سرکاری SOPs اور تاجر کے آنسو

تحریر : اخترنواز

پنجاب اور کے پی کے بعد سندھ سرکار نے بھی تاجروں پر ایس او پیز کو لے کر نا صرف سخت حکم نامہ جاری کیا ہے بلکہ اب تو عملدرآمد بھی کرارہی ہے۔ شام چھ بجے کے بعد تقریبا شہر کی تمام مارکیٹوں پر ڈپٹی، اسسٹنٹ کمشنروں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ چھاپے مارنے کا سلسلے جاری ہیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر عبداللّہ ہارون روڈ موبائل مارکیٹ،، گل سینٹر، مدینہ مال، گلشن و ناظم آباد امتیاز سپر مارکیٹ، سرینا موبائل مارکیٹ سمیت درجن دیگر مارکیٹوں کو سیل کیا جاچکا ہے، جو بعد میں سرکاری من مرضی سے ہی کھلتی ہے۔

تمام مارکیٹوں کی اپنی یونین و لیڈر ہیں جو آئے دن اخبارات و سوشل ذرائع سے بیان بازیاں بھی کرتے رہتے ہیں کسی کا کہنا ہے کہ ایس او پیز پر عملدرآمد حکومتی ایما پر ہونا چاہیے تو کوئی اسے سراً حکومتی بدمعاشی گردانتا ہے۔

جاوید شمس، صدر انجمن تاجران سندھ اس معاملے پر کہتے ہیں کہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں،، تاجروں کو دیا جانے والا ٹائم صبح 8 سے شام 6 کو بڑھایا جائے، اور تاجر برادری این سی او سی کے 8 مئی سے مارکیٹ بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔ دوسری جانب آل کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر کا کہنا ہے کہ این سی او سی کے احکامات کی حمایت نہیں کرتے ہیں،، وفاقی و صوبائی فیصلے ہماری تجارت کو برباد کررہے ہیں،، عید کے سیزن میں ہماری مارکیٹیں سیل کی جارہی ہیں،، اس سے بڑا ظلم میں نے نہیں دیکھا،، عید کے موقع پر لوگوں کو سکون سے خریداری کرنے دیں اور تاجروں کو کمانے دیں۔

مزید پڑھیں: بدحواسی کا شکار نہ ہوں ، کورونا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو یہ ضرور پڑھیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ میں الصبح مارکیٹ کھولنے کے حق میں ہوں۔۔ اس کی دوسری جانب حکومت رٹ پر عملدرآمد کے لیے سرکاری فوج ظفرموج بھی ہما وقت تیار ہے،، جس میں ان دنوں تو بہت سے راز بھی پنہاں ہیں۔۔

یہاں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وفاق و صوبائی حکومت نے تاجر برادری کو صبح 8 سے شام 6 تک کا ٹائم شیڈول دیا ہے مگر تاجر اس ٹائم کو بڑھانے کے لیے بضد ہیں،، لیکن یہاں مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ شہر کے تقریبا معروف بازار، مارکیٹیں صبح آٹھ کے بجائے بارہ سے ایک بجے تک کھلتی ہیں مطلب چار سے پانچ گھنٹے تاخیر سے اور پھر مقررہ ٹائم پر بند کرنے سے تاجروں کو تکلیف و کوفت ہوتی ہے۔۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شہر کی عوام کو ڈیپارٹمنٹل اسٹوروں پر صبح چھ بجے بھی خریداری کے لیے آتے دیکھا ہے تو تاجروں مقررہ ٹائم پر کاروبار کیوں نہیں کرسکتے۔ اس کا جواب تاجر خود بھی نہیں ڈھونڈ پارہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پولیس فرنٹ لائن ورکرز کو کورونا وبا سے بچانے کیلئے اہم اقدامات

گزشتہ روز ایک شہری کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں شہری نے شہر کی معروف مارکیٹ حیدری مارکیٹ کے نامور مال اور مشہور برانڈ کی لائن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ٹائمنگ صبح آٹھ بجے درج ہے لیکن وہاں موجود گارڈ نے مارکیٹ کھلنے کا ٹائم بارہ بجے بتایا جس کا مطلب ہے کہ تاجر خود چار گھنٹے لیٹ مارکیٹ کھولیں گے تو بند مقررہ ٹائم پر کرنے سے ذاتی کوفت کو سرکاری زیادتی کا نام کیوں دیتے ہیں کیوں نہیں وقت پر کاروبار کھول رہے۔

شہری اسی مارکیٹ کی لائن میں ایک ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں صبح چھ بجے خریداری کے لیے پہنچ چکے ہیں تو یقیناً عید کی خریداری کے لیے ان مارکیٹس کا رخ بھی کرسکتے ہیں۔ شہری کپڑے، جوتے بھی الصبح خرید سکتا ہے،، جب اسے معلوم ہے کہ مارکیٹ ٹائم صبح آٹھ سے شام چھ ہے تو وہ اسی ٹائم میں خریداری کے لیے نکلے گا۔ وقت مقررہ پر کاروبار بند رکھ کر تاخیر سے کھولنے پر تو تقریباً قصور تاجربرادری کا نظر آرہا ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *