دیار خلافت کا سفر شوق (اکتیسویں قسط)

دیار خلافت کا سفر شوق (اکتیسویں قسط)
تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

دربار میں شیخ ادہ بالی کا مقام:
ارطغرل غازی کی نگاہ میں شیخ عماد الدین مصطفی ادیبالی کا کیا مقام، مرتبہ اور عظمت تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفات سے قبل ارطغرل غازی نے اپنے بیٹے غازی عثمان خان کو وصیت کی جسے بعد کے تمام عثمانی سلاطین اور خلفا اپنے لیے مشعل راہ سمجھا اور اس کو ہر دور میں غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔ اس وصیت میں ارطغرل نے عثمان خان کو اپنے شیخ ادہ بالی کے متعلق بھی خاص نصیحت کی۔ ان کے الفاظ ہیں: ”میرے بیٹے جو اپنے ماضی سے ناواقف ہو، وہ اپنے مستقبل سے بھی بے خبر رہتا ہے۔ اپنی تاریخ سے آگہی حاصل کرو تاکہ تم مطمئن ہو کر آگے کی طرف قدم رکھ سکو۔ہمیشہ یاد رکھنا تم کہاں سے آئے تھے اور تم نے جانا کہاں ہے۔بیٹا میری دل آزاری بے شک کر لینا لیکن شیخ ادہ بالی کو کبھی ناراض نہ کرنا۔وہ ہمارے خاندان کے چراغ ہیں۔ ان کا ترازو کبھی غلط نہیں ہوتا۔میرے مخالف ہو جانا لیکن ان کے خلاف نہ ہونا۔ میری نافرمانی کرو گے تو میں آزردہ ورنجیدہ ہوں گا لیکن اگر شیخ کی د ل آزاری ہوئی تو میری آنکھیں تم سے رخ موڑ لیں گی۔ میرے یہ الفاظ شیخ کیلئے نہیں تمہاری بہتری کیلئے ہیں۔“

ارطغرل نے اس وصیت نامے میں عثمان خان کو مخاطب کرکے مزید جو کچھ کہا اس کا ایک ایک جز اس لائق ہے کہ اس پر دل و جان سے عمل پیرا ہوا جائے۔ اس وصیت نامے میں سے یہ چند جملے دیکھئے اور اندازہ لگائیے کہ عثمانی سلاطین کا جد امجد کس قدر خوف خدا اور دین سے کتنی شیفتگی رکھتا تھا۔ بلا شبہ وہ اسلام کے مرد مجاہد تھے۔ ان کے پیش نظر محض اقتدار نہیں، دین کی سربلندی تھی۔ اطغرل غازی لکھتے ہیں:”بیٹا ہمیں رکنے اور آرام کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ہمیں بہت کم مدت دی گئی ہے۔تمام کاموں سے پہلے دین کے کام پر توجہ کرنا کیونکہ فرائض کا اہتمام دین و سلطنت کے استحکام کا باعث بنتا ہے۔دین کے کاموں کو لاپروا، بدعقیدہ اور راہ راست سے بھٹک جانے والے، گناہ کبیرہ کے مرتکب، حلال و حرام کی تفریق نہ کرنے والے اور ناتجربہ کار افراد کو ہرگز نہ سونپ دینا۔امور سلطنت کیلئے بھی ایسے لوگوں کے انتخاب سے گریز کرنا کیونکہ خالق کی نافرمانی کرنے والا مخلوق سے بھی کبھی وفاداری نہیں کر سکتا۔ظلم اور بدعت کے قریب نہ جانا اور ایسا کرنے والوں کو حکومت سے دور رکھنا….“

اللہ اللہ سطر سطر سے دین حق کا پیغام اور اس کا شعور جھلک رہا ہے۔

شیخ کو ان کے فقر و درویشی اور اللہ تعالیٰ سے قرب و تعلق کی بنا پر جو مرتبہ و مقام بلند عطاء ہوا اس کی جھلک آج چھ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی اس دور افتادہ علاقے میں دیکھی جا سکتی ہے۔

بیلجیک شہر کے اس علاقے کا نام جہاں شیخ ادہ بالی کا قیام اور اب مزار مرجع خلائق ہے، ابترونی تاریخ میں مرقوم ہے۔ ہم نے یہاں زیادہ تفحص نہیں کیا آج کل اس علاقے کا کیا نام ہے۔ آیا یہ علاقہ اب بھی ابترونی کہلاتا ہے یا مرور زمانہ کے ساتھ جس طرح بلاد و امصار کے نام بدل جاتے ہیں وقت کی گردش نے اس کا نام بھی بدل دیا ہے۔۔ خیال یہ ہے کہ کچھ صوتی فرق کے ساتھ اب بھی یہی نام ہوگا۔ تاہم اگر کچھ نہیں بدلا تو یہ کہ شیخ کا مقام و مرتبہ نہیں بدلا۔ ان سے لوگوں کی عقیدت و محبت آج بھی قائم ہے۔۔ نہ صرف یہ کہ وہاں کے مقامی لوگوں میں ان کی عقیدت و احترام موجود ہے بلکہ دور دراز سے یہاں سفر کرنے والے بھی یہاں پہنچ کر ان کی خدمت میں سلام عقیدت پیش کئے بنا نہیں رہتے۔۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *