راشن کا تھیلا

تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

سنیے ! میری اہلیہ نے مجھے ڈرتے ڈرتے آواز دی ۔
ہاں بولو! میں نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتےاور اپنی بے بسی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
دو دن سے گھر میں کچھ نہیں ہے سحری میں کچھ نہ بھی ہو لیکن افطار میں کم ازکم اتنا کھانا تو ہو کہ ہمارا نہیں کم ازکم بچوں کا ہی پیٹ بھر جائے ۔

یہ سُن کر میں نے کرسی پرسر ٹکا لیااور چھت پر گھومتے پنکھے کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگا کہ گردشِ زمانہ کہاں سے کہاں لے آئی سوتے ہوئے بچوں کو دیکھا جو بھوک سے بے حال سو رہے تھے تو اپنی بے بسی پر میری آنکھوں سے آنسو نکلنے لگےمیں نہیں چاہتا تھا کہ میرے یہ آنسو میری بیوی بھی دیکھے ابھی اسی سوچ میں تھا کہ دروازے پر کسی نے دستک دی ۔
جلدی جلدی آنسو پونچھے اور دروازے پر پہنچا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ عبداللہ بھائی

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شارق بھائی ! میں نے خوشدلی سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا۔
عبد اللہ بھائی ! وہ آج ہم نے راشن کے تھیلے تقسیم کرنے ہیں آپ تو انجمن کے سابق ناظم بھی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے ہاتھوں سے ہی یہ تھیلے تقسیم ہوں ۔۔۔

پروگرام کب اور کہاں ہے ؟ میں نے پوچھا۔
شارق بھائی نےپروگرام کی تفصیل مجھے بتائی ۔
ہاں ہاں ! بالکل ! میں ان شاء اللہ حاضر ہو جاؤں گا۔
واپس گھر میں داخل ہو ا تو اہلیہ نے پوچھا :کون تھا؟
انجمن کے ایک دوست تھے شارق بھائی !
خیریت تو ہے ۔۔۔اہلیہ نے پوچھا۔

مذید پڑھیں :کراچی SBCA کے محکمہ ڈیمالیشن نے انہدامی کارراوئیوں کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا

ہاں خیریت ہے محلے میں راشن تقسیم کرنا ہے ۔۔۔میں نے دبے لفظوں میں کہا۔
دیکھیں !اللہ نے کیسی مدد کی ہے ہماری ، بس تو ایک راشن کا تھیلا آپ بھی لے آئیے گا میری اہلیہ کے چہرے پر امید کی ایک چمک آئی ۔
کیسے لے آئیے گا میں وہاں راشن تقسیم کرنے جا رہاہوں بحیثیت مہمان کے۔۔۔میں ان سے کہوں کہ بھائی میرے گھر میں بھی دو دن سے کچھ نہیں پکا ،میرے گھر میں راشن نہیں ہےایک تھیلا مجھے بھی دے دو ؟؟؟میری چڑ چڑاہٹ نمایاں تھی ۔
میری اہلیہ میری سفید پوشی کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھی کہنے لگی اچھا تو آپ یوں کہہ دیجیے گا نا کہ ایک تھیلا ہمیں بھی دے دو ہمیں کسی کو دینا ہے ۔۔۔۔

یعنی جھوٹ بولوں کسی کے نام سے لوں اور خود کھا جاؤں ۔۔۔میں نے کچھ سخت لہجے میں کہا۔
شام میں اپنا بہترین سوٹ نکالا واسکٹ پہنی اور پروگرام میں جانے کے لیے گھر سے نکلنے لگا تو اہلیہ کی آنکھوں کے آنسو مجھے سے فریاد کررہے تھے ۔۔۔میں انہیں نظر انداز کرکے گھر سے نکل گیا حالانکہ سچ تو یہ ہے میری اپنی کیفیت بھی یہ ہی تھی ۔
پروگرام میں پہنچا تو کرسی صدارت پیش کی گئی مجھ سے بھی خطاب کا کہا گیا ۔

مزید پڑھیں :واٹر بورڈ اینٹی تھیفٹ سیل کا ’’عیدی‘‘ کیلئے شہریوں کے کنکشن منقطع کرنا شروع

میں نے اپنی گفتگو کی اور یہ آیت تلاوت کی
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ ﳔ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ(۲۵)
اور وہ جو اپنا نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کہے گا ہائے کسی طرح مجھے اپنا نَوِشْتَہ(نامۂ اعمال) نہ دیا جاتا
وَ لَمْ اَدْرِ مَا حِسَابِیَهْۚ(۲۶)
اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے
یٰلَیْتَهَا كَانَتِ الْقَاضِیَةَۚ(۲۷)
ہائے کسی طرح موت ہی قصّہ چکا جاتی
مَاۤ اَغْنٰى عَنِّیْ مَالِیَهْۚ(۲۸)
میرے کچھ کام نہ آیا میرا مال
هَلَكَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَهْۚ(۲۹)
میرا سب زور جاتا رہا
خُذُوْهُ فَغُلُّوْهُۙ(۳۰)
اسے پکڑو پھر اسے طوق ڈالو
ثُمَّ الْجَحِیْمَ صَلُّوْهُۙ(۳۱)
پھر اسے بھڑکتی آ گ میں دھنساؤ
ثُمَّ فِیْ سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُوْنَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوْهُؕ(۳۲)
پھر ایسی زنجیر میں جس کا ناپ ستر ہاتھ ہے اسے پرو دو
اِنَّهٗ كَانَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ الْعَظِیْمِۙ(۳۳)
بے شک وہ عظمت والے اللہ پر ایمان نہ لاتا تھا
وَ لَا یَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِؕ(۳۴)
اور مسکین کو کھانا دینے کی رغبت نہ دیتا
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا
کھانا کھلاؤ اورسلام عام کرو اوراپنے رشتہ داروں سے رشتہ جوڑو اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ آرام سے سور رہے ہوں تو تم سلامتی سے جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔” (ترمذی ،کتاب صفۃ القیامۃ ، باب ۴۲، ج۴ ، رقم۲۴۹۳،ص ۲۱۹ )
میں مبارکباد پیش کرتا ہوں انجمن کے ساتھیوں کو کہ انہوں نے اتنا زبردست کام کیا نہ جانے کتنے بے روزگار ، مفلوک الحال اور غربت کے ستائے ہوئے لوگ جن کے گھر میں راشن نہیں چند دن کی آسودگی ضرور نصیب ہو جائے گی ۔
اس کے بعد شارق بھائی نے مجھ سے کہا ۔

مذید پڑھیں :پائما کا سیلز ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کیلئے 31 مئی تک توسیع کا مطالبہ

عبد اللہ بھائی! آئیے اور راشن تقسیم کیجیے ۔۔۔یہ وقت مجھ پر بہت سخت تھا میں جب بھی تھیلا دیتا میرا دل چاہتا کہ کہوں کہ بھائیو! ایک تھیلا مجھے بھی دے دو ۔۔۔ایک تھیلا میرے لیے بھی رکھ دو میرے گھر میں بھی بچوں نے دو دن سے کچھ نہیں کھایا میں اور میری بیوی بھی بغیر سحر وافطار کے روزہ رکھ رہے ہیں ۔۔۔مگر میری سفید پوشی مجھے اجازت نہیں دیتی تھی کہ میں یہ کہہ سکوں پروگرام کے بعد میں خالی ہاتھ بوجھل قدموں سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ گھر پہنچا تو اہلیہ کی آنکھوں میں امید جگمگا رہی تھی لیکن خالی ہاتھوں کو دیکھ کر اس کی آنکھیں پھر برسنے لگیں ۔۔۔اور میں نڈھال ہو کر کرسی پر ڈھے گیا ۔

دوستو! یہ ایک سچی کہانی ہے آس پاس دیکھیے بہت سے سفید پوش ہیں جو زبان سے کہہ نہیں پاتے ان کی سفید پوشی کا بھرم رکھیے اور آپ اگر اپنے ساتھیوں کے حالاتِ زندگی سے ہی غافل ہیں تو حیرت ہے آپ ویلفئیر کا کام کیسے کر سکتے ہیں؟ پہلے اپنے آس پاس عزیز و اقارب کو دیکھیے لوگوں کی رقم آپ کے پاس امانت ہے۔۔۔۔
پھٹے پرانے کپڑوں میں دولت مند فقیروں کو دینے سے پہلے سفید سوٹ اور بیلک واسکٹ میں آنے والے سفید پوش کو بھی دیکھ لیجیے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *