شہر میں چھالیہ اور ایرانی ڈیزل کا عام مارکیٹیوں میں فروخت کیا جارہا ہے ، رپورٹ

رپورٹ : عبداللہ ہمدرد

کراچی ، پولیس کارروائیوں میں پکڑی جانے والی چھالیہ کی بڑی مقدار اور ہزاروں لیٹر ایرانی ڈیزل کا عام مارکیٹ میں فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے ، مختلف پولیس تھانوں میںپکڑی گئی اشیاء کو کسٹم انٹیلی جنس کراچی کے حوالے کیا جاتا ہے ، پولیس کے ریکارڈ میں ممنوعہ سامان کی حوالگی کسٹم افسران کو کی گئی کسٹم کے ریکارڈ میں پولیس کارروائیوں کا زکر ہی غائب کردیا گیا ۔

ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کراچی کی کارکردگی کو نقصان پہچانے میں سابق کسٹم افسران کے آشیرباد سے تعینات اہلکار و افسران نے سرگرمیاں تیز کردی ہیں ، جس کے باعث چھالیہ اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی عام مارکیٹ میں فروخت عروج پر پہنچ گئی ہے ۔

ذرائع کے مطابق رواں برس کراچی پولیس کے مختلف تھانوں نے بلوچستان کے راستے کراچی میں داخل ہونے والی چھالیہ کی بڑی تعداد اور ہزاروں لیٹر ڈیزل پکڑ کر اسمگلنگ میں ملوث مافیا کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا بعد ازاں پولیس نے کاغذی کارروائی کے بعد پکڑی گئی ممنوعہ اشیاءکو کسٹم انٹیلی جنس کے حوالے کرنا لازم ہوتا ہے جس کے لئے متعلقہ تھانیدار جس کسٹم اہلکار یا افسر کے حوالے کرتا ہے اس کے نام کا اندراج کرتا ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ رواں برس گڈاپ سٹی پولیس نے85 ہزار لیٹر ایرانی ڈیزل مختلف کارروائیوں میں ضبط کیا جب کہ دو ٹن مضر صحت چھالیہ بھی ضبط کی گئی ، جسے پولیس ریکارڈ کے مطابق کسٹم انٹیلی جنس میں تعینات اہلکاروں سید اظہار نقوی ، عدنان ، شہزاد ، خیام حسین ، سید عدنان کے حوالے کیا گیا تاہم یہ سامان پولیس اسٹیشن سے نکل کر ڈائریکٹوریٹ آف کسٹم انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن کے دفتر نہیں پہنچا اور عام مارکیٹ میں اسمگلروں سے رابطے کار کو فروخت کردیا گیا ۔

ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ ممنوعہ اشیاء کا ریکارڈ آج بھی کراچی پولیس کے مختلف تھانوں میں موجود ہے ، جب کہ کسٹم انٹیلی جنس کراچی کے پاس ان ممنوعہ اشیاء کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کسٹم حکام ضبط کئے گئے ایرانی ڈیزل کو آکشن کے ذریعے فروخت کر کے قومی خزانے میں رقم جمع کراسکتے تھے ، جب کہ مضر صحت چھالیہ کو تلف کرنے کا اختیار بھی کسٹم حکام کے پاس موجود ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ کسٹم انٹیلی جنس کراچی میں بعض اہلکار کسٹم کے سابق افسران کے ساتھ تاحال رابطے میں ہیں اور یہ ہی وجہ کہ یہ گروہ کسٹم انٹیلی جنس کراچی کی اچھی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے جس سے ایسے افسران کو بدنام کیا جاتا ہے جو اس وقت ان مافیا کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *