فاتح پکھل ہزارہ سیّد جلال باباؒ کی سوانح حیات

تحریر : سیّد عاقب شاہ ترمذی

جہاں پیر خراسان سیّد علی ترمذی المعروف پیر بابا کی اولاد میں ایسی شخصیات نے آنکھیں کھولی جو روحانی، اصلاح کے علمبردار اور پیکر تھے ۔ جنکی سرگرمیاں منبر، محراب تک رہی اور اپنی پوری زندگی دین اسلام کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی تو وہیں ان کی اولاد کی لڑی میں ایسی ہستیاں پیدا ہوئی جنہیں دینی سیادت کے ساتھ ساتھ شمشیر، سنام سے کام لیتے ہوئے دشمنان اسلام کے خلاف عظیم کارنامے سر انجام دیئے ۔ روشنی کی ان صفات میں ایک نامور اور ناقابل فراموش ہستیوں میں ایک قابل فخر نام فاتح ہزارہ سیّد جلال بابا کا ہے ۔آپ سید قاسم بابا کے بیٹے تھے ۔ آپ کی پیدائش سوات میں ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل کی ۔ دینی تعلیم کے ساتھ باطنی علوم پر دسترس تھی ۔ خلافت میں اپنے والد بزرگوار کے خلیفہ تھے ۔

آپ کا پورا شجرہ نسب یوں ہے :

سید جلال بن سید قاسم بن سید مصطفی بن سید علی ترمذی المعروف پیر بابا، چونکہ آپ کی پرورش اپنے والد ماجد کے زیر سایہ ہوئی تھی اور وہ ایک عظیم مدبر،مجاہد،سپہ سالار تھے،اپنے والد ماجد کے حکم سے سوات،چترال کافرستان تک بنفس نفیس اخون دوریزہ کے ساتھ شریک جہاد تھے ۔ اپنی شجاعت، بہادری کی بناء مختلف محاذوں پر دشمنان اسلام کے خلاف داد شجاعت پائی،سید جلال بابا تو ایک ایسی عظیم سپہ سالار کے صاحبزادے تھے یعنی جذبہ جہاد،دین اسلام کی تبلیغ انہیں میراث ہی میں ملا تھا ۔ اپنے اسلاف آباء اجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں سوات سے نکل کر کشمیر جانے کا ارادہ کر لیا ۔

دوران سفر انہوں نے ہزارہ کے گاؤں بکھل میں کچھ عرصہ قیام کی نیت سے ٹھہرے ۔ تب ان علاقوں پر ترک کی حکومت تھی اور سلطان محمود خرد ہزارہ کے ووالی تھے،جب انہیں علم ہوا کہ پیر بابا کے عظیم خاندان کے ایک فرد ہمارے دارالحکومت میں داخل ہوئے ہیں تو ان کے ساتھ ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے ان کی آمد کو اپنے لیے باعث فخر سمجھا،انہیں بلایا دیا ۔

پیر بابا سے خونی تعلق ہونے کی بناء پر ان کی بہت عزت افزائی کی ۔ اپنے پاس ٹھہرایا، اپنی صاحبزادی اسکے نکاح میں دی تاکہ ہم ان عظیم خانوادے کے چشم چراغ کے فیوضات سے مستفید ہوتے رہے،جہیز میں اپنی بیٹی کو بھوگڑ کا علاقہ انہیں دے دیا،پکھل میں انہوں بہت بڑا مقام حاصل کیا،ایک سادات خاندان کے چشم، چراغ اور دوسری طرف والی ہزارہ کے داماد ہونے کی وجہ سے لوگ انکی بہت تکریم،تعظیم کیا کرتے تھے ۔

مذید پڑھیں :صحرائے تھر میں قائم اسکول منفرد فنِ تعمیر کا شاہکار

ہہ ہر زمانہ کے لوگوں کا دستور ہے جس کو کوئی مقام،مرتبہ حاصل ہو وہ انکی آنکھوں کھٹکتے ہیں،کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے،انکے خلاف سازش کرتے رہتے ہیں، سلطان محمود خرد کی عنایتیں اور انکی طرف سے سید جلال بابا کی تکریم،احترام محمود خرد کے خاندان سے برداشت نہ ہوئی ۔ ان کے خلاف خرد کے کان بھرتے رہے،یہ آپکے لئے خطرہ ہے،انکے چاہنے والوں میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا ہے یہ آپ سے حکومت چھین لے گا ۔ محمود خرد انکی باتوں میں آکر اپنی پولیس کو سید جلال بابا کو راستے ہٹانے کا حکم دیدیا،سید جلال بابا اس سازش سے بالکل لا علم تھے ۔

ایک دن محمود خرد سے ملاقات کے غرض سے گھر سے نکلے تو راستے میں گھاٹ لگائے پولیس نے ان پر حملہ کردیا،سید جلال بابا نے اپنی تلوار نکال کر انکے ساتھ مقابلہ کیا،کئی زخم آئے،حملہ آور انہیں ختم سمجھ کر بھاگ گئے،سید جلال بابا ایک حوصلہ مند انسان تھے،کئی زخموں کے باوجود گھوڑے پر سوار ہو کر اپنے قلعہ پہنچے ۔ اس کی بیوی نے اپنے شوہر کو خون میں لت پت دیکھ کر وہ ایک سمجھدار اور باوفا خاتون تھی سارا ماجرا سمجھ گئی ۔ اپنے شوہر کو ایک کمرے لٹاکر اسکی مرہم پٹی کرتی رہی،وہ ایک ذی شعور خاتون تھی کسی کو اس واقعے کی خبر نہ دی اور نہ ہی کسی کو اس تک پہنچنے دیتی،علاج معالجے کے بعد جب وہ سفر کے قابل ہوئے تو راتوں رات پکھل مانسہرہ سے نکل کر تختہ بند بونیر روانے ہوئے،وہاں اس کا چچازاد بھائی سید مسعود جو اس وقت اپنے والد ماجد گدی نشین تھے انکے پاس پہنچ کر اسے سارا ماجرا سنا دیا انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی کی مظلومی کی داستان سن کر انتہائی پریشان ہوئے،ظلم کا بدلہ لینے کی یقین دہانی کرائی،وہ ایک عظیم مصلح ہونے ساتھ ساتھ ایک مدبر سیاستدان، نامور سپہ سالار بھی تھے ۔

انہوں یوسفزئی اور غورہ خیل جو انکی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر قسم قربانی کے لئے تیار ہوتے ۔ ساتھ انہوں نے سواتی قبیلے سے لشکر میں شامل ہونے کی درخواست کی،فتح کی صورت میں پکھل کی حکومت سید جلال کے حوالہ کر دی جائی گی، شکست خردہ ترکوں کی آراضی پر سواتی قبیلہ قابض کردیں گے،اس پر سواتیوں نے لشکر میں شامل ہونے کی حامی بھر دی، ادھر ترک حکمران آپس میں دست، گریباں تھے، خون خرابہ عام ہوا تھا ۔ محمود خراد خاندان کی چپقلش، سازشوں سے تنگ آکر اپنے خاندان کی شکایت کرنے شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے پاس دہلی گیا تھا۔ مختلف علاقوں انکے بھائی اپنی من مانی کرتے رہے،اپنے کو اس سے آزاد سمجھتے تھے، ان کے بیٹے اپنے مشیر مراد کی رہنمائی میں لوٹ کھسوٹ میں مصروف عمل تھے،مختلف دیہاتوں پر انکے بھائیوں اور دیگر وزیروں، مشیروں نے اپنی مانی شروع کر رکھی،نہ کوئی مرکزی اقتدار تھا نہ ہی حکمران محمود ایک کٹھ پتلی ہوکر رہ گیا تھا،وہ حیران،پریشان تھا کہ قافلہ کیسے لوٹا اور اپنے کیسے پرائے ہوئے؟

یہ تھا ناحق حملے کا انجام

چونکہ سید جلال بابا نے زیادہ عرصہ پکھل میں گزار چکے تھے اور ساتھ ایک مدبر انسان بھی تھے، وہ اندرونی حالات سے بخوبی واقف تھے۔ لہذا اس نے اپنے لشکر کو دریائے سندھ پر تھاکوٹ کے مقام پر عبور کراتے ہوئے پکھل پر حملہ آور ہوئے مراد خان جو سید جلال بابا کے دوست تھے ، اس نے دوستی کا حق آدا کرتے ہوئے سلطان محمود خرد کے خاندان کو مزاحمت سے باز رکھتے ہوئے چپکے سے قلعہ خالی کرنے کا مشورہ دیا ۔ یہ شاہی خاندان اپنی عورتیں اور بچوں کو لیکر وادی کونش میں روپوش ہوئی یوں ہی سید جلال بابا بغیر کسی مزاحمت پکھل پر قابض ہو کر فاتح قرار پائے ۔ سیّد مسعود باباؒ مدبرانہ اور سیّد جلال باباؒ مجاہدانہ جدوجہد سے پکھل مانسہرہ ہزارہ اولاد پیر باباؒ کی قلمروں میں شامل ہو گیا ۔ گلی باغ قلعے، چھاؤنی پر قبضے کا سن کر خرد کی پولیس اور لشکر نے اسے بچانے کی بہت کوشش کی مگر ناکامی کا سامنا رہا ۔ اسی طرح (1703) میں ترک حکمران کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ۔ دریائے سندھ کے مشرق میں سید جلال اور جانب مغرب میں سید مسعود کی حکومت قائم ہوئی، دونوں دینی پیشوا ہونے کے ساتھ دنیوی حکمران بھی ٹھہرے، لشکری کچھ وہاں ٹھہرے اور کچھ نے واپس چلے گئے ۔ سید جلال بابا نے وادی کاغان اپنے پاس رکھا اور باقی مراد خان جو ان کے دوست تھے ان کے تصرف میں دے دیا ۔

مذید پڑھیں :عالمی یوم صحافت PFUJ کے تحت آزادی صحافت ، میڈیا بحران پر عالمی کانفرنس

کہا جا رہا ہے کہ وادی کاغان ترک حکمرانوں کی قلمروں میں شامل نہیں تھا، علاقہ پکھل کی تسخیر کے بعد جب سید جلال بابا وفات ہوئے تو ان کے قابل اور مدبر پوتے جو غازی بابا کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں ، نے اپنے اسلاف، آباء، اجداد کا مشن جاری رکھتے ہوئے کاغان کے نواحی علاقے کوہستان، چلاس، چترال میں کفار کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے لاکھوں لوگوں دائرہ اسلام میں داخل کرتے ہوئے وہاں اپنی حکومت قائم کی ۔ کاغان کا علاقہ اس نے فتح کیا تھا، بونیر سے شروع ہونے والی والی جدوجہد سوات،دیر،چترال،چلاس کی بدولت اسلام کی شمعیں روشن ہوتی گئی،دھڑا دھڑ لوگ اسلام میں داخل ہوتے رہے ۔

آپؒ کے دو بیٹے تھے
: سید پیر ابدال باباؒ یہ لا ولد تھے،
پیر سید شاہ زمان بابا، آپ (رح) آٹھ سال تک پکھل کے بادشاہ رہے، آپ نے چلاس، کوہستان و دیگر ملحقہ جات علاقوں میں دعوت دین کی جس پر آپ نے پیر کا لقب پایا ، آپ کی وفات کے بعد آپ کے والد سید جلال بابا نے تقسیم اراضی کی، تقسیم کچھ اس طرح ہوئی تین حصے سواتی، اخون خیل، ملاخیل، غورہ خیل اور آستانہ دار قبیلے کو دی ۔ جب کہ ایک حصہ اپنے پاس رکھا ۔

سید پیر شاہ زمان باباؒ نے تین شادیاں کی تھی جن سے آٹھ (8) بیٹے تھے ۔

پہلی بیوی سے
(1) سید نظام شاہ باباؒ
(جد امجد سادات نکوٹ )
(2) سید اعظم شاہ المعروف عظیم شاہ باباؒ
(جد امجد سادات کوشگرام)
(3) سید اکبر شاہ باباؒ
(جد امجد سادات بٹیلہ)
دوسری بیوی سے
(4) سید رحمت شاہ باباؒ
(جد امجد سادات مٹہ)
(5) سید عزت شاہ باباؒ
(جد امجد سادات میدان)
(6) سید ولی شاہ باباؒ
(جد امجد سادات نل پاشتو)
تیسری بیوی سے
(7) سید عرب شاہ باباؒ
(جد امجد سادات کاغان)
(8) سید نور شاہ المعروف غازی باباؒ
(جد امجد سادات ناران)

مذید پڑھیں :پی پی 84 خوشاب: اپنی نشست پر دوبارہ ن لیگ ہی کامیاب، پی ٹی آئی کو شکست

سید جلال بابا کی اولاد آج بھی ان علاقوں میں بکثرت موجود ہیں، ناران، کاغان، چیلاس، چھتر مانسہرہ، آلائی بٹگرام، کوہستان اور کچھ یہاں سے ہجرت کر کے کوئٹہ بلوچستان ملک کے دیگر شہروں میں آباد ہیں ۔ ہزاروں میلوں کی جائدادیں ان کے قبضے میں ہیں ۔ زیادہ تر ان کی اولاد جلالی کی طرف اپنی نسبت کرتی ہیں ۔ جس کی بناء پر ان کی اولاد جلالی ترمذی سادات سے جانے جاتے ہیں ۔ گردش زمانہ کے باوجود آج بھی ان کی اولاد بے پناہ صلاحیتوں، خوبیوں سے بہرہور ہیں ۔ کئی شخصیات ملک کے بڑے، اہم عہدوں پر فائز رہ کر اپنے خاندانی صلاحیتوں سے ملک و ملت کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔ زمانہ حال میں بھی کئی ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور پاک فوج کے بڑے عہدوں پر ملک کی ترقی کے لئے اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *