بل گیٹس اور ملیندا

تحریر : انجینئر اقبال ہاشمی

ابھی ہم جیوف بیزوز اور اس کی زوجہ کی طلاق کے صدمے سے باہر نہیں نکل پائے تھے کہ ایک نیا قضیہ کھڑا ہوگیا ہے۔ بل گیٹس نے میلندا کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور پوری دنیا کو بحث کے لئے ایک گرما گرم موضوع ہاتھ آگیا ہے۔ یہاں پر یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ دونوں نے باہمی رضامندی سے راضی خوشی ایک دوسرے کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا یے۔ ہمیں تو شدید مایوسی ہوئی کیونکہ اگر بل گیٹس جیسا لائق فائق اور امیر کبیر شخض اپنی اہلیہ کو خوش رکھنے کے لئے نااہل ہے تو ہمارے جیسے کی کیا اوقات ہے؟

ہم تو سمجھے تھے کہ ہمارے جیسے معمولی آدمیوں کو اگر بیگمات سست’ کام چور’ نکما اور غبی سمجھتی ہیں تو ٹھیک ہی سمجھتی ہیں لیکن بل گیٹس؟ الامان والحفیظ۔ پتہ چلا کہ ورک لائف بیلنس کا مسئلہ بہت پرانا چل رہا تھا اور بلندا بی بی بلو کی حد سے زیادہ مصروفیات سے خوش نہیں تھیں۔ دونوں چھٹکے کے اٹھارہ سال کے ہونے کا انتظار کر رہے تھے ۔ جیسے ہی وہ بے چارہ اٹھارہ کا ہوا ، انہوں نے یہ روح فرسا اعلان داغ دیا۔ بچے سکتے میں ہیں اور حالات سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ معاملہ مشرق اور مغرب میں یکساں ہی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان رشتہ نبھانے کے لئے گوروں میں قوت برداشت کی کمی ہے اور ہمارے یہاں ہمت کی۔ معاملے کی چھان بین پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اتنا سیدھا سادھا معاملہ بھی نہیں ہے بلکہ اس میں برسوں کا سوز اور کہنہ زخم پنہاں ہیں۔

مصحفیؔ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا

بہر حال پینسٹھ سالہ بل گیٹس اور چھپن سالہ میلندا نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ وہ ساتھ مل کر ترقی نہیں کر پا رہے تھے اس لئے انہوں نے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اللہ کی پناہ اور کتنی ترقی کرنا چاہتے ہیں یہ لوگ؟ ۔

مذید پڑھیں :بل گیٹس کی سابقہ اہلیہ ملینڈا نے یومیہ 1 لاکھ 32 ہزار ڈالر کرائے پر جزیرہ لے لیا

2019 میں جب جیوف بیزوز اور میکنزی اسکاٹ کے درمیان طلاق ہوئی تھی تو میکنزی کو اڑتیس ارب ڈالر ملے تھے اور اب یہ خاتون دنیا کی تیسری امیر ترین خاتون ہیں جن کی دولت دو سال میں بڑھ کر چونسٹھ ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ یہ طلاق دنیا کی مہنگی ترین طلاق تھی۔ اب لگتا ہے کہ دنیا کی مہنگی ترین طلاق کا ریکارڈ ٹوٹنے والا ہے کیونکہ ریاست واشنگٹن کے قوانین کے مطابق دونوں کو پچاس پچاس فیصد مل سکتے ہیں اور کورٹ چاہے تو یہ زیادہ اور کم بھی کر سکتی ہے جو بھی مبنی بر حق ہو۔ امریکہ کے قوانین کے مطابق شادی کے بعد بچوں سمیت جو کچھ بھی کمائی ہوتی ہے وہ میاں بیوی کا مشترکہ اثاثہ ہوتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق میلندا گیٹس کو ساٹھ ارب ڈالر سے زائد ملیں گے اور وہ دنیا کی تیسری امیر ترین خاتون بن جائیں گی ۔ بل گیٹس فاونڈیشن ایک بہت پیچیدہ ادارہ ہے اور یہ فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ مختلف بزنس میں سرمایہ کاری بھی کرتا ہے۔ اس کمپنی کے دو ٹکڑے کرنا آسان کام نہیں ہو گا ۔

مذید پڑھیں :وزیراعظم 3روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

بل گیٹس پر مختلف مواقع پر غلط بزنس پریکٹسز کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بل گیٹس امریکہ کی دوسری سب سے بڑی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا مالک ہے اور وہاں کے ملازمین کے ساتھ ناروا سلوک کے متعلق بہت سی غیر سرکاری تنظیموں نے آواز اٹھائی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان آوازوں کو بزور طاقت دبا دیا جاتا ہے۔ انکم ٹیکس کے معاملے میں بھی بل گیٹس پر متعدد بار نکتہ چینی کی گئی ہے۔ یہ دولت مند لوگ انسان دوستی philanthropists کا لبادہ اوڑھ کر دولت کے ارتکاز میں مصروف رہتے ہیں۔ دنیا کے سو امیر ترین لوگوں نے پچھلے سال جتنے پیسے کمائے ہیں ان سے چار مرتبہ دنیا کی غربت ختم کی جا سکتی ہے۔ قانونی پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھا کر ٹیکس چوری کے علاوہ یہ سارے دولت مند لوگ بشمول بل گیٹس اپنی مرضی کی قانون سازی کے لئے ہر سال ہزاروں ملین ڈالر اعلانیہ طور پر lobbying کے لئے خرچ کرتے پیں۔

بل گیٹس نے بلا شبہ دنیا میں تپ دق’ پولیو اور ملیریا سے بچاو کے کے لئے کام کیا ہے لیکن معترضین اس بات پر معترض ہیں کہ بل گیٹس نے immunization program پر تجارتی بنیادوں پر کام کرکے بے تحاشہ دولت کمائی ہے ۔ ایک social entrepreneur کے بھیس میں اس کا کہیں نہ کہیں covid19 vaccination میں بھی اہم ترین تجارتی کردار ہے۔ اس سے پہلے افریقہ میں بچوں اور بڑوں پر ویکسین کے تجربے تو زبان زد خاص و عام ہے۔ ان بد قسمت انسانوں کو Guinea pig کے طور پر استعمال کیا گیا۔ Conspiracy Theory تو یہاں تک کہتی ہے کہ بل گیٹس ساری دنیا کے انسانوں کو چپ لگا کر کنٹرول کرنا چاہتا ہے ۔

مذید پڑھیں :کراچی : اسپورٹس کمپلیکس میں جوئے خانہ پر پولیس چھاپے کی تحقیقات مکمل

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بل گیٹس جیسا امیر ترین آدمی ننگے بھوکے لوگوں کو چپ لگا کر آخر کیا حاصل کرے گا ؟ تو اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ دولت کا ارتکاز ۔ کمپیوٹر کے تجارتی استعمال سے بھی پہلے یونی لیور اور پی این جی جیسی کنزیومر پروڈکٹ کی کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا پر مسلسل کام کرتے رہتے تھے تاکہ ان کے طرز عمل کے لحاظ سے بہتر سے بہتر اشیا مارکیٹ میں لا سکیں ۔

اب یہی ڈیٹا گوگل’ فیس بک’ واٹس ایپ’ لنکڈ ان’ ٹوئٹر’ انسٹاگرام’ مائی اسپیس وغیرہ آرٹیفیشیل انٹیلیجینس کے سوفٹ وئیر کی مدد سے زیادہ درستگی کے ساتھ حاصل کر رہے ہیں۔ Invasion of Privacy کا قانون ان پر کہیں لاگو نہیں ہوتا ہے۔ آپ کا موبائل آپ سے بار بار location on کے لئے اصرار کیوں کرتا ہے؟ تاکہ یہ جان سکے کہ آپ کہاں کہاں جاتے ہیں اور کن چیزوں پر خرچ کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ آپ کے کریڈٹ کارڈ کے ساتھ لنک ہوتا ہے۔ جن امیر ترین کمپنیوں کا ابھی میں نے ذکر کیا ہے ان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ یہی ہے۔

چپ لگانے کے بعد ظاہر ہے کہ ہر کنزیومر کی یہ معلومات real time میں براہ راست موصول ہو رہی ہوں گی۔ بل گیٹس نے اگر ایسا کر لیا تو وہ گوگل سے آگے نکل جائے گا جب کہ ابھی web browser کی دوڑ میں مائیکرو سافٹ بہت پیچھے ہے۔ لیکن ان باتوں میں کتنی صداقت ہے یا صداقت ہے بھی کہ نہیں یہ اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن Behind every fortune there is a big crime اس محاورے میں سچائی تو ہے اور کون جانے بل گیٹس نے اخلاقیات کی لکیر کس حد تک پار کرلی کہ میلندا کو بھی کہنا پڑ گیا کہ بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب صاب۔ آج کے بعد ملاقات نہیں چیف صاب

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *