مولانا فضل الرحمن کو صدر پاکستان ، بلوچستان حکومت کی پیکش کی گئی ہے .

اسلام آباد ، شہزاد ملک

مولانا فضل الرحمن کومقتدر اداروں کی جانب سے پیغام بھیجا گیا ہے کہ وہ فی الحال آزادی مارچ کے دھرنے کو طول نہ دیں ، اس کے بدلے انہیں صدر پاکستان بنانے یا بلوچستان حکومت دی جاسکتی ہے ، تاہم مولانا فضل الرحمن نے یکسر انکار کردیا ہے .

مولانا فضل الرحمن کو یہ پیغمام بھی دیا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک سال مذید دیا جائے یا جون تک کا وقت دیا جائے کیوں کہ فی الوقت عمران خان کو ہٹانا بھی ممکن نہیں ہے ، ان میں سے کسی ایک بھی پیشکش کو مولانا فضل الرحمن نے قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے 15 ملین مارچ کرکے بار بار متنبہ کیا تھا مگر اس وقت ہماری بات کو اہمیت نہیں دی گئی .

جس کے بعد مولانا فضل الرحمن کو کہا گیا کہ ہم آپ کو ڈاکٹرعارف علوی کی جگہ صدر پاکستان بنایا جاسکتا ہے ، جس کے بعد مولانا نے کہا کہ ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کہ تحریک انصاف کی حکومت ہو اور ہم وزیر اعظم بنیں یا صدربنیں .رہی بلوچستان حکومت دینے کی پیشکش تو ہم چاہتے تو ہماری پاس تحریک انصاف سے فگرز تھے ہم بنا سکتے تھے مگر ہم نے کسی بھی صورت اس حکومت کا حصہ نہیں ہو سکتے چاہئے اس کی صورت کوئی بھی ہو .

ذرائع کا کہنا ہے کہ رہبر کمیٹی کو بائی پا س کرتے ہوئے چوہدری برادارن نے مولانا فضل الرحمن سے براہ راست ملاقات اسی لئے کی تھی کہ انہیں مقتدر حلقوں کا پیغام دیا جاسکے اور انہیں اس پر قائل بھی کیا جاسکے ،چوہدری شجاعت حسین نے مولانا فضل الرحمن کو یہ بھی کہا کہ عمران خان کو اداروں نے ایک سال مذید دینے کا کہا ہے اور ہوسکتا ہے کہ جون تک فارغ کردیا جائے .اس کے بعد ان ہاؤس تبدیلی یا کسی دوسرے آپشن جس میں فارن فنڈنگ کیس کے تحت عمران خان کو ہٹا دیا جائے شامل ہے .

تاہم مولانا فضل الرحمن اپنے دیرینہ مطالبہ پر قائم ہیں اور انہوں نے واضح کردیا ہے کہ اب میں عوام کو لیکر نکلا ہوں لہذاہ اب بغیر استعفی لیئے واپسی نہیں ہو گی .

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *