مجلسِ وحدت مسلمین کا کابل تعلیمی مرکز اور مسجد اقصٰی میں اسرائیلی جارحیت کیخلاف مظاہرہ

کراچی : افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تعلیمی مرکز پر حملہ کر کے  معصوم طلباء کو نشانہ بنائے جانے اور مسجد اقصٰی فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مجلسِ وحدت مسلمین نے نمائش چورنگی میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جس میں مظاہرین نے امریکہ، اسرائیل اور دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویزن کے سیکرٹری جنرل علامہ صادق جعفری نے کہا عالمی دہشت گرد تنظیم داعش نے رمضان کے مقدس ایام میں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیل کر یہ ثابت کیا کہ ان کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔

مذہب کے نام پر دنیا بھر میں خون کا بازار گرم کرنے اور اسلام کے روشن تشخص کو بدنما ظاہر کرنے والے دراصل یہود و نصارٰی کے ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس روح فرسا واقعہ پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ نام نہاد مہذب ممالک کے اس تعصب اور دوہرے معیار کو منافقانہ طرز عمل کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ۔

مذید پڑھیں :عید کی نماز گھر میں پڑھنا

انہوں نے کہا دنیا بھر کے مسلمان عید منانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور فلسطینی مسلمانوں کے گھروں میں بچوں اور نوجوانوں کی لاشیں پڑی ہوئی ہیں مسلمان حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو انتہائی اقدامات سے باز رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔

مظاہرے سے خطاب میں علامہ مبشر حسن کا نے کہا کہ افغانستان میں شیعہ ہزارہ پر حملہ ان طاقتوں کی وحشیانہ کاروائی ہے جو  افغانستان اور پاکستان میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغان حکومت نے دہشت گردی  کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے تو ان شر پسند عناصر کو ایک بار پھر سر اٹھانے کا موقع مل جائے گا۔

عسکریت  پسندوں کی کمین گاہوں کے تدارک کے لیے بھرپور آپریشن کیا جانا چاہئیے۔ خطے کا امن امریکہ کے ان لے پالک شدت پسند گروہوں کے خاتمے سے مشروط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے عفریت پر قابو نہ پایا گیا یا تو  ایک سنگین انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے ۔

مذید پڑھیں :مفتی منیب الرحمن 7:15 پر نماز عید پڑھائیں گے

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کو دہشت گردی سے نبرد آزما ہونے کے لیے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہونگے۔امریکہ اور اس کے حواریوں نے افغانستان پر ایک طولانی جنگ مسلط کر کے کے اس کی جڑوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔افغانستان کا معاشی اور اقتصادی ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔

افغان ریاست کو اپنے وجود کی بقا کے  لیے دہشت گردوں کو پوری طاقت سے کچلنا ہوگا۔احتجاجی مظاہرے میں ناصر الحسینی، ثاقب رضا ثاقب سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *