حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا مختصر تعارف

تحریر : مولانا محمد یوسف ہزاروی

نام ونسب ولقب

آپ کا نام علی رضی اللہ عنہ ہے اور کنیت ابو الحسن اور ابو تراب ہے ۔ آپ کا لقب حیدر کرار اور مرتضی اور اسد اللہ تھا ۔ آپ کے والد کا نام ابو طالب تھا ۔ آپ کا سلسلہ نسب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بہت قریب ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے والد محترم حضرت عبد اللہ کے حقیقی بھائی تھے اور آپ رضی اللہ عنہ اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم دونوں چچا زاد بھائی تھے ۔

آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ کانام فاطمہ بنت اسس بن ہاشم تھا ماں اور باپ دونوں کی طرف سے آپ ہاشمی تھے ۔ آپ کے والد تو مسلمان نہیں ہوئے تھے ۔ مگر والدہ ماجدہ مشرف باسلام ہوگئی تھیں اور انہوں نے ہجرت بھی کی تھی ۔ ( تاریخ اسلام ج 1 ص 359) ۔

ولادت مبارک
آپ کی ولادت ہجرت سے تقریبا 23 سال قبل بعثت نبوی سے دس سال قبل 13 رجب کو مکہ میں ہوئی ۔ ( حکمران صحابہ 246)
داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا منصب

جس طرح سے حضرت عثمان غنی اور ابوالعاص رضی اللہ عنہما آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کوبھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے داماد ہونے کاشرف حاصل ہے آپکی چہیتی بیٹی اور چھوٹی لخت جگر فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا آپ کےنکاح میں آئیں یہ سن 2 ھجری کی بات ہے ۔

غزوات میں شرکت
آقا کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دور میں مختلف جنگیں کی اور مختلف غزوات میں پیش پیش رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شرکت فرمائی ۔

مذید پڑھیں :دیار خلافت کا سفر شوق (اکتیسویں قسط)

فہرست مندرجہ ذیل ہے ۔

1 غزوہ بدر 18 رمضان 2 ھجری
2 غزوہ احد 3 ھجری
3 بنو سعد کی سر کوبی 5 ھجری
4 غزوہ خندق 5 ھجری
5 صلح حدیبیہ معاہدے کی عبارت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لکھی 6ھجری
غزوہ خیبر 7 ھجری
ان کے علاوہ اور بھی مختلف جنگیں فرمائیں
شہادت حیدر کرار رضی اللہ عنہ
جب آپ رضی اللہ عنہ کو خلافت ملی تو آپ نے دارالخلافہ مدینہ کی بجائے کوفہ بنالیا تھا اور کوفہ ہی میں عبدالرحمن بن ملجم ایرانی نماز فجر کے وقت جامع مسجد کوفہ میں 18 رمضان بروز جمعہ کو حملہ کیا ابن ملجم کی تلوار کا زخم آپ رضی اللہ عنہ کی کنپٹی تک جا پہنچا ۔ زخم اتنا گہرا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ اسی زخم کی وجہ سے چند دن بعد 21 رمضان المبارک 40 ھجری کو شہادت نوش فرما گئے ۔

مدت خلافت حیدر کرار رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت 21 رمضان 40 ھجری تک تقریبا 22 لاکھ مربع میل پر تین دن کم پانچ سال تک خلافت کی بھاگ دوڑ سنمبھالی ہے ۔

مذید پڑھیں :واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کا ’’عیدی‘‘ کیلئے شہریوں کے کنکشن منقطع کرنا شروع

ازواج و اولاد

آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی میں متعدد نکاح کیئے اور آپ کی کثرت سے اولاد بھی ہوئیں ۔

1 حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ۔
حسن ؛ حسین ،، محسن ،، ام کلثوم بن علی المرتضی رضی اللہ عنہم ۔

2 امالبنین بنت حرام کلدبیہ سے کیا ان سے عباس جعفر عبداللہ عثمان بن علی المرتضی رضی اللہ عنہم ۔

3 لیلی بنت مسعود سے ہوا ان سے عبداللہ اور ابوبکر بن علی المرتضی رضی اللہ عنہم ۔

4 اسماء بنت عمیس سے ان سے محمد الاصغر عون یحیی بن علی المرتضی رضی اللہ عنہم ۔

5 امامہ بنت ابی العاص سے ان سے محمد الاوسط بن علی المرتضی رضی اللہ عنہما ۔

6 خولہ بنت جعفر سے ان سے محمد الکبیر جنکو محمد بن الحنفیہ بھی کہاجاتا ہے رضی اللہ عنہما ۔

7 صہباء بنت ربیعہ سے ہوا ان سے ام تحسین رملہ الکبری اور ام کلثوم صغری پیدا ہوئیں ۔

8 ام سعید بنت عروہ بن مسعود سے تین صاحبزادیاں پیدا ہوئیں ۔

9 ممیات بنت امراء القیس بن عدی کلبی سے ہوا ۔ ان کے بطن سے ایک لڑکی پیداہوئ جو کم سنی میں فوت ہوگئی تھیں ( تاریخ الاسلام ج 1 426 خلفائے راشدین ص 687) ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *