نمرتا کیس کو لبرل لابی متنازعہ بنانے کیلئے کوشاں ، اہل خانہ کو پریشانی لاحق

لاڑکانہ: نمرتا ہلاکت کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کرنے والی ڈاکٹر امرتا کو جوڈیشل انکوائری افسر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اقبال حسین میتلو کے روبرو پیش کردیا گیا .

سیشن جج نے ڈاکٹر امرتا کی جاری کردہ نمرتا کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر ڈاکٹر امرتا کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آپ نے کس کے انفلوئنس پر یہ رپورٹ مرتب کی ؟ اس کی تحقیقات ہوں گی کیوں کہ یہ رپورٹ بتا رہی ہے کہ کسی کے دباؤ پر تیار کی گئی ہے ، اس جانبدارانہ رپورٹ کی وجہ سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ڈاکٹرامرتا کو باقاعدہ شامل تفتیش کرنے کا امکان ظاہر کیا ہے .

ڈاکٹر امرتا آپ کی جاری کردہ پرو ویزنل پوسٹ مارٹم اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح فرق کیوں ہے ؟،ڈاکٹر امرتا آپ سے پولیس نے موت کی وجہ پوچھی تھی ؟ ، آپ نے رپورٹ میں گلہ دبانے اور جنسی عمل کی تصدیق کن اختیارات کہ بنیاد پر کی ؟ جس پر ڈاکٹر امرتا نے سیشن جج کو بتایا کہ میں جونیئر ہوں، یہ پوسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہتی تھی .

میری میڈیکو لیگل افسر کے طور پر تعیناتی جس شام کو ہوئی اسی شام یہ کیس سونپ دیا گیا،جس پرڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے کہا کہ یہ اعتراضات تحریری طور پر کیوں نہیں دیئے ؟.

ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ نمرتا کے والدین نے ایس ایس پی کے بعد سیشن جج سے بھی کہا ہے کہ انہیں سب معلوم ہے کہ وہ کسی پر الزام نہیں ٹھہراتے ،اسی لئے انہوں نے مقدمہ بھی درج نہیں کرایا ہے ،لہذاہ بہتر ہے کہ اس معاملے کو زیادہ ہائی لائٹ نہ کیا جائے .تاہم لبرل لابی اس ایشو کو اٹھا کر مذہبی منافرت پھیلانا چاہتی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے رپورٹ کی غلط تشریح کرکے رپورٹس شائع کرائی ہیں .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *