اسمال ٹریڈرز ایسوسی ایشن نے بھی مارکیٹیوں کی بندش کا فیصلہ مسترد کر دیا

کراچی : آل پاکستان آرگنائزیشن آف اسمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریز کراچی کے صدر محمود حامد نے این سی او سی کی جانب سے 12 مئی سے 19 مئی تک مارکیٹیں بند کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے ۔

انہوں نے کراچی میں ایس او پی کے نام پر تاجروں پر کروڑوں روپے جرمانے  گرفتاریوں  اور تاجروں کے ساتھ تھانوں میں توہین آمیز سلوک  کی  پرزور مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا حکومت نے مارکیٹیں بند کرا دی ہیں اور تھانوں کو منڈی بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر ملک کی معیشت میں  بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

کراچی سے 70 فیصد ریونیو قومی خزانے میں جمع کیا جاتا ہے وہاں کے تاجروں کے ساتھ توہین آمیز نا قابل برداشت ہے۔محمود حامد نے اپنے بیان میں میں کہا کہ اگر مارکیٹوں کو بند کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا   اور تاجروں کو تیسرے درجے کا شہری سمجھ کر ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک  بند نہ کیا گیا تو تاجر بھرپور احتجاج کریں گے۔

مذید پڑھیں :صحرائے تھر میں قائم اسکول منفرد فنِ تعمیر کا شاہکار

انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ چاند رات تک  تمام چھٹیاں ختم کرے اور مارکیٹوں کے اوقات دن 12 بجے سے رات 12 بجے تک مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ کورونا صرف چھوٹی مارکیٹوں میں آ تا ہے بڑے بڑے شاپنگ سینٹرز میں ریلیوں اور الیکشن مہمات میں نہیں آتا۔

اسمال ٹریڈرز کے صدر  محمود حامد نے کہا  کہ گزشتہ سال بھی کورونا کی پابندیوں کی وجہ سے تاجروں کے اربوں روپے ڈوب گئے  اب بھی اگر ظالمانہ پالیسیاں اور من مانے فیصلے  ہوئے تو تاجر شدید مالی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔

انہوں نے بی ایم جی اور کراچی چیمبر کی  قیادت کے جرات مندانہ موقف کو سراہا اور انہوں نے بی ایم جی کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اس نازک مرحلے پر ٹھوس لائحہ عمل کا اعلان کریں تاجر انشاء اللہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *