منگھوپیر کے پہاڑ اور الہ دین کا چراغ

تحریر: نوراسلام

رپورٹر کراچی: الہ دین اور اسکے چراغ پر 300سالوں سے لکھا جارہا ہے 17ویں صدی میں انتونی گالانڈ نامی فرانسیسی شخص نے مشرق وسطی میں الہ دین اور اسکے چراغ پر کہانی لکھی۔ 300سال سے اس بات پر متعدد تحقیق کیئے گئے لیکن تاحال ثابت نہ ہوسکا کہ الہ دین اور چراغ جس کو رگڑنے پر چراغ سے (جن) نکل کر کہتا تھا (بول میرے آقا تجھے کیا چاہیئے) افسانوی کہانی ہے یا پھر حقیقی داستان۔

خیر فرانسیسی شخص (انتونی گالانڈ) کی لکھی گئ کہانی الہ دین کا چراغ پرانی ہوئی اور اس پر تحقیق بھی بہت ہوئے تحقیق سے اگرچہ تاحال کسی نتیجے تک نہیں پہنچا جاسکا ہے پھر بھی تحقیق کرنے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا کیوں کہ ( انتونی گالانڈ) جو تحریر کے خالق تھے اس دنیا میں نہیں جس سے کہانی افسانوی یا حقیقی کے متعلق پوچھا جاسکے۔

لہذا اب تحقیق کرنے والوں سے گذارش ہے کہ وہ منگھوپیر کے پہاڑ یا الہ دین کا چراغ پر تحقیق شروع کریں شاید کوئی نتیجہ نکل آئے۔ منگھوپیر برطانوی دور حکومت میں سیاحتی مقام کا درجہ رکھتا تھا اور 18ویں صدی کے آخری دہائی 1890کے قریب برطانوی موجودہ ہندوستان اور موجودہ بنگلہ دیش کے چند سیاح منگھوپیر میں سیرو تفریح کے غرض سے آئے اور کیوں نہ آتے منگھوپیر کے ایک تالاب میں مگر مچھ تھے تو دوسری طرف قدرتی گرم چشمے

مزید پڑھیں: کینجھر جھیل پر قبضے کیخلاف ماہی گیروں کا احتجاجی دھرنا

ایک طرف کھجوروں کے باغات تو پہاڑوں کا طویل سلسلہ خیر سیرو تفریح کرنے والوں میں ڈاکٹرز بھی تھے جنہوں نے قدرتی گرم چشموں کے ارد گرد کوڑ (جذام) کے مریضوں کو بیماری کی حالت میں دیکھا اور جذام کے مریضوں سے گرم چشموں کے قریب موجودگی کی وجہ پوچھی تو مریضوں نے بتایا کہ کوڑ (جذام) کے مرض میں مبتلا ہیں گھروں اور معاشرے سے دھتکارے ہوئے ہیں۔ ھم سب قدرتی گرم چشموں کو شفاء کے لیئے آخری امید سمجھتے ہوئے نہاتے ہیں کیوں کہ ھم سب کے مرض کا علاج کوئی ڈاکٹر نہیں کرسکا ہے۔

تفریح کے لیئے آنے والے ڈاکٹروں نے مریضوں کے تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے گرم چشموں کے قریب ایک ڈسپینسری قائم کی اور مریضوں کا علاج شروع کیا منگھوپیر میں 18ویں صدی کے آخر 1896میں باقاعدہ طور پر (بیون) نامی برطانوی ڈاکٹر کے نام سے منسوب ڈسپینسری قائم کی گئی اور مریضوں کا علاج شروع ہوا یوں برطانوی شہریوں سمیت مختلف ممالک کے ڈاکٹروں اور مخیر حضرات نے منگھوپیر کا رخ کرنا شروع کیا اور رفتہ رفتہ (بیون) ڈسپینسری اسپتال میں بدلتا گیا اور مزید وارڈز تعمیر کیئے گئے اور یہ سلسلہ 1934تک جاری رہا۔

کھارادر میٹھادر اور صدر کے علاقوں میں مقیم میمن برادری نے بھی منگھوپیر کی خوبصورتی کو مدنظر رکھتے ہوئے گرم چشموں کے قریب گیسٹ ہاؤس تعمیر کیئے جو آج بھی خستہ حالت میں موجود ہیں۔جہاں میمن برادری سے تعلق رکھنے والے افراد قیام کرتے تھے ساتھ ہی سرسبز کھجوروں کے باغات قدرتی گرم چشموں اور پہاڑوں کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہوتے تھے۔

مزید پڑھیں: سرجانی ٹاؤن: غیر قانونی تعمیرات کا نہ رکنے والاسلسلہ تاحال جاری

1920میں کلکٹر کراچی (مارٹن)نے منگھوپیر کا دورہ کیا گرم چشموں کو محفوظ بنانے کے لیئے چشموں کو پختہ کیا اس وقت کے کلکٹر کراچی (مارٹن) کے نام کی تختی اب بھی گرم چشموں میں موجود ہیں۔ منگھوپیر کے پہاڑ اور الہ دین کا چراغ سے بات شروع ہوئی تھی لہذا ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھا۔

اب بات کرتے ہیں منگھوپیر کے پہاڑوں پر جنہیں رگڑ رگڑ کر (جن) نکالے جارہے ہیں اور (جن) نکل کر کہتا ہے بول میرے آقا کیا چاہیئے اور جواب ملتا ہے (رہائشی پروجیکٹ) اور فوراً ایک پروجیکٹ سامنے۔ چند پروجیکٹ کا نام لکھتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے جسکی تفصیل پھر صحیح لیکن چند مشہور رہائشی منصوبوں جو منگھوپیر میں موجود ہیں کا ذکر کرتا چلوں : نیا ناظم آباد ، صائمہ عربین ولاز ، نارتھ ٹاؤن ، فاطمہ سوسائٹی ، الجنت سوسائٹی اور اس کے علاوہ چراغ سے نکلے متعدد رہائشی پروجیکٹ جو ابھی پہاڑوں کو رگڑنے سے نکلے ہیں۔

رہائشی منصوبوں پر مجھ سمیت کسی کو اعتراض نہیں بس پہاڑوں کو رگڑنے سے منگھوپیر کی حقیقی خوبصورتی مانند پڑ رہی ہے ساتھ ہی چھوٹے رہائشی پروجیکٹس نے تو کھجوروں کے باغات کو ایسا روندھا ہے جیسے کبھی یہاں باغ تھے ہی نہیں گرم چشمے اپنی اصل حالت میں نہیں زمین کی ایسی قحط کہ مگرمچھوں کے لیئے تالاب چھوٹا منگھوپیر کے پہاڑ رہائشی پروجیکٹس میں تبدیل ہوگئے پولٹری لیز ختم ہوکر رہائشی منصوبے میں تبدیل قدیمی گوٹھ مسمار کردئیے گئے۔ قدرتی حسن کی آخری ہچکیاں ہیں ہر زبان بند ہر قلم خاموش کیوں کہ الہ دین کا چراغ رگڑنے پر (جن)نکل آتا ہے جو سب کو خاموش کردیتا ہے

مزید پڑھیں: کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کیخلاف سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ

غریب کے گھر مسمار ہونے پر غریب کے رونے پر لکھنے اور بولنے والوں کو یا تو خرید لیا جاتا ہے یا پھر بے بنیاد الزامات لگا کر مقدمات میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ الہ دین کے چراغ میں موجود (جن) حکم کے تابع ہے جو کچھ بھی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے (چراغ کے جن) نے با اختیار لوگوں کو جو سفید کو سیاہ کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اپنے اختیار میں لے رکھا ہے۔ چراغ کا(جن) اپنے آقا کے حکم پر با اختیار لوگوں کی دنیاوی ہر خوائش پوری کرتا ہے دولت بنگلہ گاڑی جو مانگا جائے دے دیا جاتا ہے جسکے بدلے انکو آنکھیں اور کان بند رکھنے کا حکم ملتا ہے پھر غریب کی دھاڑیں سنی جاتی ہیں نہ فریاد پر وہ دن دور نہیں جب چراغ کا (جن) بھی موت کا مزہ چکھے گا الہ دین رہے گا نہ ہی چراغ نہ کوئی با اختیار ہوگا کیوں کہ (كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِؕ) اور پھر حساب دینا ہوگا ایک ایک پائی کا حساب۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *