مولانا فضل الرحمان کے حامی کون؟

تحریر: عبدالجبارناصر

آج کل کچھ عناصر تین بیانیوں کی بنیاد پرپروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ جن میں پہلا بیانیہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو تمام مذہبی مکاتب فکر کے نہیں بلکہ ایک مکتبہ فکر کے بھی ایک خاص گروپ کی حمایت حاصل ہے۔

دوسرابیانیہ یہ ہے کہ مولانافضل الرحمان کواپنے مکتبہ فکر کے اکابرعلماء کرام اور مشائخ عظام کی حمایت حاصل نہیں ہے،بلکہ مولانا فضل الرحمان سے اکابر علماء اور مشائخ نے فاصلہ اختیار کیا ہوا ہے۔ تیسرا بیانیہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان صرف مذہبی رہنماء ہیں اورعمومی ملکی سیاست اورمذہبی اقلیتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ان تینوں بیانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
مثلاً
اہلسنت (بریلوی) مکتبہ کے سب سے بڑے عالم، تنظیم المدارس پاکستان کے صدر مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان کا پیغام ’’ریاست و حکومت جواب دے!‘‘ قارئین خود ہی پڑھ لیں اور بریلوی مکتبہ فکر کی حقیقی نمائندہ جماعت جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور علامہ شاہ احمد نورانی رحمہ اللہ کے فرزند شاہ محمد اویس نورانی صدیقی اور انکی جماعت روز اول سے مولانا کے ساتھ کھڑی ہے۔

اہلحدیث مکتبہ فکر کی حقیقی نمائندہ جماعت مرکزی جمعیت اہلحدیث کے امیر اور وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے صدر سینیٹر پروفیسر علامہ ساجد میراور ان کے ساتھی اسٹیج پر مولانا فضل الرحمان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ دونوں مکاتب فر کے دیگر جماعتوں رہنمائوں اورعلماء کے تائیدی پیغامات بھی سوشل میڈیا میں موجود ہیں۔
یہ بات تو طے ہوگئی کہ پہلا بیانیہ میں حقیقت نہیں ہے اور یہ کہ مولانا فضل الرحمان کسی خاص مسلک یا مکتبہ فکر کے نہیں بلکہ تمام مذہبی طبقہ کے حقیقی نمائندہ ہیں اور سب کی تائید حاصل ہے۔(اہلتشیع کے کسی عالم یا رہنماء کو اسٹیج پر دیکھا اور نہ کوئی بیان نظر سے گزرا)۔
رہی بات اپنے اہلسنت (دیوبند)مکتبہ فکر کی تو عالمی مجلس تحفظ ختم بنوت کے مرکزی امیر اور وفاق المدارس العربیہ پاکستن کے صدر شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی، پیر طریقت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی، مفتی سید مختار الدین شاہ (کربوغہ شریف)، شیخ الحدیث مفتی زرولی خان، پیر عزیز الرحمان ہزاروی، مولانا ڈاکٹر منظور مینگل، عالمی مجلس تحفظ ختم بنوت کے مولانا اللہ وسایااور دیگر اکابر علماء و مشائخ کی ایک طویل فہرست ہے ،جن کی تائید و حمایت مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہے۔

تویہ بات بھی واضح ہوگئی کہ دوسرا بیانیہ بھی فراڈ ہے۔ جہاں تک رہی بات سیاسی جماعتوں کی تو آزاد مارچ میں دونوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماء، مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف صاحب ، صدر میاں شہباز شریف، مریم نواز شریف اور دیگررہنمائوں کی مکمل تائید و حمایت رہی ہے(ان جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات اور ایشوزکی بنیاد پر کچھ فاصلہ رکھا ہے مگرمولانا فضل الرحمان کی تائیدو حمایت جاری رکھی ہے)، حقیقی قوم پرست جماعتوں پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر محمود خان اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر افند یار ولی خان، بلوچستان کی نمائندہ جماعت نیشنل پارٹی کے سینٹر میر حاصل خان بزنجو، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اور دیگر قوم پرست جماعتوں کی تائیدو حمایت مولانا فضل الرحمان کو حاصل ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں اقلیتی نمائندے بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

مطلب یہ کہ تیسرا بیانیہ بھی فراڈ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کے وکلاء، مذہبی اقلیت، صحافی، مزدور، بے روز گار، مہنگائی کے شکار عوام اوردیگر پسے ہوئے طبقات کے نمائندوں کی تائیدو حمایت مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہے اور ان طبقات کے حوالے سے سوشل میڈیا میں بڑا مواد موجود ہے۔ سب مولانا فضل الرحمان کے #ازادی_مارچ کے حامی ہیں۔

مختصر یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان اس وقت پاکستان کے تمام طبقات کے حقیقی نمائندہ ہیں اور سب کے حقوق کی بات بلکہ سب کا فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں.

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *