ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ کی تاریخ ، اختیارات اور کارکردگی ( پہلی قسط )

تحریر : زاہد احمد

ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز ، سندھ ” کی تاریخ ، اختیارات ، اور کارکردگی اپنے قارئین کے سامنے بیان کرنے سے قبل میں آپ کی توجّہ ، تقریباً ایک سال قبل ، سندھ کے سرکاری کالجز کے انتظام وانصرام اور ‘ڈائریکٹوریٹس کالجز’ کے تاریخی پس منظر کے ضمن میں کئی اقساط پر مشتمل "ایڈمن کی ڈائری” کی جانب مبذول کرانا چاہوں گا  ۔

جس میں قیام ِ پاکستان کے بعد سے ‘ون یونٹ’ کے اختتام اور اس کے بعد سنہ 1972ء سے تاحال سندھ کے سرکاری کالجوں کے انتظام و انصرام (Management ) کا تفصیلی جائزہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا ۔ سنہ 1972 ء میں اس وقت کے صدر ِ مملکت اور سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب ذوالفقار علی بھٹّو کی جانب سے مارشل لاء کے ضابطے 118 کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں ، بشمول پرائیوٹ سیکٹر میں چلنے والے کالجز کو قومی تحویل میں لئے جانے ( Privatization ) کے بعد سندھ میں سرکاری کالجوں کی تعداد میں یکلخت اضافہ ہو گیا ۔

سرکاری شعبے میں قائم کالجز اور قومیائے گئے ، کالجز کے انتظام و انصرام کے لئے سندھ میں دو ’’ ڈائریکٹوریٹس آف کالجز‘‘ یعنی ’’ ڈائریکٹوریٹ کالجز کراچی ‘‘ اور ’’ ڈائریکٹوریٹ کالجز حیدرآباد ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس سے قبل مغربی پاکستان کے تمام سرکاری کالجز ، ‘ون یونٹ’ کے دور میں ‘ ‘مغربی پاکستان ڈائریکٹوریٹ آف کالجز’ کے زیر انتظام چلتے تھے ۔ جس کا مرکزی دفتر لاہور میں واقع تھا ۔ ’’ ون یونٹ ‘‘ کے خاتمے اور صوبہء سندھ کی بحیثیت صوبہ بحالی کے بعد ، نئے تشکیل پانے والے ’’ ڈائریکٹوریٹ کالجز کراچی‘‘ کے ماتحت ، صرف کراچی کے سرکاری کالجز جب کہ ’’ڈائریکٹوریٹ کالجز حیدرآباد‘‘ کے ماتحت ، کراچی کے علاوہ سندھ کے دیگر تمام اضلاع میں قائم سرکاری کالجز تھے ۔

مذید پڑھیں :جین مندروں کی قدیم مورتیاں حیدر آباد منتقل کرنے سے تھر واسیوں کو تشویش

بعد ازاں سندھ کے دیگر اضلاع میں مزید کالجز کے قیام سے ’’ ڈائریکٹوریٹ کالجز حیدر آباد ‘‘ پر کام کا بوجھ بڑھ جانے اور بالائی سندھ کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے سرکاری کالجز کے ملازمین کو اپنے مسائل کے حل اور انتظامی امور کی سر انجام دہی میں پیش آنے ولی مشکلات اور دشواریوں کو مدّنظر رکھتے ہوئے ، بالائی سندھ کے سرکاری کالجز کے انتظام و انصرام کو بہتر انداز میں چلانے کی غرض سے ’’ ڈائریکٹوریٹ کالجز سکھّر ‘‘ کے نام سے تیسرا ڈائریکٹوریٹ بھی قائم کر دیا گیا ۔

سندھ کے تینوں ’’ ڈائریکٹوریٹس کالجز‘‘ ، انتظامی اعتبار سے اس وقت کے ’’ محکمہء تعلیم و خواندگی‘‘ ، حکومت ِ سندھ (Education and Literacy Department ) کے ( Atteched Department ) کی حیثیت رکھتے تھے ۔ سرکاری انتظام و انصرام کے لئے متعیّنہ قواعد (Business Rules) کے مطابق ، یہ تینوں ’’ڈائریکٹوریٹس‘‘ گریڈ 1 تا گریڈ 17 تک کے تمام ملازمین (تدریسی و غیر تدریسی ) کے جملہ امور ، جن میں ٹرانسفر اور پوسٹنگز بھی شامل تھے ، اپنی سطح پر ہی سر انجام دیتے تھے ۔

گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے ملازمین سے متعلق امور ’’ سیکریٹیریٹ ‘‘ کی سطح پر سرانجام دئیے جاتے تھے ۔ یہ نظام ، جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ یعنی سنہ 2001ء جاری رہا ۔ سنہ 2001 ء میں ، ’’اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی’ کے نام سے جاری ہونے والے نئے ‘بلدیاتی نظام’ کے نفاذ کے ساتھ ہی ملک بھر کے تمام اسکولز ، کالجز اور پولی ٹیکنک ‘ کا انتظام وانصرام ‘مقامی بلدیاتی اداروں’ کے ذمّے دے دیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں سندھ کے تینوں ’’ڈائریکٹوریٹس کالجز‘‘ ختم ہوگئے اور ان کی جگہ ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ آفس کالجز قائم کر دئیے گئے جو ضلعے کے ’’ ایگزیکٹیو ڈسٹرکٹ آفس ایجوکیشن‘‘ کے ماتحت کام کرنے لگے ۔

مذید پڑھیں :بابائے ڈاک خانہ جات اور محنت کشوں کے بُزرگ خدمت گار سید حمید احمد

کالجوں کو بلدیاتی اداروں کے ماتحت کرنے کا تجربہ نہ صرف ملک بھر میں ناکام رہا بلکہ اس سے شدیدنوعیت کے انتظامی مسائل پیدا ہوگئے ، جو کالج ایجوکیشن کے لئے ناقابلِ تلافی نقصان کا باعث بنے چنانچہ حکومت کو اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرنی پڑی اور بالآخر ‘ لوکل "گورنمنٹ آرڈیننس 2001 ء” میں ترمیم کر کے سندھ بھر کے تمام کالجز یکم جولائی سنہ 2006 ء سے ایک بار پھر حکومت ِسندھ کے ‘محکمہء تعلیم و خواندگی’ کے زیرِ انتظام کر دئیے گئے ۔

سرکاری کالجوں کے ‘محکمہءتعلیم وخواندگی’ کے ماتحت آتے ہی محسوس یہ کیا گیا کہ صوبے میں کالجز کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ ہوچکا ہے جو ‘محکمہء تعلیم وخواندگی’ ، حکومت ِسندھ کے ماتحت ہیں جب کہ یہی محکمہ صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے انتظام وانصرام کا بھی ذمّہ دار ہے ، اس لئے اس امر کی ضرورت محسوس کی گئی کہ ‘محکمہ ءتعلیم و خواندگی ‘ پر بوجھ کم کرنے کی غرض سے ، سندھ بھر کے سرکاری کالجوں کے انتظام وانصرام کو ازسرنو ترتیب دیا جائے ، لہٰذہ سندھ کے تین سابقہ ‘ڈائریکٹوریٹس کالجز’ ( کراچی ، حیدرآباد اور سکھّر) کی بحالی کے ساتھ ‘ڈائریکٹوریٹس کالجز’ کی تعداد میں اضافہ کر کے مزید دوڈائریکٹوریٹس ، ‘ڈائریکٹوریٹ کالجز لاڑکانہ’ اور ‘ڈائریکٹوریٹ کالجز میرپورخاص’ بھی قائم کئے جائیں اور ان پانچوں ‘ڈائریکٹوریٹس کالجز’ کے اوپر ایک ‘ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ’ بھی قائم کردیا جائے جو پانچوں ‘ڈائریکٹوریٹس کالجز’ اور ‘محکمہء تعلیم و خواندگی ، حکومت ِ سندھ’ کے درمیان رابطے کے دفتر کے طور پر کام کرسکے ۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ماہ ِجون سنہ 2006 ء میں ، ‘محکمہءتعلیم وخواندگی ، حکومت ِسندھ’ کی جانب سے "رولز آف بزنس” میں ترمیم کرکے ، ایک نئے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا جسے آفس آف دی پراونشل ایجوکیشن منیجر” کا نام دیا گیا ۔ نئے قائم ہونے والے اس ادارے کا نام ” پراوینشل ایجوکیشن منیجر” اور پانچ ‘ڈائریکٹوریٹس کالجز’ کے نام ” ریجنل ایجوکیشنل منیجرز” سے تبدیل کر دینا اس وقت کے کسی ‘بقراط’ افسر کے ذہن کی اختراع تھی ، جسے بعد ازاں تبدیل کر کے سنہ2007 ء میں بالترتیب ، "ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ” اور "ریجنل ڈائریکٹوریٹس کالجز” کردیا گیا ۔ ان دفاتر کے ناموں کی تبدیلی کا یہ عمل بھی مجھ ناچیز کے ہاتھوں ہی سر انجام پایا تھا (ناموں کی تبدیلی سے متعلق حکمنامے کا عکس ذیل میں دیا جا رہا ہے) ۔

مذید پڑھیں :پشاور ٹول پلازہ : کار ڈرائیور نے روکنے پر پولیس اہلکار کو کچل ڈالا

” پراوینشل ایجوکیشنل منیجر ، سندھ” (موجودہ ” ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز ، سندھ) نے یکم جولائی سنہ 2006 ء سے اپنے کام کا آغاز کیا ۔ ابتدائی طور پر اس نئے قائم ہونے والے دفتر ، ‘آفس آف دی پراوینشل ایجوکیشن منیجر’ ( ڈائریکٹوریٹ جنرل کالجز سندھ ) میں 8 افسران کا تقرّر کیا گیا ، ڈاکٹر محمّد علی شیخ پہلے پراوینشل ایجوکیشن منیجر ( ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ) ، پروفیسر محمّد اصغر خان ، ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز ، پروفیسر ارشدجمال ڈائریکٹر انسپیکشن مقرّر ہوئے ، ڈائریکٹر فنانس کی اسامی پر پروفیسر نذہت ولیم کا تقرّر کیا گیا تھا مگر انہوں نے محض اس بنیاد پر یہ منصب قبول کرنے سے معذرت اختیار کرلی تھی کہ وہ ‘نفسیات’ کی پروفیسر ہیں ، ‘فنانس’ کے امور سرانجام نہیں دے سکتیں ۔

دو ڈپٹی ڈائریکٹرز میں مجھ ناچیز کو ہیومن ریسورس مینجمنٹ کا اور پروفیسر علی سفیر زیدی مرحوم کو فنانس کا ڈپٹی ڈائریکٹر مقرّر کیا گیا اسی طرح سے چار اسسٹنٹ ڈائریکٹرز میں رفیع الدین ڈھکّن ، ’’ہیومن ریسورس مینجمنٹ‘‘ ، احمد بن سلیم ‘فنانس’ ، عزیزاجّن ‘انسپیکشن’ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقرّر ہوئے ۔

نئے قائم ہونے والے اس دفتر کی ابتدائی اوراہم ترین کاغذی کاروائی (Paper Work) کا فریضہ سر انجام دینے والے افضال احمد اسسٹنٹ ڈائریکٹر/ اسٹاف افسر برائے ‘ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ’ کی حیثیت سے تعیّنات کئے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے )

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *