جین مندروں کی قدیم مورتیاں حیدر آباد منتقل کرنے سے تھر واسیوں کو تشویش

رپورٹ : مزمل فیروزی

نگر پارکر کے جین مندروں سے ملنے والی جین دھرم کے ترتھانکروں کی مورتیاں حیدر آباد منتقل کر دی گٸ ہیں ،  ننگر پارکر کے تاریخی جین مندر سے اینڈونمنٹ فنڈ کو مرمت کے دوران 6 تاریخی جین مجسمے ملے تھے ۔

جن میں ایک سنگ مرمر اور 5 سنہری پتھر کے مجسمے شامل ہیں جن کو حیدر آباد منتقل کٸے جانے پر تھر واسیوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف کارونجھر کو عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرنے کی بات کی جا رہی ہے ۔ جب کہ دوسری طرف نگر پارکر سے نکلنے والی قدیم مورتیوں کو دوسرے شہر منتقل کیا جا رہا ہے ۔

تفصیلات کے مطابق جین مندر نگر پارکر بازار سے دریافت ہونیوالی چھ قدیم مورتیاں اینڈومینٹ فنڈ ٹرسٹ نے محکمہ آثار قدیمہ و نوادرات کے حوالے کی تھیں ۔ جن کو حیدر آباد منتقل کر دیا گیا ۔ تھر پارکر میں جین مذہب کے قدیم مندر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ سیاحوں کیلۓ کشش رکھتا ہے ۔

مذید پڑھیں :صحرائے تھر میں قائم اسکول منفرد فنِ تعمیر کا شاہکار

ان مندروں کی وجہ سے اس علاقے میں سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد رہتی ہے ۔ تھر پارکر کی خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے دنیا کو دکھانے والے نوجوان دلیپ پرمار نے تفصیلات بتاتے ہوۓ کہا کہ یہاں کے رہنے والے جین مت کے پیروکار تھے ۔ پاکستان بننے کے بعد جین مت کے ماننے والے اپنی مورتیاں لے کر یہاں سے نقل مکانی کر گئے تھے۔

ان کی یادگار مندروں کی صورت میں آج بھی موجود ہیں ۔ اب جب یہاں سے یہ قدیم مورتیاں دریافت ہوٸی ہے تو ان مورتیوں کو نگر پارکر سے حیدر آباد لے جایا گیا ہے جو کہ اس علاقے کے ساتھ زیادتی ہے ۔ ان کا کہنا ہیکہ یہاں کی عوام یہ چاہتے ہیں کہ یہ جین دھرم کی قدیمی مورتیاں اور نگر پارکر سے دریافت ہونے والی مزید قدیمی نوادرات کو نگر پارکر میں ہی رکھا جاۓ تاکہ یہاں آنیوالوں کیلۓ مزید کشش پیدا کی جا سکے ۔

دلیپ کا کہنا تھا کہ ان قدیمی مورتیوں کو بجائے کسی اور میوزیم میں رکھنے کے نگر پارکر میوزیم میں رکھا جائیں ۔ اگر میوزیم فنکشنل نہیں ہے تو فنکشنل کیا جائے تاکہ تھر پارکر سے ملنے والے قدیم نوادرات اسی علاقے میں رہ سکے ۔

مذید پڑھیں :کراچی : EOBI کا مردہ قرار دیئے جانے والے افسر کیخلاف انکوائری کا حکم

مقامی صحافی کھوسو فیض کے مطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر سندھو چانڈیو 6 مجسمے لے کر گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ جین مت کا قدیم مندر ننگر پارکر کے علاوہ کہیں اور نہیں ہے ۔ لہذا اس ورثہ کو یہی رکھنا چاہئے تاکہ آنے والے تاریخ کے بارے میں جان سکیں ۔

جب کہ ترجمان وزیر سیاحت و نوادرات کا کہنا ہیکہ محکمے نے یہ مورتیاں عارضی طور پر منتقل کی ہے جیسے ہی نگرپارکر کا میوزیم فنکشنل ہو گا ، ان مورتیوں کو وہاں رکھ دیا جاۓ گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *