حکومت محکمہ صحت کے تیزی سے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنائے : پروفیسر ڈاکٹر تسکین احمد

پشاور : گلوبل ٹائمز میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق ڈین محکمہ صحت خیبر پختون خواہ و کنسلٹنٹ یورالوجسٹ جنیٹو یورینری سرجن پروفیسر ڈاکٹر تسکین احمد نے کہا حکومت وقت صحت کے تیزی سے گرتے ہوئے معیار کو بہتر بنانے بھرپور اہم کردار ادا کریں ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت وقت 1999 سے پہلے والا سول سروس نظام کو دوبارہ بحال ہی کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے علاوہ میرا واحد و یکتا بھائی بھی ایک سول سروس کا سابق سینئیر ترین کلینیکل پروفیسر میڈیل ڈاکٹر (کنسلٹنٹ ای این ٹی اینڈ ہیڈ اینڈ نک سرجن) ہی ہے ۔ عام آدمی کے برعکس ایک تاریخ ساز سابق سینئیر ترین سول سروس کے افسر (ہمارے مرحوم والد )کو ابھی چند برس پہلے اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

جبکہ ہم دونوں بھائی حاضر سروس طبی عملے کے افسران تھے ، ان کو بطورِ ایک میڈیکل ایمرجنسی کا مریض ہونے کے باوجود محکمہ صحت، حکومتِ خیبر پحتونخواہ، پشاور کے سب پرانے، بڑے، وغیرہ تدریسی ہسپتال، پشاور میں شعبہِ ایمرجنسی کے ذریعے باقاعدہ داخلے کے بہتر گھنٹوں سے بھی زیادہ کے بعد ہی متعلقہ طبی عملے نے دیکھا اور نام نہاد باقاعدہ علاج معالجہ شروع کیا ۔

مذید پڑھیں :کراچی : خاتون پروفیسر نسرین نگہت کا قاتل گرفتار

ہمارے مرحوم والد صاحب کا وہ علاج معالجہ ہماری ذاتی، صوبائی وزیرِ صحت، ہسپتال انتظامیہ، وغیرہ کی متعدد بار ایمرجنسی یاد دہانیوں کے بعد کہیں جا کر شروع ہوا جب ہمارے والد کا قابلِ علاج مرض لاعلاج حد مرض کی حد تک ہی پہنچ گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ شکوہ، شکایت، وغیرہ کرتے تو کس سے کرتے کیونکہ تمام تر متعلقہ طبی عملے والے ہمارے ہم پیشہ، وغیرہ تو ہی تھے ، انٹائیٹلیڈ ہونے کے باوجود ہم نے حسبِ معمول اپنی ذاتی جیبوں سے تمام تر رقوم ہی ادا کیں تھیں ۔

ہمارے والد کی اُنہیں وجوہات ہی کی بنا پر بعدازان کئی دنوں بعد انتہائی تکلیف دہ موت واقع ہوئی جو موت صرف متعلقہ طبی عملے کی انتہائی مجرمانہ، غفلتوں، لاپروائیوں، غلطیوں، وغیرہ ہی کے باعث تھی ۔

کنسلٹنٹ یورالوجسٹ جنیٹو یورینری سرجن پروفیسر ڈاکٹر تسکین احمد نے بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے ساتھ ایک اخباری بیان میں کہا کہ ہمارے والد صاحب کی موت کے ذمہ صرف وہی متعلقہ طبی عملے ارکین ہی تھے اور ہیں۔ جو تمام تر انتہائی سنگین ترین جرائم کے مرتکب مجرمان ہی تھے اور ہیں لیکن مذکورہ بالا مجرمان سے بھی لامحدود بڑا مجرم اسی ہسپتال کی نجکاری نظام ہی تھا اور ہے باوجود اس حقیقت کے کہ ہم دونوں بھائی اُس دور میں اُسی ہسپتال کے سول سروس ہی کے سب سے سینئیر ترین حاضر سروسز کلینکل پروفیسر ڈاکٹرز بھی تھے ۔

اس ملک کے تمام تر شعبہ ہاۓ زندگی میں %99 افراد منافق عظیم، وغیرہ ہی ہیں محکمہ صحت،حکومتِ شمال۔مغربی سرحدی صوبے (موجودہ خیبر پختواہ)، پشاور کا بڑا زوال خاص کر 1999 میں ہی شروع ہوا۔جب صرف آئی ایم ایف، وغیرہ کے سخت ترین احکام پر سول سروس کے کئی تدریسی طبی اداروں بتدریج کو نیم نجی ہی بنایا گیا اور پھر نظریہِ مقدس ترین حضرت برکی ازمؒ 2015 کے تحت صرف آئی ایم ایف، وغیرہ کے مزید سخت ترین احکام پر بتدریج تقریباً مکمل نجی ہی بنایا گیا ۔

مذید پڑھیں :پاک بحریہ انگیج افریقہ پالیسی

کیوں مذکورہ بالا نجکاری مذکورہ بالا حکومت کے صرف محکمہ صحت میں ہی کی جا رہی تھی اور ہے لیکن کسی دوسرے محکمے میں ہرگز نہیں کی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ اب تو جلد ہی ضلع، تحصیل، وغیرہ کی سطع کے طبی اداروں تک بھی بڑھایا جانے والا ہی ہے ۔

مذکورہ بالا اقدامات کے تحت اب تقریباً تمام طبی تدریسی اداروں کی انتظامیہ میں %99 سنگین ترین جرائم کے مرتکب سزا یافتہ افراد ہی ہیں جن مذکورہ بالا افراد میں %99 تو مہا خرد برد، غبن، وغیرہ میں برطرف، برخاست شدہ، وغیرہ سابق طبی/غیر طبی عملے کے اراکین، سمگلروں، ٹھیکہ داروں، وغیرہ تک بھی شامل ہیں ۔

مذکورہ بالا وجوہات کے بنا پر طبی عملے والے اب سرکار کے نوکر کے بجاۓ خان (جن میں مذکورہ بالا %99 سزا یافتہ مجرمان، وغیرہ ہی ہیں) کے نوکر ہی بن گۓ ہیں مذکورہ بالا زمینی حقائق کے باعث تمام تر حاضر سروس طبی عملے کے ہر سطع کے اراکین اپنی متعلقہ سروسز کے عدم تحفظ، عدم دلچسپی، وغیرہ ہی کا شکار ہیں ۔

مذید پڑھیں :دیار خلافت کا سفر شوق (تیسویں قسط)

مذکورہ بالا محکمہ صحت کے تیزی سے گرتے ہوئے معیار کو کافی حد تک کم یا ختم کرنے کے صرف مندرجہ ذیل دو عدد حل ہیں ،جو ایک کے ساتھ دوسرا بھی نافدِ عمل ضرور ہی کۓ جائیں نمبر 1 تمام تر طبی تدریسی اداروں کی نجکاری فوراً سے پیشتر باقاعدہ انتظامی احکام سے ختم کر کے 1999 سے پہلے والا سول سروس نظام دوبارہ بحال ہی کیا جاۓ نمبر 2 تمام تر سول سروس بننے والے طبی عملے کی نجی پریکٹس پر مکمل پابندی فوراً سے پیشتر باقاعدہ انتظامی احکام سے عائد کی جائے اور نجی پریکٹس کے بجائے اُن کی تنخواہین بڑھائی جائیں اور خصوصی الاؤنسز ہی دیۓ جائیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے بذاتِ خود معزز ترین اعلیٰ عدلیہ، صوبائی اسمبلی،وغیرہ اس سلسلے میں حقائق جانچنے، تجاویز دینے، وغیرہ کیلۓ فوراً سے پیشتر ضرور کسی بھی وقت ہی باقاعدہ طلب کر سکتی ہیں ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *