ایکسپریس رمضان نشریات میں علمائے کرام کا حساس مسئلہ پر جھگڑا

اسلام آباد : رمضان المبارک میں رمضان ٹرانسمیشن کے دوران ایکسپریس ٹی وی کی رمضان نشریات میں علمائے کرام کا حساس مسئلہ پر بحث شدت اختیار کرنے سے معاملات پروگرام بند کرنے تک پہنچ گئے ۔ تاہم پیمرا کی خاموش بھی معنی خیز ہے ۔

18 رمضان المبارک کو افطار نشریات میں عامر آن لائن پروگرام ’’ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ‘‘ کے نام نامی اسمِ گرامی سے پروگرام تھا ۔ جس میں اہلِ تشیع مکتبہ فکر کے عالمِ دین علامہ میسمی اور اہلِ حدیث عالمِ دین قاری خلیل الرحمن جاوید نے حضرت حذیفہ یمان رضی اللہ عنہ کی توصیف بیان کی ، جس میں حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی ذکر آیا ۔ جس پر علامہ میسمی کی جانب سے خلفیہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں گستاخانہ جملے زبان سے نکل گئے ۔

اس دوران پروگرام کے میزبان عامر لیاقت نے حسبِ معمول علمائے کرام کے مابین صلح والا کردار ادا کیا ، تا کہ بات بقول ان کے آگے نہ بڑھ سکے ۔ اس دوران قاری خلیل الرحمن جاوید نے علاوہ میسمی کو جواب دیا تاہم مفتی حنیف قریشی جب علامہ میسمی کو جواب دینے لگے تو ان کا مائیک بھی بند ہو گیا ۔ تاہم پروگرام کو روکا گیا اور بریک لے لی گئی اور بریک کے بعد انجانی غلطی کی تلافی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ۔

مذید پڑھیں :ہانیہ خان، جنید جمشید شہید اور عامر لیاقت مکافات عمل

لیکن دوسرے دن 19 رمضان المبارک کو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی شان میں پروگرام تھا ۔ جس میں پروگرام شروع ہوتے ہی قاری خلیل الرحمن جاوید نے گزشتہ روز کا واقعہ یاد دلا کر کہا کہ علامہ میسمی کل والے واقعہ پر معافی مانگیں کیوں کہ ان کی وجہ سے ہمارے خلیفہ ثانی حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ اس پر علامہ میسمی نے معافی مانگی اور باقاعدہ اس کا دو بار اعادہ کیا ۔

پروگرام آگے چلا جس میں میں قاری خلیل الرحمن جاوید نے غلطی مان لینے کے بعد ایک نیا سلسلہ شروع کیا اور انہوں نے کہا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو جس ابن ملجم نے شہید کیا تھا اس بدبخت کی آج کسی بھی ملک میں قبر نہیں ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ سنیوں کو جس ہستی سے پیار ہے یعنی سیدنا خلیفہ دوئم حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ، ان کو شہید کرنے والے ابو لہلو فیروز کا مزار ایران میں ہے ۔

جس پر عامر لیاقت حیسن نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘‘اچھا‘‘ ؟ جس پر دیگر تین علمائے کرام نے بھی تائید کی ، جس کے بعد قاری خلیل الرحمن نے کہا اسی کے نام کے فیروزے پہنے جاتے ہیں جس پر علامہ میمسی اور عامر لیاقت حیسن نے پہلے انکار کیا اور پھر کہا کہ فیروزہ تو کسی آتش پرست فیروز کے نام پر ہے ۔ جس پر سب سے کہا یہ وہی آتش پرست تھا ۔ تو علامہ میمسی نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ حضرت عمر کے پاس آیا کیوں تھا اس کا مدینہ میں کیا کام تھا ؟

جس پر عامر لیاقت حیسن نے کہا کہ وہ گورنر کی اجازت سے ان کا خط لیکر آیا تھا ۔جس پر مفتی حنیف قریشی نے تائید کی اور موبائل سے دیکھایا کہ واقعی اس کا مزار ایران میں ہے اس کا ایک نام بابا شجاع الدین بھی تھا ۔ جس کے بعد علامہ میسمی قدرے غصے میں آئے اور انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی گستاخی کرنے والوں پر لعنت کیوں نہیں کی جاتی ۔ جس پر قاری خلیل الرحمن جاوید ، عامر لیاقت حسین اور علامہ میسمی کے درمیان تلخی ہوئی ۔

اس پروگرام کو دیکھنے والے ناظرین نے سوشل میڈیا پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ سوشل میڈیا پر صارفین نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے اس اہم اور حساس معاملہ کو کیوں اٹھایا ہے ۔

اس پروگرام میں ہر مسلک سے ایک ایک عالم دین شریک ہوتا ہے ۔ جس میں قاری خلیل الرحمن اہلحدیث مسلک سے ، دیوبند مسلک سے مولانا ڈاکٹر اسحاق عالم ، اہلسنت بریلوی مسلک سے مفتی حنیف قریشی اور اہل تشیعہ مسلک سے علامہ میسمی شامل ہیں ۔ ان علمائے کرام کو کہہ دیا گیا ہے کہ عالم آن لائن پروگرام روک دیا گیا ہے اور اگر دوبارہ پروگرام شروع ہوا تو آپ کو آگاہ کر دیا جائے گا ۔

مذید پڑھیں :غیر قانونی کنکشن روکنے پر PTI کے MNA کا واٹر بورڈ ملازم پر تشدد

سوشل میڈیا پر ناظرین کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت ہمیشہ کی طرح چینل کی ریٹنگ کے لیے یہ سب کرتے ہیں اور چینل کے مالکان و انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے ۔ دو دن مسلسل اس حساس مسئلہ پر عوام میں غصہ کی لہر دوڑ گئی اور بے شمار لوگوں نے چینل کے مالکان پر اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا تاہم چینل کے مالک سلطان لاکھانی نے فوری طور پر رمضان نشریات میں عامر آن لائن علمائے کرام کا سیگمنٹ بند کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔

جب کہ پیمرا اس حساس معاملہ میں اب تک چینل کو کوئی نوٹس جاری کر سکا ہے نہ ہی شکایات کا ازالہ کیا جا رہا ہے ۔ پیمرا کی خاموشی کو بھی معنی خیر قرار دیا جا رہا ہے ۔ کیونکہ پروگرام کے میزبان پی ٹی آئی کے قومی اسمبلی کے رکن ہیں اور اس کے خلاف کسی قسم کی کاروائی سے گریزاں ہے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *