یومِ صحافت پر PFUJ کے تحت آزادی صحافت و میڈیا بحران پر عالمی کانفرنس

کراچی : عالمی یوم صحافت پی ایف یو جے کے تحت پاکستان میں آزادی صحافت اور میڈیا بحران پر عالمی کانفرنس، پاکستان کی صورت حال عالمی اداروں تک پہنچانے کا فیصلہ

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے) کے زیر اہتمام تین مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر عالمی سطح کی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس منعقد کی گئی ۔ اس کانفرنس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے سینئر صحافیوں و کالم نویسوں، اینکرز، سیاسی رہ نماوں، پروفیسرز، انسانی حقوق کے علمبرداروں، سماجی بہبود کی عالمی تنظیموں، وکلا اور مختلف اداروں کی مزدور یونینز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

کوڈ-19 کے باعث پی ایف یو جے کی جانب سے زوم کے ذریعے اپنی نوعیت کی پہلی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس کا موضوع تھا ۔
State of press freedom and media crisis in Pakistan اس اہم ترین کانفرنس میں پاکستان کے شعبہ صحافت پر لگائی جانے والی غیر اعلانیہ بندشوں، قدغنوں اور صحافیوں کو مسلسل دھمکانے، نشانہ بنانے اور قتل کے بدترین واقعات کے امور پر کھل کر گفتگو کی گئی ۔ شدید تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا ۔

کانفرنس میں صحافت پر پابندیوں کے خاتمے اور صحافیوں کے جانی و مالی تحفظ کے حوالے سے کئی اہم تجاویز بھی سامنے آئیں۔ پی ایف یو جے کی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس کے میزبان پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکریٹری جنرل ناصر زیدی اور پی ایف یو جے کی ایف ای سی کے رکن افضل بٹ تھے ۔ جب کہ جنرل سیکریٹری آرآئی یو جے آصف علی بھٹی نے کانفرنس کی نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔

مذید پڑھیں :حافظ ابوبکر شیخ ۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

تین گھنٹے سے زائد مسلسل جاری رہنے والی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز و سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت صحافیوں کے خلاف جرائم کی فوری سماعت کے لیے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر مقرر کرے، پاکستان میں آئین کے تحت آزادی اظہار رائے، صحافت کی خود مختاری اور صحافیوں کیخلاف جرائم کے جائزہ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے وسیع البنیاد پارلیمنٹری کمیٹی بنائی جائے ۔

صحافتی ادارے اور تنظیمیں فیک نیوز کے خاتمے کے لیے ازخود کوششوں کا آغاز کریں تاکہ عوام و خواص کا میڈیا پر اعتماد بحال ہو سکے ۔ شہروں اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں اور میڈیا ورکز کی نوکریوں کے تحفظ اور تنخواہ کی بروقت ادائیگی کا جامع نظام بنانے، ٹی وی پروگرامز میں غیر صحافی اینکرز کی حوصلہ شکنی اور سابق فوجی افسران کو دفاعی تجزیہ تک محدود رکھنےکیلئے میڈیا مالکان سے بات کی جائے ۔

پی ایف یو جے کی پہلی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، ترکی، مشرق وسطی اور یورپ کے مختلف ملکوں میں برسوں سے شعبہ صحافت سے منسلک سنیئر صحافیوں انور اقبال، عظیم ایم میاں، معاوز صدیقی، محسن ظہیر، خالد حمید فاروقی، ارشد بھٹی، بدر منیر چوہدری، وقار ملک، ارشد رچیال، پروفیسر شفیق احمد اور دیگر نے تجویز دی کہ پی ایف یو جے سنیئر ارکان پر مشتمل وفد بنا کر یورپی یونین سمیت دیگر عالمی سطح پر صحافتی تحفظ و فروغ کے اہم عالمی اداروں کا دورہ کرے اور انہیں پاکستان میں شعبہ صحافت کےحوالے سے حقیقی صورت حال سے آگاہ کرے ۔

مذید پڑھیں :عالمی یوم القدس 24 رمضان المبارک کو منایا جائے گا : عارف حسین الجانی

انہوں نے آفر دی کہ وہ خود بھی پاکستان میں آزادی صحافت پر قدغنوں اور صحافیوں پر ہونے والے مظالم کی معلومات عالمی اداروں تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں تا کہ جو طاقتور ادارے پاکستان میں صحافت پر پابندیاں لگانے میں ملوث ہیں انہیں آئینی اور عالمی قوانین کےتحت ایسے اقدامات سے بعض رکھا جا سکے ۔

کانفرنس میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی آزادی صحافت کی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان میں صحافیوں پر پچھلے کئی برسوں سے تشدد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ جس پر یورپی پارلیمنٹ بھی سخت تنقید اور تشویش کا اظہار کر رہی ہے ۔

اس صورتحال پر فوری طور پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، تجویز دی گئی کہ صحافیوں کی نوکریوں کےتحفظ کے لئے تمام میڈیا کے اداروں کو سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے رجسٹرڈ کرانے کےلئے حکومت سے فوری مطالبہ کرنا چاہئے ۔

کانفرنس میں ملک بھر سے یونیز، پریس کلبز اور مختلف تنظمیوں کے ارکان نے اپنی سفارشات پیش کیں کہ میڈیا کی آزادی اور عوام کی آواز اعلی ایوانوں تک پہنچانے، معاشرتی مسائل کےحل، پاکستان می جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کو یقینی بنانے کی خاطر اب صحافیوں کو حکومت کی طرف دیکھنے کی بجائے ازخود عملی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور اس کے لیے سیاسی جماعتوں، وکلا تنظمیوں، ورکرز یونینز، طلبا و اساتذہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری رابطے کئے جائیں۔

مذید پڑھیں :فاتح پکھل ہزارہ سیّد جلال باباؒ کی سوانح حیات

پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں میڈیا پر لگائی جانے والی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے صحافی اپنی جدوجہد کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھائیں ۔

سینئر صحافی حامد میر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ ان کی اہم وفاقی وزرا کے ساتھ ملاقات ہوئی ہے جس میں جرنلسٹ سیفٹی بل پر بات چیت کی گئی ہے ۔ بل کی وفاقی کابینہ منظوری دے چکی ہے لیکن وزیر قانون فروغ نسیم نے اس کی مخالفت کر دی ہے اور اس بل کو آئین سے متصادم  قرار دیا ہے جس پر کانفرنس کےشرکا نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔

مذید پڑھیں :اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، شیریں مزاری

پی ایف یو جے کی انٹرنیشنل آن لائن کانفرنس میں چاروں صوبوں سے صحافتی یونیز، پریس کلبز اور سنیئر صحافیوں نے شرکت کی، صدر نیشنل پریس کلب شکیل انجم، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری، سنیئر صحافی مظہر عباس، فہیم صدیقی، احسان الحق، فاروق طارق، منیب رشید، مہوش خان، محمد شفیق راجا، ناصر ملک، نورالامین، ڈاکٹر شفقت منیر، ڈاکٹر عابد سلہری، انعام الرحیم، اقبال جمیل، ڈاکٹر اویس سلیم، جاوید صدیقی، شفیع احمد، افنان خان، فوزیہ شاہد، مطیع اللہ جان، مبارک زیب خان، عمار مسعود ، علی رضا علوی، آصف بشیر چوہدری، لالہ اسد پٹھان ، جواد فیضی، انور رضا، عامر سجاد، مائرہ عمران، عمرانہ کومل، پروفیسر عمار جان، مدثر چوہدری ، احتشام الحق ، قمر زمان بھٹی، ڈاکٹر منور صابر، جے پرکاش مورانی، عاطف قیوم سمیت کئی مقامی صحافیوں نے بھی شرکت کی ۔

کانفرنس کے اختتام پر صدر پی ایف یوجے شہزادہ ذوالفقار نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان میں آزادی صحافت کے لئے جانیں قربان کرنے والوں، دھمکیوں اور تشدد سے مرعوب نہ ہونے والوں اور حق کی آواز بلند کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا اور اعادہ کیا کہ وطن عزیز میں جمہوریت اور آئین کی بالادستی، پیشہ صحافت کی تقدیس اور صحافیوں کے تحفظ کے لئے ہر سطح پر پی ایف یو جے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *