حکومتِ سندھ NCOC فیصلوں کے برعکس ہوٹل بند کرا رہی ہے : FPCCI اعلامیہ

کراچی : میاں ناصر حیات مگوں، صدر ایف پی سی سی آئی نے حکومت سندھ کی جانب سے حال ہی میں ریسٹورانٹس سے ٹیک اوے پر پابندیاں عائد کرنے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

میاں ناصر حیات مگوں نے کہا ہے کہ سندھ گورنمنٹ نے کچھ ایس او پیز جاری کیے ہیں جو این سی او سی کی ہدایت کے مطابق بھی نہیں ہیں۔ وہ ایک این سی او سی نوٹیفکیشن کا حوالہ دے رہے تھے جہاں اس نے ملک بھر میں ریسٹورانٹس کے لئے 24/7 ٹیک اوے خدمات کی اجازت دی ہے۔ لیکن صوبائی حکومت نے اسے 07 مئی 2021 ء سے روزانہ شام 07 بجے تک محدود کر دیا ہے ۔

میاں ناصر حیات مگوں نے حکومت سندھ سے پوچھا ہے کہ کیا وہ خود کو این سی او سی سے اوپر اور بالاں سمجھتی ہے! معاملات کو مزید خراب کرنے کے لئے، صوبائی حکومت پولیس کی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہوم ڈیلیوری بھی روک رہی ہے، جس کی اس نے خود اجازت دی ہے ۔

مذید پڑھیں :کورنگی میں غیر قانونی پانی کی فروخت عروج پر پہنچ گئی

پولیس ریستورانوں کو ٹیک اوے بھی بند کرنے پر مجبور کررہی ہے۔ایف پی سی سی آئی یہ جان کر حیران ہے کہ ملٹی نیشنل فاسٹ فوڈ چینز کو اپنی ڈرائیوتھرو جاری رکھنے کی اجازت ہے۔ جب کہ پولیس کے ذریعہ مقامی برانڈز اور ریسٹورانٹس کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

بار بار رابطہ کرنے کے باوجود ، صوبائی وزرا کوئی اقدام نہیں کررہے ہیں۔ایف پی سی سی آئی کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ فوری طور پر اس غیر قانونی نوٹیفکیشن کو واپس لیں اور این سی او سی کی اجازت سے بقیہ پاکستان میں ہونے والی 24/7 ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری کی اجازت دیں ۔

ایف پی سی سی آئی کا موقف ہے کہ وہ کاروباری، صنعتی، اور تجارتی برادریوں کے مسائل حل کرنے میں صوبائی حکومت کے ساتھ تبادلہ خیال اور تعاون کے لئے ہر وقت تیار ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *