مفتی منیب، مولانا عبدالخبیر آزاد اور پروپیگنڈا

پہلے جب مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین تھے تو مفتی منیب کے دور میں جب بھی پشاور، ملاکنڈ، قبائلی علاقہ جات میں "چاند” کا مسئلہ پیدا کیا جاتا تھا تو بعض لوگ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ چونکہ مفتی منیب "بریلوی” ہیں اس لیے دیوبندیوں کی گواہی قبول نہیں کرتے ۔

بعض لوگ پروپیگنڈا کرتے تھے کہ مفتی منیب صاحب تعصب میں "صوبہ خیبر پختونخوا” کی گواہی قبول نہیں کرتے (حالانکہ مفتی منیب کا اپنا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے ) ۔ جب خیبر پختونخوا میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت تھی، وہاں کی صوبائی حکومت نے مفتی منیب کے خلاف "مسلک کارڈ” کھیلا ۔

جب خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت تھی، ایک لبرل سیکیولر پارٹی کے غلام احمد بلور صرف ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کے لیے کھل کر پوپلزئی کی پشت پناہی اور ایک ریاستی ادارے کی عملداری سے بغاوت کرتے رہے، مفتی منیب کی کردار کشی کرتے رہے ۔ پی ٹی آئی نے بھی چاند کے مسئلے کو ہر ممکن حد تک خراب کرنے کی کوشش کی، فواد چوہدری جیسے غلیظ جاہل کی حرکتیں دنیا کے سامنے ہے ۔

سلیم صافی صاحب (ہر سال مفتی منیب کے خلاف کالم لکھتے) کے سالانہ نشرمکرر کالموں میں یہی بات ہوتی کہ مفتی منیب کی ذات کی وجہ سے مسئلہ ہوتا ہے، اس لیے مفتی منیب کو تبدیل کر دیا جائے ) ۔ سلیم صافی صاحب اور ان کے ہمنواؤ کا موقف تھا کہ اگر مفتی منیب کو منصب سے ہٹادیا جائے تو چاند کا مسئلہ حل ہو جائے گا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن صاحب کہتے تھے کہ چاند کا مسئلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پشاور اور قبائلی علاقہ جات میں "رٹ آف اسٹیٹ” یعنی مرکزی رویت ہلال کمیٹی جیسے ریاستی ادارے کی عملداری چیلنج ہوتی ہے اور ریاست کوئی ایکشن نہیں لیتی

مفتی منیب کا موقف تھا کہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز ٹی آر پی یعنی ریٹنگ کے لیے، سنسنی خیزی پھیلانے کے لیے غیر مصدقہ گواہیوں کو، نجی و غیر قانونی کمیٹیوں کو بہت زیادہ کوریج دیتی ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں کنفیوژن پھیلتی ہے ۔

بہرحال۔۔۔۔ پچھلے سال پرانی رویت ہلال کمیٹی توڑ دی گئی اور مفتی منیب صاحب بھی فارغ کر دیئے گئے ۔

اب مفتی منیب صاحب منصب سے ہٹ چکے تو سلیم صافی اور ہمنواؤ کی لاجک کے مطابق مسئلہ ختم ہوجانا چاہیئے، کیوں کہ ان کی لاجک کے مطابق مسئلہ کی بنیادی وجہ مفتی منیب کی ذات تھی۔۔۔!!!

لیکن آج 12 مئی 2021 بروز بدھ کو ہم اہلیان پاکستان کا 29 واں روزہ تھا اور میڈیا رپورٹس (جیو نیوز) کے مطابق خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں بشمول وزیرستان میں آج عید منائی جارہی ہے ۔

رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ صاحب نے بھی آج عید منائی اور بیان دیا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ روزے پشتون رکھے اور چاند کا اعلان پنجاب کرے۔۔۔ سبحان اللہ (کاش سلیم صافی محسن داوڑ کے اس بیان کے بعد بھی مفتی منیب کی ذات کو چاند کے مسئلے کی وجہ قرار دیں گے؟؟)

((( کاش کہ سلیم صافی کو معافی کی توفیق ملے، کاش سلیم صافی کا ظرف اتنا بڑا ہوجائے کہ وہ کردار کشی کرنے پر مفتی منیب سے معافی مانگے)))

آج 29 ویں روزے کو وزیرستان میں عید ہوگئی، فواد چوہدری صاحب نے لب کشائی نہیں کی، کم از کم محسن داوڑ کو ہی جواب دے دیا جائے

ایک اچھی بات کی حوصلہ افزائی :

پہلے (مفتی منیب کے زمانے میں) تو یہ ہوتا تھا کہ جونہی کہیں سے شہادت کی خبر آتی (سچی یا جھوٹی) شہادت کی تصدیق سے پہلے ہی میڈیا پر ٹکر چلنا شروع ہو جاتے، ڈبے گھومنا شروع ہوجاتے کہ فلاں علاقے سے اتنی شہادتیں موصول، اتنی موصول۔۔۔۔ اور پھر جب یہ شہادتیں غلط ثابت ہوتی اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی چاند نظر نہ آنے کا اعلان کرتی تو پوپلزئی اور بعض حلقے ایسا تاثر دیتے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی جان بوجھ کر "چاند” کو چھپا رہی ہے ۔

اس طرح کی بریکنگ نیوز کے بعد سے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا کام اور ریاست کی عملداری متاثر ہوتی ۔ اب حکومت نے ایک اچھا کام یہ کیا ہے ( اگرچہ یہ مفتی منیب کا دیرینہ مطالبہ تھا جو ان کے جانے کے بعد پورا ہوا، پہلے حکومت مفتی منیب کی ٹسل میں یہ بات ماننے سے انکاری تھی ) ۔ اب پیمرا نے پابندی لگائی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان سے پہلے ٹی وی چینلز پر ٹکر چلادو۔۔۔ ڈبے گھمادو۔۔۔ والا کھیل نہیں چلے گا ۔

اب صرف ٹی وی پر چاند کے اعلان کے وقت صرف مرکزی رویت ہلال کمیٹی کو کوریج دی جائے گی، جبکہ پہلے پوپلزئی ہر چینل پر لائیو دکھایا جاتا تھا ۔ یہ اچھی بات ہے، ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ بعض ذرائع خبر دے رہے ہیں کہ وزیرستان میں چاند کا اعلان کرنے والے علماء گرفتار کر لیے گئے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *