حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے آخری ایام:قاتلانہ حملے سےشہادت تک

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے آخری ایام:قاتلانہ حملے سےشہادت تک
تحریر : مولانامحمدجہان_یعقوب

تاریخ بتاتی ہے کہ باطل اپنی مکارانہ اور شاطرانہ سازشوں اور منصوبوں پر عمل در آمد میں آہستہ آہستہ آگےبڑھاہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش میں بھی یہی اصول ہمیں کارفرما نظر آتا ہے۔اُن کا قاتل عبد الرحمن بن ملجم مکہ سے نکلا اور دغابازی، دھوکادہی، بے وفائی اور بے مروتی کے شہر کوفہ پہنچا۔ وہاں پہنچ کر اپنے خارجی دوستوں سے رابطہ کیا۔ یہاں کوفہ میں خارجی کثیر تعداد میں آباد تھے۔ ان کی مدد اور تعاون کے ساتھ اس مردود نے ایک اور شبیب بن بجرہ نامی شخص کو اپنے ساتھ ِاس منصوبے میں شامل کیا ،پھر کچھ وقت وہاں شہر میں مسلمانوں اور امیر المؤمنین کے روز مرہ معمولات پر نظر رکھنے کا کام کرتا رہا۔اسی دوران دو مرتبہ امیر المؤمنین کی خدمت میں حاضر ہوا۔ رویات سے ثابت ہے کہ سیدنا علی کے دل میں آنے اور ہونے والے حادثے کا احساس پیدا ہوگیا تھا ۔عبد الرحمن دو مرتبہ بیعت کے لیے آیا ور آپ نے اسے خالی ہاتھ واپس کردیا ۔ جب بھی یہ مردود آپ کے سامنے آتا تو اُسے دیکھتے ہی آپ محسوس کرتے کہ اس کے ہاتھ خون سے رنگین ہونے والے ہیں۔جب تیسری مرتبہ عبد الرحمن بن ملجم آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسے دیکھ کر فرمایا: اِس سب سے زیادہ بدبخت آدمی کو کیا چیز روک رہی ہے ؟
پھر اپنی داڑھی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: واللہ یہ ضرور(خون میں)رنگی جانے والی ہے۔

ایک دن یہ خطبہ ارشاد فرمایا: قسم ہے اس پرودگار کی ،جس نے بیج اگایااور جان پیدا کی،یہ( ایک بار پھر اپنے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا )خون سے ضرور رنگی جانے والی ہے۔ بدبخت کیوں انتظار کر رہاہے؟
شہادت کے دن صبح کی نماز کے لیے یہ اشعار پڑھتے ہوئے مسجد کو تشریف لے جارہے تھے:
ترجمہ:موت کے لیے کمر کس لے، کیوں کہ موت تجھ سے ضرور ملاقات کرنے والی ہے۔موت سے نہ ڈر اگر وہ تیرے ہاںنازل ہوجائے۔
مسجد کے دروازے پر پہنچے تو تلواریں چمکتی نظر آئیں اور ایک آواز بلند ہوئی: حکومت اللہ کی ہے نہ کہ علی تیری۔پھر دونوں تلواریں ایک ساتھ چلیں۔ شبیب کا وار تو دروازے پر پڑا مگر عبد الرحمن کا وار سیدھا پیشانی مبارک پر لگا اور تلوار پیشانی کو چیر کر دماغ میں اتر گئی ۔وار لگتے ہی آپ نے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا ۔۔۔اور ساتھ ہی فرمایا: قاتل جانے نہ پائے!
اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے سے پہلے اہلِ کنبہ کو جمع فرمایا اور وصیت فرمائی:

”اے حسن! یہ(قاتل عبد الرحمن)قیدی ہے، اِس کی خاطر تواضع کرو ،کھلاؤپلاؤ، نرم بچھونا دو۔ اگرمیں زندہ رہا تو اپنے خون کا سب سے زیادہ دعوے دار میں خود ہوں گا کہ قصاص لوںیا معاف کردوں ،اگر مرجاؤں تو اے بنی عبد المطلب!مسلمانوں کی خون ریزی نہ شروع کردینا ۔میرے قاتل کے سوا دوسرا کوئی قتل نہ کیا جائے، اے حسن! اگر قصاص لینے پر اصرار کرو تو چاہیے کہ قاتل کو اُسی طرح کی ضرب سے مارو جس طرح اس نے مجھے مارا ،لیکن اگر معاف کردو تو یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ دیکھو، زیادتی نہ کرنا کہ اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”
پھر آپ بے ہوش ہوگئے۔

جب ہوش میں آئے تو حضرت جندب بن عبداللہ نے حاضر ہوکر عرض کی: خدانخواستہ اگر ہم نے آپ کو کھودیاتو کیا ہم حسن کے ہاتھ پر بیعت کرلیں؟
ارشاد فرمایا:نہ میں تمھیں اس کا حکم دیتاہوں اورنہ ہی اس سے منع کرتاہوں۔ اپنی مصلحت تم بہتر سمجھتے ہو۔
خلیفۂ چہارم حضرت علی کے وصایا

اپنے صاحب زادوں حضراتِ حسنین کریمین سے مخاطب ہوکر فرمایا:
”اے حسن وحسین !میں تم دونوں کو تقوے کی وصیت کرتاہوں اور اس کی وصیت کہ دنیا کا پیچھا نہ کرنا ،اگرچہ وہ تمھارا پیچھا کرے ۔جو چیز تم سے دور ہوجائے اس پر نہ کڑھنا۔ ہمیشہ حق کہنا، یتیم پر رحم کھانا، بے کس کی مدد کرنا، آخرت کے لیے عمل کرنا، ظالم کے دشمن بننا، مظلوم کے حامی ومددگار ہونا، کتاب اللہ پر چلنا، اللہ تعالیٰ کے باب میں ملامت کرنے والوں کی پروا مت کرنا۔”
پھر اپنے تیسرے صاحبزادے محمد بن حنفیہ کی طرف دیکھا اور فرمایا: جو وصیت میں نے تیرے بھائیوں کو کی ہے، کیا تونے بھی حفظ کرلی؟
اُنھوں نے عرض کی: جی ہاں!
فرمایا: میں تجھے بھی یہی وصیت کرتاہوں ،نیز وصیت کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کے عظیم حق کا خیال رکھنا، اُن کی اطاعت کرنا، بغیر ان کی رائے اور مشورے کے کوئی کام نہ کرنا۔
پھر حسن وحسین سے فرمایا: یہ تمھارے باپ کا بیٹا ہے، تم جانتے ہو تمھارا باپ اس سے محبت کرتاہے، اس کا خیال رکھنا۔
پھر تمام مسلمانوں سے فرمایا:

” اللہ کا خوف رکھنا ،اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو آپس میں پھوٹ نہ ڈالو کہ میں نے نبی کریم ۖ سے سناہے کہ آپس کا ملاپ نماز روزے سے بھی افضل ہے۔ رسول اللہۖ کے صحابہ کرام کا خیال رکھنا کہ رسول اللہ ۖ نے اپنے صحابہ کے حق میں وصیت کی ہے۔ پڑوسیوں کا خیال رکھنا ،فقرا اور مساکین کو اپنے کھانے میں شامل رکھنا، غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اللہ کے بندوں کے ساتھ شفقت ومحبت کا رویہ رکھنا، نمازا ور زکو ٰةکی پابندی رکھنا ،نیکی اور تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے کے مددگار رہنا، گناہ اور زیادتی میں کسی کی مدد نہ کرنا ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہرگز ترک نہ کرنا، ورنہ تمھارے شریر تم پر مسلط کردیے جائیں گے پھر تم دعائیں کروگے تو قبول نہ ہوں گی۔”
پھر اپنے اہلِ بیت کو متوجہ کرکے فرمایا:’ اے اہلِ بیت!اللہ تعالیٰ تمھیں محفوظ رکھے اور اپنے رسول محمد ۖ کے طریقے پر قائم رکھے۔ میں تمھیں اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد کرتاہوں۔”

اس کے بعد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھا اور ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔
یوں خلیفہ ٔ چہارم حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ساتھ ازل سے جاری حق وباطل کی جنگ کا ایک اور باب اختتام پذیر ہوا۔ مگر آنے والے زمانوں اور زمانے کے لوگوں کی سوچ وفکر اور طرزِ عمل کے لیے بہت سے عنوان چھوڑ گیا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *