وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم "نیا پاکستان” میں کمزور طبقہ نان کوالیفائی، لیاقت علی ساہی

سیاسی و سماجی رہنما لیا قت علی ساہی نے وزیر اعظم کی ہاؤسنگ اسکیم نیا پاکستان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسکیم ٹریڈ یونینز رہنماؤں کی مشاورت کے بغیر بیوروکریسی نے مرتب کی ہے جس میں سیاسی طور پر ایسے دعوے کئے جارہے ہیں کہ یہ کمزور طبقوں کو اُپر لانے کیلئے لائی گئی ہے جس میں کم تنخواہوں والے محنت کش اس اسکیم سے فائدہ حاصل کرسکیں گے اس طرح وہ اپنے گھروں کے مالک بن جائیں گے

اس پر انہوں نے اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اسکیم میں کم سے کم تنخواہ جس کی تیس ہزار ہوگی وہ درخواست جمع کرانے کا اہل ہوگا اس تناظر میں ہم جائزہ لیں تو ملک بھر کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں ڈھائی کروڑ مزدور ایسے ہیں جو کنٹریکٹ، ڈیلی ویجز اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پر ملازمتیں کر رہے ہیں جنہیں کم سے کم ویجز 17500 ماہانہ ادا بھی نہیں کی جارہی جس پر پنجاب حکومت نے ابھی 20000 کرنے کا فیصلہ کیآ ہے

مزید پڑھیں: پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر قائم ہوا،محمد حسین محنتی

علاوہ ازیں ایک بہت بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد یعنی کہ دہاڑی دار مزدوروں اور کسانوں کی ہے جو بڑی مشکل سے دہاڑی کی بنیاد پر بچوں کی دوقت کی روٹی کا بندوبست کرتے ہیں اس کے علاوہ ایک بہت بڑی تعداد جو اس وقت روزگار کی تلاش میں ہیں جن کی ماہانہ کوئی انکم نہیں ہے یہ تمام لوگ وزیر اعظم کی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں کوالیفائی نہیں کرتے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت کی طرف سے کئے جانے ولے دعوے کہ کمزور طبقوں کو اُپر لایا جائے گا جبکہ آپ کی پالیسی میں تو کم تنخواہ والوں اور بے روزگاروں کو تو شآمل ہی نہیں کیا گیا

لہذا اس پر نظر ثانی کی جائے تاکہ جو حقدار مزدور طبقہ کا اسے ہاؤسنگ اسکیم کے تحت گھر فراہم کئے جا سکیں یہ کثیر رقم یقینا عوام کے ٹیکس منی ہے اس پر سیاست کرنے کے بجائے میرٹ پر شفاف پالیسیاں ٹریڈ یونینز رہنماؤں کی مشاورت سے مرتب کی جائیں ورنہ یہ تصور کیا جائے گا من پسند کنسٹریکشن گروپ کو نوازنے کیلئے محنت کش طبقے کا کندھا استتعمال کیا جا رہا ہے جن کی اکثریت اس اسکیم سے محروم رہے گی۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا قاری دنیا بھر میں قرآن کی خدمت کر رہا ہے

انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے تمام ورکرز کو مستقل کیا جائے تاکہ وہ ان اسکیم میں کوالیفائی کرسکیں وزیر اعظم ہر تقریر میں دعوی کرتے ہیں کہ نچلے طبقے کو اُپر لائیں گے لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *