دیار خلافت کا سفر شوق ( 35ویں قسط)

تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

سوگت شہر :

ہم ڈیڑھ بجے بیلجیک شہر میں شیخ ادہ بالی کے مزار پر حاضری اور نماز ظہر سے فارغ ہوکر بسوں پر سوار سوئے سوگت روانہ ہوئے۔ سوگت بیلجیک صوبہ میں ہی واقع ہے، تاہم بیلجیک شہر کے قریب ایک قصباتی شہر ہے۔ چھوٹا سا مگر پروقار اور روایتی و تہذیبی نفاستوں سے آراستہ شہر۔ ہم جلد ہی یہاں وارد ہوئے۔ ہماری یہاں آمد خلافتِ عثمانیہ کے بنیاد گزار غازی عثمان خان کے والد اولو العزم ترک سردار ارطغرل غازی کے آثار و مزار کا وزٹ تھا۔ بسیں فراٹے بھرتے مناظر کو پیچھے دھکیلتی آگے بڑھ رہی تھیں اور میں کھڑکی کی طرف سر ٹکائے علامہ کے اس شعر کی معنی آفرینی کے سحر میں کھویا بلکہ اس کی تصویر بنا ہوا تھا ۔

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

ذہن و دل کی لوح پر ایک جھماکا سا ہوا اور میں تیزی سے ان حالات اور اس زمانے میں جا اترا جب اولو العزم قائی ترک قبیلے کے افراد ارطغرل غازی کی سرکردگی میں اس دور دراز پہاڑی خطے میں آن وارد ہوئے تھے ۔

مذید پڑھیں :نام نہاد مذہبی اسکالر عامر لیاقت کی 25 سالہ رنگین زندگی کی جھلک

کچھ ہی دیر میں ہم سوگت میں داخل ہوئے۔ ارطغرل غازی کا مزار شان و شوکت کی تصویر بنا ہمارے سامنے ایستادہ تھا۔ ہم نے اطمینان سے مزار کا وزٹ کیا، اس بہادر ترک سردار کی عظمت کو سلام عقیدت پیش کیا اور ایصال ثواب کیلئے فاتحہ پڑھی۔۔۔ مزار کے در و دیوار بہت کچھ زبان حال سے ہمیں بتا اور سمجھا رہے تھے ۔

منجملہ یہ کہ ترک قوم نہ صرف بہادر، پر عزم، جفاکش، جنگجو اور منظم ہے بلکہ اپنے ماضی اور بزرگوں سے بھی حد درجہ عقیدت و احترام کا رشتہ رکھتی ہے، ان کے آثار و تراث کو اس طرح اہتمام کے ساتھ سنبھال کر رکھتی ہے کہ دیکھ کر اور ان کی وفاداری کو محسوس کرکے رشک آتا ہے۔۔۔ ارطغرل غازی کو گزرے چھ صدیاں بیت چکی ہیں، کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ہمارے یہاں ایسے قدیم آثار اس قدر محفوظ اور مامون ہوں گے؟ ہرگز نہیں، ہمارے آثار و تراث کی ابتر صورتحال بھی ہماری قوم کی زوال پذیر اخلاقی صورتحال کی طرح ہی ہے۔ اور یہی ہماری ابتری اور ترکوں کی بلندی اور عظمت میں واحد اور واضح ما بہ الامتیاز ہے۔۔۔۔ کہ وہ اپنے ماضی سے بھاگتے ہیں نہ اس سے نفور کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ اس کو سینے سے لگا کر اس سے اپنے حال اور مستقبل کی تعمیر کیلئے سبق کشید کرتے ہیں۔

ہمارا حال یہ ہے کہ آج ہم محمد بن قاسم پر راجہ داہر اور احمد شاہ ابدالی پر رنجیت سنگھ کو فوقیت دیتے ہیں اور دھڑلے سے اپنے قومی و ملی ہیروؤں سلطان محمود غزنوی، شہاب الدین محمد غوری، اورنگزیب عالمگیر کو لٹیرے کہنے سے بھی نہیں چوکتے۔۔۔ یہ اس لئے ہوا کہ ہم نے اپنے ماضی کو اہمیت نہیں دی، جس سے دشمن کو پروپیگنڈے کے زور پر ہماری قوم کو اپنی مرضی کی راہوں پر بھٹکانے کا خوب موقع ملا، جس کا نتیجہ ہم رفتہ رفتہ اپنے بزرگوں کی تاریخ سے اجنبیت کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔۔۔
جاری ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *