صحافیوں کو نوٹسز بھجوانا بدترین سنسر شپ ہے ، چیف جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد: چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے بارے میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے ہمیشہ یکطرفہ کارروائی کرتی رہی ہے، کبھی نہیں دیکھا کہ ایف آئی اے کسی حکومتی شخصیت کے خلاف کیس بنا کر لائی ہو۔

جسٹس اطہر من اللہ نے یہ ریمارکس اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایف آئی اے کے اختیارات سے تجاوز کرنے سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

درخواست میں ایف آئی اے کے سائبر کرائم ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت صحافیوں کو نوٹس بھیجنے کے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: صحافی اور پھر اسکی بہن کو قتل کرنا دہشت گردی ہے : فیڈرل کونسل آف کالمسٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ ’اگر کسی پر تنقید کرنے کے خلاف کارروائی شروع کر دی تو پھر بات کہیں نہیں رکے گی، صحافیوں کو تنقید کرنے پر ایف آئی کی جانب سے نوٹسز بھیجنا بد ترین سنسر شپ ہے۔ اگر آپ نوٹسز جاری کرنے لگ جائیں گے تو ملک میں کوئی نہیں بولے گا۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’اس عدالت کے بارے میں بہت توہین آمیز باتیں کی گئیں لیکن ایف آئی اے نے کبھی کارروائی نہیں کی، میری تصویر سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ لگا کر پتہ نہیں کیا کیا لکھا گیا لیکن ایف آئی اے حرکت میں نہیں آئی۔‘

عدالت نے ایف آئی اے کا سائبر کرائم ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت کارروائی کرنے سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا آئین کے آرٹیکلز 14، 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی نہیں ہے؟

مزید پڑھیں: دیپ اور جنگ یونین کا صحافیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے مُشترکہ جدوجہد پر اتفاق

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایسے تو اپوزیشن لیڈر وزیر اعظم کے خلاف درخواست دے دیں تو کیا ایف آئی اے وزیر اعظم کو نوٹس بھیجے گا؟

عدالت نے سینئر وکیل حامد خان، عابد حسن منٹو اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو کیس میں معاون مقرر کر دیا ہے۔
عدالت نے کیس میں معاونین اور ایف آئی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *