صحابہ کرامؓ کی مسلسل گستاخی عذاب الٰہی کو دعوت دے رہی ہے : اہلسنّت والجماعت

کراچی : کوئی بھی موذی جانور باؤلا ہو جائے تو وہ دوسروں کیلئے خطرہ اور انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے، مملکت خدا داد پاکستان میں کچھ انسان نما ایسے باؤلے جانور بھی پائے جاتے ہیں ۔ جو کہ ملکی امن اور بھائی چارے کی فضاء کیخلاف ناسور بنتے جا رہے ہیں ۔ مقدس ہستیوں کو تحفظ دینے کیلئے دہائیاں دے دے کر تھک چکے ہیں ۔ جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کانوں میں روئیاں ٹھونس رکھی ہیں ۔

ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر اہلسنّت و الجماعت پاکستان علامہ غازی اورنگزیب فاروقی، صدر کراچی علامہ رب نواز حنفی، علامہ تاج محمد حنفی و دیگر نے طالب جوہری کے ناخلف بیٹے امجد رضا جوہری کی جانب سے حالیہ دنوں میں امام الانبیاء کے وفا دار ساتھیوں خلفائے ثلاثہؓ اور سیدہ امی عائشہ صدیقہؓ کی شان میں بد ترین گستاخی کیخلاف اہلسنّت تنظیموں کے مشترکہ ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

مذید پڑھیں :کراچی پریس کلب نے JUI کے داخلے پر عائد پابندی ہٹا دی

علامہ اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ ملک و قوم کو کرونا کے عذاب سے محفوظ رکھنے کیلئے پورا ملک جام کرنے والوں نے کبھی سوچا بھی ہے کہ اصل عذاب اور خطرہ وہ ناسور ہیں ۔ جو آئے روز کسی نہ کسی شکل میں نبی کریم کے وفا دار ساتھیوں کیخلاف اپنی ناپاک زبان چلاتے رہتے ہیں ۔

ایک طبقہ کی جانب سے صحابہ کرامؓ کی مسلسل گستاخی عذاب الٰہی کو دعوت دے رہا ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اکثریتی طبقہ کو تختہ مشق بنا کر اقلیتی طبقہ کو بے لگام چھوڑ رکھا ہے جو کہ ملکی امن و امان کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ۔ صحابہ کرامؓ کے بدترین گستاخ ملعون امجدجوہری کو گرفتار کر کے نشان عبرت نہ بنایا گیا تو حالات بے قابو ہو سکتے ہیں ۔

مذید پڑھیں :کراچی NA-249 کی دوبارہ گنتی 6 مئی ہو گی

قائدین اہلسنّت نے کہا کہ ایک طرف کرونا کی آڑ میں پورا ملک جام ، مارکیٹیں سیل ، اعتکاف و دیگر عبادات پر پابندی لیکن دوسری جانب ایک طبقے کو کرونا نے خصوصی پرمیشن دے رکھا ہے ۔ جسے سرکاری پروٹوکول میں جلسے جلوسوں کی کھلی اجازت ہے ۔

خدا را ملک پہلے ہی نازک صورت حال سے گزر رہا ہے ۔ اسے مزید تباہی کی جانب مت دھکیلیں ۔ گزشتہ سال بھی اسی طبقے کو کھلی چھوٹ دی گئی تھی ۔ جانب داری ایک وقت تک چلتی ہے اور جب برداشت سے باہر ہو جائے تو پھر ذمہ دار کون ہو گا ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *