت مزکزی رویت ہلال کمیٹی کی جانب سے رویت کا اعلان بھی نہیں کیا گیا تھا ۔جس کی وجہ سے اس بیان میں حکومتی رویت ہلال کے اعلان کی نفی کی گئی ہے نہ توثیق کی گئی ہے ۔

مفتی منیب الرحمن کی رائے کیا ہے ؟ 

اس دروان مفتی منیب الرحمن کے حوالے سے افواہیں گردش کرنے لگیں کہ انہوں نے کہا ہے کہ ’’ قوم عید منائے ، مگر اس کے بعد روزے کی قضا کر لے ۔ تاہم مفتی منیب الرحمن کے انتہائی قریبی ذرائع کا کہنا ہے مفی منیب الرحمن نے اس حوالے سے کوئی بھی اجلاس نہیں کیا ہے ۔ جامعہ امجدیہ میں اجلاس کے حوالے سے جعلی پیغام گردش کر رہا ہے ۔ جب کہ جامعہ امجدیہ کے مہتمم صاحبزادہ ریحان نعمان امجدی بھی اس کا انکار کر چکے ہیں ۔

ادھر جمعیت علمائے پاکستان نورانی گروپ کے رہنما علامہ عقیل انجم قادری کا صاحبزادہ اعتکاف میں تھا ، جس کی وجہ سے انہوں نے حکومتی اعلان کے بعد مفتی منیب الرحمن سے موقف جاننے کے لئے رابطہ کیا ۔ جس پر مفتی منیب الرحمن نے اتنا کہا کہ مجھے تو یہ سب دیکھ کر رونا آ رہا ہے ۔ تاہم انہوں نے حکومتی اعلان کی مزید مخالف یا تائید کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی ۔

ادھر کراچی اہلسنت و جماعت کے علمائے کرام نے مفتی منیب الرحمن سے ان کا موقف جاننے کے لئے رجوع کیا ، تاہم مفتی منیب الرحمن نے اس حوالے سے کوئی بھی بات نہیں کی ہے ۔ مفتی منیب الرحمن کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ روزے اور اعتکاف کی قضا کے حوالے سے جاری بیان مفتی منیب الرحمن کا نہیں ہے ۔

اہلسنت و جماعت میں جاندار موقف اور وسیع حلقہ رکھنے والے مفتی سید مظفر حسین شاہ قادری کی جانب سے ایک وٹس ایپ وائس نوٹ جاری کیا گیا ہے ۔ جس میں انہوں نے گوادر اور سبی کے علمائے کرام کی رویت کی بنیاد پر کہا ہے کہ ’’ میں سید مظفیر حیسن شاہ قادری عوام اہلسنت سے مخاطب ہوں اور میرے ساتھ علامہ مولانا الیاس رضوی ، علامہ ریحان امجد نعمانی ، ڈاکٹر رضوان نقشندی بھی موجود ہیں ، ان کی متفقہ رائے سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ کل تمام لوگ عید منائیں‘‘ ۔ اس سے زیادہ انہوں نے گفتگو نہیں کی ہے کیوں کہ ان کی بھی مفتی منیب الرحمن بوجوہ ملاقات نہیں ہو سکی ہے ۔

مذکورہ چہ می گوئیوں اور افواہوں کے بعد مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن کے حوالے سے خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ کل اس پر بذریعہ ٹویٹ ، کالم یا بیان جاری کریں گے ۔

 مفتی سید مظفر حیسن شاہ کا وائس نوٹ 

واضح رہے کہ اہلسنت و جماعت سمیت دیگر متعدد طبقات میں مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر شدید تحفظات بدستور موجود ہیں ۔ جس کی وجہ سے  مختلف دینی جماعتوں نے عید نہ منانے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *