حافظ ابوبکر شیخ ۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

تحریر : عبدالستار اعوان

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

مورخہ2 مئی 2021ء کو جس لمحے مَیں نے غازی علم الدین شہیدؒ کے مزارِ پُر انوار کے قریب واقع جنازگاہ میں اپنے بہت ہی پیارے دوست حافظ ابوبکر شیخ ( معروف دانش ور /ڈپٹی ایڈیٹرماہنامہ الجمعیة) کے جسد خاکی کو کندھا دیا توثاقب لکھنوی کایہ شعر میری زبان پر آنے لگا ، آنکھوں سے آنسورواں اور دل کے گھاﺅمزید گہرے ہونے لگے ۔ میں یہ محض رسمی طور پر نہیں لکھ رہا حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ دینی حلقوں میں شیخ صاحب کی بے پایاں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اللہ کریم ان کے درجات بلند فرمائے ،لواحقین کو صبر عطافرمائے اور ان کے چاہنے والوں کو یہ توفیق دے کہ وہ ان کے مشن اورخاص طور پر ان کی روایات اور ان کے انداز کو آگے لے کر چل سکیں ۔

شیخ صاحب کے ساتھ میری پہلی ملاقات تقریباً 14 برس قبل اردو بازار لاہور میں ہوئی تھی اور پھر ان کی وفات تک ان کے ساتھ تعلق قائم رہا۔شیخ صاحب کے ساتھ میری یادوں ،ملاقاتوں اورمیرے دیگر دوست احباب کی یادداشتوں کاایک طویل سلسلہ ہے جسے ایک کالم میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔اردو بازار لاہورمیں قمر الزمان چودھری مرحوم کی دکان پر احباب کی خوب محفلیں برپا ہوتیں جہاں شیخ صاحب باقاعدہ تشریف لاتے اور رونق محفل بنتے ۔

شیخ صاحب کی وسعت نظری کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی تعلق نبھاتے اورتبادلہ خیال کے لئے وقت نکالتے جن کا شمار ان کی جماعت جے یو آئی کے سخت ناقدین میں ہوتا تھا ۔ شیخ صاحب کا اپنا ہی انداز تھا،دھیمے لہجے میں مسکرا کر بات کرتے اور دل جیت لیتے ۔ نظریات کے دفاع میں لوگوں سے ناراضی پالنا اور قطع تعلق کرنا ان کی سر شت میں شامل نہ تھا۔ وہ کسی اور ہی مٹی کے بنے ہوئے تھے ۔ کڑوی کسیلی بات بھی اس خندہ پیشانی سے سنتے کہ عقل دنگ رہ جاتی ۔ وہ تعلق بنانا جانتے تھے اور نبھانا بھی ۔ میں سوچتا ہوں کہ ان جیسے وضع دار اور رکھ رکھاﺅ والے لوگ معاشرے سے عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔ مرحوم کئی خوبیوں کا مرقع تھے لیکن مجھے ان کی یہی خوبی زیادہ پسند تھی کہ وہ اپنے ہم خیال لوگوں تک محدود نہ تھے بلکہ معاشرے کے ہر طبقہ فکر کے ساتھ تعلق قائم کیے ہوئے تھے۔ ان کے سرخ وسپید چہرے پر ہمہ وقت ایک مسکراہٹ رہتی تھی جو ان کی شخصیت کو اور بھی خوبصورت بنائے رکھتی ۔

مذید پڑھیں :بابر اعظم اور فخر ICC کے نامزد کردہ بہترین کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل

دراصل ان کے نزدیک انسانی قد روں کاایک احساس موجود تھا۔اپنے نظریات کے د فاع میں لوگوں کے ساتھ باقاعدہ بحثابحثی انہیں بے حد پسند تھالیکن ان کی بحث مہذب لہجے میں ہوا کرتی ۔گالی،الزام تراشی اور گھٹیا الفاظ کا زبان پر آنا تو دور کی بات وہ کوئی ایسا جملہ بھی استعمال کرنے سے گریز کرتے جس سے فریق مخالف کا د ل دکھنے کا اندیشہ ہوتا۔ ان کی کوشش ہوتی کہ اپنا نقطہ نظر دلیل کی بنیاد پر پیش کیا جائے ۔بہت مرتبہ ایسا ہوتا کہ شیخ صاحب کو تمام دوست آڑے ہاتھوں لیتے اوران پرچاروں طرف سے تنقید کے نشتر برستے لیکن شیخ صاحب بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ دھیمے انداز میں اور دلائل کی قوت سے جواب دیتے چلے جاتے۔ ان کی پرمغز گفتگو سننے والی ہوتی۔ قومی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ نہر سویز کا معاملہ ہو یا مشرق وسطیٰ اور افغانستان کا معاملہ‘ انہیں کسی بھی موضوع پر چھیڑ دیاجاتا تووہ بھرپور جواب کے لئے تیار ہو جاتے ۔

شیخ صاحب تعلق تو ہر ایک کے ساتھ رکھتے تھے لیکن اپنے نظریات کے معاملے میں بڑے ہی پختہ واقع ہوئے تھے۔ ایک واضح سوچ اور فکر رکھنے والے دانش ور تھے ۔ ایسے خوبصورت انسان اور اپنے نظریات کے ساتھ کمٹڈ شخص کے متعلق ہی کسی نے کہا تھا کہ ایسے لوگ مُدتوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔

آج راقم السطور سمیت برادرم شبیر احمد میواتی، مولانا عبد الجبار سلفی، مولانا عبدالوحید اشرفی، محمد افضال، حافظ ندیم، فیصل عزیز اور محمد سہیل طیب سراپا غم بنے ہوئے ہیں کہ جن کے ساتھ شیخ صاحب کی محفلیں سجتی تھیں۔ ان دوستوں کے علاوہ بھی شیخ صاحب کا ایک وسیع حلقہ تھا ۔ شیخ صاحب جب کبھی روزنامہ اسلام کے دفتر تشریف لا تے تو باہر ہوٹل پر بیٹھ کر ان کے ساتھ نشستیں برپاہوتیں۔ کبھی ہمارے گھر کے قریب سے گزرتے تو فون کرتے کہ” یار میں قریب ہی ہوں ۔آپ کے پاس آجاﺅں ،ذرا گپ شپ ہو جائے”۔بسا اوقات کسی کام کے سلسلے میں میرے دفتر تشریف لاتے یا مجھے فون کرتے تو مجھے ان کے کام آکر خوشی محسوس ہوتی ۔ ایک موقع پر کہنے لگے : ”یار میں نے آپ کو فلاں کام کہا تھا وہ کام تو نہیں ہوا لیکن آپ بھرپور شکریے کے مستحق ہیں کہ آپ نے اس کے لیے پوری کوشش کی تھی“۔ شیخ صاحب دوستوں کے معاملے میں ایسے ہی حساس واقع ہوئے تھے۔ لوگوں کے دکھ درد،احساسات کو محسوس کرنے والے انسان تھے۔

مذید پڑھیں :صحرائے تھر میں قائم اسکول منفرد فنِ تعمیر کا شاہکار

حافظ ابوبکر شیخ کے والد گرامی کا نام شیخ محمود احمد عارف ہوشیارپوری رحمہ اللہ تھا۔آپ ایک بڑے اللہ والے اور صاحب ریاضت بز رگ تھے۔مولانا سید حامد میاں ؒ کے خلیفہ تھے۔ شیخ محمود احمد عارف ہوشیارپوری قادر الکلام شاعر اور دیب بھی تھے۔ہفت روزہ خدام الدین ، ترجمان اسلام اور انوار مدینہ جیسے جرائد میں ان کا صوفیانہ کلام تواتر کے ساتھ شائع ہوتا۔ان کی دکان اندرو ن لاہور بانسانوالہ بازار میں واقع تھی جسے جے یو آئی کے دفتر کی حیثیت حاصل تھی۔یہاں مولا ناغلام غوث ہزارویؒ، مولانامفتی محمودؒ سمیت بہت سے اکابر تشریف لاتے۔شیخ محمود احمد عارف کا دیگر بزرگوں کے ساتھ بھی قریبی تعلق رہا۔برادرم شبیر احمد میواتی شہر لاہور کاایک اہم علمی حوالہ ہیں ، وہ شیخ محمود احمد عارف کی بہت سی ایمان افروز باتیں بتاتے ہیں ۔ میواتی صاحب نے شیخ محمود احمد کا مکمل کلام محفوظ کر لیا ہے جو کتابی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔

حافظ ابوبکر شیخ کے دادا جان جمعیت علمائے ہند سے وابستہ تھے ۔ یوں شیخ صاحب کو دین سے گہری وابستگی اور دینی تحریکوں کے ساتھ محبت ورثے میں ملی تھی ۔ شیخ صاحب اپنی مجالس میں اپنے دادا جان اور والد گرامی کا ذکر خیر اس انداز سے کرتے کہ جیسے انہیں اس تعلق اورحسب نسب پر ہرگز گھمنڈ نہ ہو۔اپنے بزرگوں کی باتیں کرتے ہوئے ان میں عاجزی کاپہلو اور بھی نمایاں ہوجاتا۔ ان میں ”پدرم سلطان بود“والا معاملہ بالکل نہ تھا۔

شیخ صاحب کا ذریعہ معاش یہ تھا کہ تعمیر اتی شعبے سے وابستہ تھے اور ٹھیکیداری کر کے، سخت محنت کرکے اپنے بچوں کے لیے رزق حلال کا اہتمام کرتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان جریدے ”الجمعیة “اور دیگر تنظیمی سرگرمیوں کے لیے باقاعدہ وقت نکالتے۔ خوب مطالعہ کرتے اور تبصرے تجزیے تحریر کرتے۔ انہوں نے جس سمجھ داری کے ساتھ اپنے قلم کو استعمال کیا وہ انہی کا خاصا تھا۔الجمعیة کے مضامین اور سوشل میڈیا پر ان کے تبصروں اور تجزیوں کو بہت مقبولیت حاصل رہی۔ انہوں نے شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ سمیت دیگر موضوعات پر چند چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی مرتب کیں۔ ان میں تنظیمی کام کا اتنا جذبہ تھا کہ ایک مرتبہ کسی دوست نے فقرہ اچھالا کہ ”شیخ جی، آپ اس قدر جے یو آئی کے لیے اپنا قیمتی وقت صرف کرتے ہیں ۔ جماعت آپ کی کچھ مالی معاونت بھی کرتی ہے یا آپ کو صرف”جنت“کا خواب دکھایا ہوا ہے ؟؟“۔

مذید پڑھیں :دیپ اور جنگ یونین کا صحافیوں کے مسائل حل کرنے کیلئے مُشترکہ جدوجہد پر اتفاق

شیخ صاحب مسکرا کر فرمانے لگے : ”بھائی ۔اللہ کے فضل سے جنت میں جانا تو یقینی ہے ۔ جنت ہماری منتظر ہے ، جنت میں نہ جانے والی تو کوئی بات ہی نہیں ۔ باقی رہا دنیا میں معاوضے کا معاملہ تو مجھے الحمد اللہ اس کی کچھ طلب نہیں کیونکہ اللہ کریم اس نیک کام کے صدقے میری سوچ سے بھی بڑھ کر مجھے نوا ز رہے ہیں“۔

آج میں اکیلے بیٹھا خود کلامی کررہاہوں کہ شیخ صاحب ! آپ رمضان کریم کے مقدس مہینے میں اور روزے کی حالت میں ٹریفک حادثے کا شکار ہونے کے بعد شدید زخمی ہوئے اور پھر اللہ کو پیارے ہو گئے ۔آپ نے ساری زندگی دین کی فکر میں گزار دی اور دین کی خدمت کرتے کرتے جان دے دی ۔ جنت تو وا قعی آپ کی منتظر تھی۔ آپ تو واقعی سچ کہتے تھے ۔غلطی ہم سے ہوئی ، بھول ہم سے ہوئی۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *