حکومت 5 ماہ میں فیڈرل سروس ٹربیونل کے ممبران کی تقرریاں نہ کر سکی

اسلام آباد : فیڈرل سروس ٹربیونل آئینی ادارہ ہونے کی وجہ سے لاوارث پڑا ہے ۔ جہاں سائلیں کی ہزاروں درخواستیں التوا کا شکار ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق فیڈرل سروس ٹربیونل کے تمام ممبران 5 ماہ قبل ریٹائرڈ ہو گئے تھے ۔ جس کے بعد سے اب تک حکومت کی عدم توجہی سے کوئی بھی ممبر تعینات نہیں ہو سکا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہزاروں کیس زیر التوا ہیں ۔

واضح رہے کہ مذکورہ ادارے میں سرکاری ملازمین کے ہی کیسز کی شنوائی ہوتی ہے ، سروس ٹربیونل میں عدم تعیناتیوں سے متعلقہ سرکاری افسران کو تاخیر کا سامنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان افسران کے اپنے اپنے اداروں میں بھی کام رکے ہوئے ہوتے ہیں ۔ فیڈرل سروس ٹربیونل کی پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں جب کہ اس کے علاوہ کراچی اور لاہور میں ہی اس کی سیٹ موجود ہیں ۔ تینوں شہروں میں ہزاروں کیسز سماعت کے لئے پڑے ہوئے ہیں تاہم ممبران (ججز ) نہ ہونے سے کیسوں کی سماعت نہیں ہو رہی ہے ۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم کو بھی ایڈووکیٹ مدثر لطیف عباسی نے ایک طویل خط لکھا ہے جس میں مدثر لطیف ایڈووکیٹ نے لکھا ہے کہ اس وقت سروس ٹربیونل میں کوئی بھی ممبر موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے پرانے ہزاروں کیسوں کے علاوہ یومیہ درجنوں مذید کیسز آ رہے ہیں ۔

مذید پڑھیں :بلاول بھٹو زرداری نے شکایت کے بغیر دوبارہ گنتی کو نئی روایت قرار دے دیا

خط کے مطابق حکومت عوامی مفاد کے پیش نظر جلد از جلد تعیناتیاں کی جائیں ۔ مجھے آپ کے پراعتماد انداز میں یہ کام ضرور ترجیعی بنیادوں پر حل کریں گے ۔ مذکورہ لیٹر 30 اپریل کو لکھا گیا تھا ۔

معلوم رہے کہ27 مارچ 2018 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے فیڈرل سروس ٹربیونل (ایف ایس ٹی) کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی میں چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت شامل کرنے سے متعلق سروس ٹربیونل (ترمیمی) بل منظور کیا تھا ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سروس ٹربیونل ایکٹ 1973 کے تحت صدر مملکت ہی ایف ایس ٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کا حق رکھتے تھے ۔جس کے بعد ترمیمی بل کے بعد ایف ایس ٹی میں کسی بھی قسم کی تعیناتی میں چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت بھی شامل ہو گی ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *