حکومت مدارس کی طاقت ختم کرنے میں کیسے کامیاب ہوئی ؟

ایک سال قبل وزارت تعلیم نے اہل مدرسہ سے بات کی نصاب کی تبدیلی اور وزارت تعلیم کے تحت تمام مدارس کو لانے کی ۔ لیکن دیوبند مکتبہ فکر کے چند لوگوں نے اتفاق کیا اور دیگر نے رد کر دیا تھا ۔ اس کے پیچھے بھی ایک چالاکی چھپی تھی ۔

رد کرنے والے طبقہ کے مقابلے میں بریلوی مکتبہ فکر لوگوں نے مکمل اتفاق کیا لیکن چونکہ حکومت چاہتی تھی کہ سب کو شامل کریں لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔

ایک سال کی محنت اور پلاننگ کے بعد وہ نتیجہ تو حکومت نہ نکال سکی ، جو نکالنا چاہتی تھی لیکن جن لوگوں نے اتفاق کیا ، ان کو الگ الگ بورڈز بنانے کی تجویز پیش کر دی ۔

جس پر جامعة الرشید اور بنوریہ کو ملا کر مجمع العلوم الاسلامیہ بورڈ بنا دیا گیا ۔ کیونکہ ایک سال ان دو مدرسوں کے احباب نے حکومتی تجویز رد نہیں کی تھی ۔

مذید پڑھیں : دعوت اسلامی کیلئے بھی کنزالمدارس بورڈ بنا دیا گیا

دوسری جانب نظام المدارس منہاج القرآن کو بورڈ بنا دیا اور ان کی یونیورسٹی کو آٹھ مضامین کی ڈگری پی ایچ ڈی ایشو کرنے کی اجازت مل گئی اور تیسرے نمبر پر وفاق المدارس الاسلامیة الرضویہ بنا دیا اور اب تین دن پہلے کنز المدارس دعوت اسلامی کو بنا دیا ۔

مزید پانچ بورڈز حکومت بنائے گی اور مولانا لوگوں کے مدارس کے اتحاد کی وہ قوت ختم کر دے گی کہ جس کی بنیاد پر یہ لوگ اپنا ہر مطالبہ پورا کروا لیتے ہیں ۔ لیکن علماء خوش ہونگے کہ ہمیں قوت ملی ہے کہ ہم اپنا بورڈ رکھتے ہیں ۔ حکومت علماء کی رائے سے اسلامائیزیشن کو ماڈرنائز کرنا چاہتی تھی لیکن انہوں نے اتفاق نہیں کیا ۔

لیکن اب وہ اپنی تدبیر کے زریعے بات وہاں تک لے جائیں گے ، جہاں تک لے جانا چاہتے ہیں ۔ اس کے مثبت نتائج جزو وقتی اور منفی نتائج دیر پا نظر آتے ہیں اب انتظار کریں ۔ ملتان میں کون سا بورڈ بنتا ہے اور کراچی میں کون سا ، جب کہ لاہور میں دو بورڈز اور بنیں گے اور ایک اختیاری ہو گا دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *