مَجمع العلُوم الاسلامیہ کے نام سے نیا مدرسہ بورڈ قائم ، کراچی کے 2 بڑے مدارس نے عملاً وفاق المدارس سے راہیں جدا کر لیں

کراچی : حکومت کی دینی مدارس کیخلاف ایک اور سازش کامیاب ہو گئی  ۔ وفاقی وزارتِ تعلیم اسلام آباد نے ایک نئے تعلیمی بورڈ ”مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان “ کی منظوری دی ہے ۔ نئے بورڈ کے قیام کے ساتھ ہی وفاق المدارس سے جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ کی راہیں جد ہو گئیں ۔

حکومت کی سرپرستی میں قائم ہونے والا نیا بورڈ ’’ مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان ‘‘ وفاق المدارس العربیہ کے برعکس مدارس میں ایک ایسا نظام لانے کا خواہاں ہے ، جو قدیم و جدید علوم کا امتزاج رکھتا ہو گا ۔ اس بورڈ کے تحت وفاق کے بجائے اپنا نصاب تعلیم شروع کیا جائے گا ۔ جس کو مختلف اسلامی جامعات کے نظام سے اخذ کیا گیا ہے ۔ اس بورڈ کے تحت مدارس میں جدید فقہ کو بھی شامل کیا جائے گا ۔

مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان کا اصل نظام تعلیم جامعۃ الرشید کے نصاب و نظام جیسا ہی ہو گا ۔ واضح رہے کہ جامعۃ الرشید کا نظام جدید و معروضی حالات سے کسی حد تک مطابقت رکھتا ہے جس میں درس نظامی کے ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جاتی ہے ۔

مذید پڑھیں :حکومت نے دینی مدارس کیلئے 5 نئے وفاق کیوں بنائے ؟

ادھر جامعہ الرشید کے نصاب و نظام تعلیم کے حوالے سے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اگرچہ جامعہ الرشید 20 برس سے زائد عرصہ سے جدید علوم و فنون سیکھا رہا ہے ۔ مگر صحافت ، بینکنگ ، عصری علوم و سائنس کے مضامین میں اس قدر بھی ترقی نہیں کی ہے جس کو قابل تقلید قرار دیا جائے ۔ جامعہ الرشید کے برعکس دیگر چھوٹے مدارس کے طلبہ اس وقت پاکستان کے صفِ اول کے صحافتی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس کے علاوہ چھوٹے مدارس کے طلبہ جامعہ کراچی سمیت ملک بھر کی دیگر جامعات میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔

اس کے برعکس جامعہ الرشید 20 برس سے صحافت کورسز کرانے کے باوجود کسی بھی بڑے صحافتی گروپ میں اہنا کوئی ایک صحافی بھی تیار کرنے میں یکسر ناکام ہے ۔ بینکنگ ، صحافت اور عصری تعلیمی اداروں میں دیگر چھوٹے مدارس کے طلبہ جامعہ الرشید کے طلبہ کی نسبت زیادہ فعال ہیں ۔

واضح رہے کہ حکومتی سرپرستی میں بنائے جانے والے بورڈ میں وفاق المدارس کے درسِ نظامی کے روایتی نصاب کے علاوہ مذید اضافی مضامین بھی نصاب میں شامل کئے جائیں گے ۔

مذید پڑھیں :وفاق المدارس نے 4 لاکھ 3 ہزار 42 طلبہ کے نتائج کا اعلان کر دیا

واضح رہے کہ جامعۃ الرشید کراچی اور جامعہ بنوریہ العالمیہ کراچی اپنی تمام شاخوں سمیت اس بورڈ سے الحاق کر چکے ہیں ۔ آئندہ چند ماہ میں دونوں اداروں کی برانچز اور ان کے فضلا کے قایم کردہ مدارس و مکاتب کو بھی الحاق کرایا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے مذکورہ بورڈ کی اجازت دیتے ہوئے جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ العالمیہ کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ جلد از جلد وفاق المدارس سے مذید مدارس کو توڑ کر ’’ مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان ‘‘ سے الحاق کرائیں گے ۔

جس کی وجہ سے جامعہ الریشد اور جامعہ بنوریہ العالمیہ نے اپنے قریبی حلقوں کو ترغیب دینے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے ۔ ترغیب کے مطابق بورڈ سے الحاق کا فائدہ یہ بھی ہو گا کہ بورڈ ان ملحقہ مدارس و مکاتب کو تعلیمی اُمور ، انتظامی امور ، مالی امور ، ہیومین ریسورس ڈیپارٹمنٹ یعنی تقرریاں اور تبادلے اور قانونی مسائل میں بھر پور رہنمائی سمیت دیگر معاونت بھی فراہم کرے گا ۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ کی دھابیجی سے کراچی آنے والی 72 انچ قطر کی لائن پھٹ گئی

ذرائع کے مطابق وفاق المدارس سے ملحق بڑے تعلیمی اداروں اور بڑی دینی شخصیات کی جانب سے جامعہ الرشید اور جامعہ بنوریہ العالمیہ کے علمائے کرام سے بات چیت کی گئی تھی کہ وفاق المدارس کے مساوی کسی اور بورڈ کی جانب مت جائیں ۔ تاہم انہوں نے وفاق المدارس کی بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے جامعۃ الرشید اور جامعہ بنوریہ العالمیہ کی درخواست پر قائم کردہ ’’ مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان “ کا صدر جامعۃ الرشید کے مہتمم مفتی عبدالرحیم کو بنایا گیا ہے ۔ جامعہ بنوریہ العالمیہ کے مہتمم مولانا نعمان نعیم کو نائب صدر اور مولانا فرحان نعیم کو ناظم تعلیمات اور ناظم مالیات مولانا احسان وقار کو بنایا گیا ہے ۔

جامعۃ الرشید کے ہی استاد مفتی ابو لبابہ شاہ منصور کو سینیئر نائب صدر ، اور جامعۃ الرشید کے مفتی محمد زرین عرف مفتی محمد کو ناظمِ اعلی اور مولانا غلام قاسم کو ناظم امتحانات بنایا گیا ہے جبکہ مولانا الطاف الرحمن کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں کہ وہ مدارس و مکاتب کا الحاق کریں گے ۔

Comments: 1

Your email address will not be published. Required fields are marked with *