الاقصی : سر فروش خون کا نذرانہ دیکر سرخرو ہو گئے

تحریر : علی ہلال

جمعہ کی رات سے بیت المقدس میں اسرائیلی فورسز اور فلسطینی باشندوں کے درمیان شروع ہونے والی خونریز جھڑپیں ختم ہو گئیں ۔ سر ہتھیلی پر رکھ کر قبلہ اول میں ستاسویں شب کی تراویح اور عبادت کی ادائیگی کا شوق لیکر جانے والے 90 ہزار سرفروشوں نے مسجد اقصی کو نمازیوں سے خالی رکھنے کا اسرائیلی منصوبہ خاک میں ملا دیا ۔

اسرائیلی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی افراد کی تعداد 300 کے قریب ہو گئی ہے ۔ ستاسویں شب کے اختتام پر جھڑپیں تھم کر حالات معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔

ستاسویں کو مسجد اقصی میں تراویح فلسطینی مسلمانوں کی تاریخی روایت رہی ہے۔ آزاد فلسطین ہو یا اڑتالیس ۔ دونوں سائیڈز کے باشندے مسجد اقصی سے بے حد محبت اور لازوال عشق رکھتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری اور مانسہرہ پولیس

یہ لوگ ماہ رمضان میں بسیں بھر بھر کر اقصی پہنچتے ہیں ۔یہ ایک مہم ہے ۔ایک مشن ہے ۔ حرمین جانے سے بھی زیادہ اہم۔۔ اقصی سے وابستگی کو سعادت کی انتہاء اور فخر کا ذریعہ سمجھاجاتاہے۔ زیتون اور زعتر کی روٹیاں لیکر اقصی کے وسیع صحن میں بیٹھ کر افطار کرتے ہیں ۔ بیت المقدس شہر کے قدیم حصوں میں فرش پر فیملیوں کی رونق لگی رہتی ہے۔

سال 2019 میں ستاسویں شب کو الاقصی میں چار لاکھ کے قریب فرزندان توحید نے عبادت کی تھی۔ گزشتہ سال کورونا کے باعث یہ تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ۔

اس سال اسرائیل نے شروع رمضان کے آغاز سے ہی مسجد اقصی کو خالی رکھنے کا پلان کیا ۔ یہودی انتہا پسند تنظیم "لہافا” کو اس سلسلے میں ذمہ داری دی گئی تھی جس نے نفیر عام کیلیے ہزاروں انتہا پسندوں کو جمع کیا تھا تا کہ مسجد اقصی کے گرد اجتماعی افطاری کے مقامات پر قبضہ کر کے قبلہ اول کو محصور کر سکے۔

مذید پڑھیں :محکمہ تعلیم کالج کے اسسٹنٹ پروفیسر کا ڈائریکٹر کی تقرری کرانے کا دعوی

جدید اسلحہ سے لیس اسرائیلی فورسز کی سیکورٹی میں لہافا کے کا کارکنوں کے ساتھ فلسطینیوں کی جھڑپ 13 اپریل کو باب العامود پر ہوگئی جو طول پکڑ کر پورے رمضان تک دراز ہو گئی ۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس مرتبہ مقابلہ سخت تھا ۔ مگر فلسطینی سرفروشوں نے ناممکن کو ممکن بنادیا ۔ اس کشیدگی میں فتح وکامرانی فلسطینیوں کے حصے میں آگئی ہے ۔ ان کے عقیدے مضبوط ،ایمان پختہ اور عزم جوان ہیں ۔

فلسطینیوں کے لیے الاقصی ایک عقیدہ ہے ۔ موت اور زندگی کے درمیان حد فاصل ۔ یہی وجہ ہے کہ لبرل سے لبرل تر فلسطینی مرد وعورت کو بھی آپ کبھی الاقصی پر سمجھوتا کرتے نہیں پاو گے ۔ یہ لوگ چٹان سے بھی زیادہ مضبوط ہیں ۔ یہ پہاڑوں اور پربتوں سے بھی زیادہ ثابت قدم اور صامد ہیں ۔ان کا عزم اور حوصلہ ہمالیہ سے بلند ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *