بوٹ بیسن SHO ایک واردات میں سہولت کار دوسری میں 2 کلو سونے کے مالک بن گئے

کراچی : (رپورٹ : عظمت خان ) کلفٹن میں گزشتہ ایک ماہ میں دو بڑی وارداتیں ہوئی ہیں ، جن میں ایک واردات میں ریلوے کا افسر 25 لاکھ بھتہ مانگتے رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا جس کے سہولت کار ایس ایچ او بوٹ بیسن انسپکٹر پیر شبیر نکلے اور دوسری واردات میں زرگر (سونار) کے 10 کلو سونے میں سے 2 کلو پانی میں بہانے کا کہہ ہر ہڑپ کر گئے ۔

5 مئی کو تھانہ بوٹ بیسن کی حدور میں واقع تین تلوار گلف شاپنگ سینٹر میں جیولری کی دکان میں مبینہ طور پر چوری واردات ہوئی ۔ دکان سے 10 کلو کے سونے کی چوری کا دعوی کیا گیا تھا ۔ مدعی نے لوٹے گئے سونے کی قیمت مبینہ طور پر 10 کروڑ روپے بتائی ۔

واقعے کا مقدمہ کلفٹن تھانے میں محمد آصف کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا ۔ مدعی کے مطابق دوکان پر تیار شدہ اور بکس میں رکھے زیورات فروخت کرتے ہیں ۔ 3 مئی کو افطار سے قبل اپنی دکان بند کر کے گھر چلا گیا تھا ۔ 4 مئی کو جب دوکان پہنچا تو چار تالے ٹوٹے ہوئے تھے ۔ دکان میں موجود 10 کلو کے قریب طلائی زیورات چوری ہو گئے تھے ۔

پولیس کی جانب سے کیس کی تفتیش کرتے ہوئے دکان و مالک آصف اور اس کے ساتھی وسیم کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ دوران انٹوگیشن معلوم ہوا کہ مدعی مقدمہ آصف نے اپنے ساتھی وسیم کے ساتھ مل کر خود دکان سے سونا غائب کرایا تھا تاکہ وہ اس کی انشورنس لے سکیں ۔ تاہم ایس ایچ او پیر شبیر حیدر اور ایڈیشنل ایس ایچ او حاجی لیاقت اور ایس آئی او ارشد جنجوعہ اور تفتیشی افسر بشارت نے مدعی سے 10 کلو سونا ، لاکھوں روپے مالیت کی چاندی اور دیگر طلائی زیورات ریکور کئے ۔

مذید پڑھیں : واٹر بورڈ : راشد صدیقی کیخلاف NAB تحقیقات شروع

ذرائع کا کہنا ہے کہ مدعی نے تھانے کے ریکارڈ میں بتایا کہ اس سے 10 کلو سونا اور 2 کلو چاندی ریکور کی گئی ہے ۔ جس کے بعد ایس ایچ او پیر شبیر اور ایڈیشنل ایس ایچ او حاجی لیاقت نے تھانے میں کیس پراپرٹی میں 8 کلو سونا بتایا ہے ۔ جب کہ دو کلو سونے کو دو کلو چاندی سمجھ کر پانی میں پھینک دی دیا ہے ۔

پیر شبیر اور حاجی لیاقت کی مبینہ دو کلو سونے کی واردات کے حوالے سے ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر عمران مرزا ، چیف سیٹزن پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی ) زبیر حبیب نے تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔

معلوم رہے کلفٹن میں ایک ماہ میں ہونے والی یہ دوسری واردات ہے جس میں پیر شبیر اور حاجی لیاقت کا کردارہ انتہائی مشکوک ہوتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ اس سے قبل 22 اپریل کو کلفٹن بنگلہ نمبر D-67 میں ایک بزنس مین نے 15 پر اطلاع دی کہ ایک بھتہ خور کو پکڑا ہے ۔ جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور بھتہ خور کو بوٹ بیسن تھانے لے جایا گیا ۔

مذید پڑھیں : کراچی : EOBI کا مردہ قرار دیئے جانے والے افسر کیخلاف انکوائری کا حکم

جہاں پر مدعی محمد آصف نے پولیس کا بتایا کہ بھتہ خور نے ہماری کمپنی کے مالک سے 50 لاکھ روپے مانگے ، جس کے بعد اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرایا ہے ۔ جس کے قبضے سے جو کارڈ ملے ہیں ان کے مطابق یہ رہلوے کا افسر ہے ۔ محمد حنیف آزاد نامی اس ملزم کی جیب سے برآمد ہونے والے کارڈ کے مطابق وہ پاکستان ریلوے میں گریڈ 15 کا گارڈ ہے ۔ ان کی تاریخ پیدائش 24 جولائی 1967 جب کہ اس کی ادارے میں نوکری 19 اگست 1986 درج ہے ۔

جیب سے برآمد ہونے والے دیگر کاغذات کے مطابق حنیف آزاد نے ’’ پیس ایمبیسڈر ویلفیئر آرگنائزیشن ‘‘ (سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ سندھ) کا کارڈ بحیثیت وائس پریذیڈنٹ کا بنا رکھا تھا ۔ اس کی جیب سے چرس بھی برآمد ہوئی ۔ تاہم اس کے باوجود بھی ایس ایچ او پیر شبیر اور ایڈیشنل ایس ایچ او حاجی لیاقت نے اس ملزم کے خلاف صرف 420 کی دفعہ لگا کر مقدمہ نمبر 344/2021 درج کیا ۔

پاکستان ریلوے کا افسر محمد حنیف آزاد بھتہ لینے کے لئے بزنس مین کے ساتھ بیٹھا ہے

جس کے بعد ملزم نے اتنی آسان دفعہ لگنے کی وجہ سے اگلے ہی روز عدالت میں ضمانت کی درخواست دے دی تھی ۔ جس کے بعد مدعی نے ایس ایچ او اور ایس آئی او حاجی لیاقت کے دہرے معیار اور ملزم سے دوستی کی شکایت اعلی افسران کو کی ۔ جس کے بعد ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر عمران مرزا جن کی شہرت ایماندار افسر کی ہے انہوں نے کیس کو خود دیکھنا شروع کیا ہے اور انہوں نے تھانے کو لیٹر لکھ کر ایس ایچ او سے اس کیس کی 20 قسم کی دستاویزات طلب کی ہیں ۔

مذید پڑھیں : عمران گجر، جاوید سکندر اور ارسلان چندا کی قتل ،اغوا برائے تاوان کی وارداتوں کا انکشاف

تاہم ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈاکٹر عمران مرزا کی مداخلت کے بعد کیس میں ریلوے کا افسر اور بھتہ خور ملزم محمد حنیف آزاد ولد محمد دین کو سزا ملنے اور قانون پر عمل درآمد ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے ۔

محکمہ ریلوے کے افسر کی جیب سے نکلنے والے سروس اور جعلی آرگنائزیشن کے کارڈ کا عکس

ذرایع کا کہنا ہے کہ اس ایچ او بوٹ بیسن پیر شبیر حیدر نے اپنی سروس کا اکثر حصہ صدر تھانے میں گزارا ہے ۔ جہاں پر جناح اسپتال کی مشکوک سرگرمیوں پردہ ڈالنے کے لئے انہوں نے جناح اسپتال کی ڈاکٹر سیمیں جمالی کا ہمہشہ ساتھ دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے پیر شبیر کی پوسٹنگ اور ٹرانفسر بھی ڈاکٹر سیمیں جمالی کی مرہون منت بتایا جاتا ہے ۔

بھتہ خور افسر کی ویڈیو کیلئے لنک https://youtu.be/8f5UE-1mRXg پر کلک کریں :

ادھر سندھ پولیس کے ایماندار افسران اور اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پیر شبیر حیدر اور حاجی لیاقت کے نوکری میں آنے سے پہلے اور ابھی کے اثاثے چیک کئے جائیں اور ان کی اہلیہ ، بچوں اور بھائیوں اور سالے کے نام پر پراپرٹی چیک کی جائے جس سے ہوشربا انکشافات سامنے آئیں گے کیوں کہ انہون نے ہمہشہ منفعت بخش تھانے میں پوسٹنگ لی ہے ۔

نوٹ : ذیل کے لنک پر کلک کر کے کیس کی مکمل فائل دیکھی جا سکتی ہے ۔

8f978f46-70eb-4ba5-bee6-bee9e334dd5a-converted

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *