جناب محمد ادریس اُپل ؒ بھی راہی آخرت ہوگئے

محمد ادریس اُپل

جناب محمد ادریس اُپل ؒ بھی راہیٔ آخرت ہوگئے
تحریر : خرم شہزاد

جناب محمد ابوبکر شیخ ؒ کی جدائی کا غم ابھی تازہ تھا کہ ایک اور المناک خبر موصول ہوئی کہ جمعیت علماء اسلام کی ایک فکری و نظریاتی شخصیت جناب محمد ادریس اُپل بھی راہی آخرت ہو گئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون !
دورِ حاضر کے کارکنانِ جمعیت کو اگر کبھی ہفت روزہ ترجمانِ اسلام, ماہنامہ عزمِ نو اور الجمعیة کی پرانی فائلیں دیکھنے کا موقع ملے تو وہ ادریس اُپل صاحبؒ کا نام سرِفہرست پائیں گے۔ میرے خیال سے انہوں نے جماعتی افکار اور نظریات پر جس قدر لکھا اگر اس مواد کو جمع کیا جائے تو کئی جلدیں بن سکتی ہیں۔
جمعیت طلباء اسلام کے دورِ اولین کی ممتاز شخصیت, جےٹی آئی میں ہزاروں طلباء کے مربّی, ہر دورِ ابتلاء میں جماعت کا احسن انداز سے دفاع کرنے والے محمد ادریس اُپلؔ ہمیشہ صفِ اول میں دکھائی دیے۔

میری خوش قسمتی ہے کہ قائد طلباء حافظ نصیر احمد احرارؔ کی صدارت اور قیادت میں زندگی کے چند قیمتی سال(دورانِ طالب علمی) جے ٹی آئی کے تربیتی ماحول میں گزرے, اکثر و بیشتر احرار صاحب کے مدرسہ جامعہ عثمانیہ رسول پارک اچھرہ لاہور میں تنظیمی اجلاس منعقد ہوتے تو متعدد مرتبہ گوجرانوالہ سے ان کے ہاں جانے کا موقع ملتا اور اس دوران بعض دفعہ ادریس اپل صاحبؒ سے بھی ملاقات ہوجاتی, ان کی مجلس میں بہت سی علمی, فکری, تنظیمی و نظریاتی باتیں سیکھنے کو ملتی بالخصوص جب وہ حضرت شیخ الہندؒ سے متعلق گفتگو فرماتے تو ان کی مجلس سے اٹھنے کو دل نہ چاہتا۔

ایک مرتبہ راقم نے حافظ نصیر احمد احرارؔ سے گوجرانوالہ میں ”فکرِ شیخ الہندؒ سیمینار“ کے انعقاد سے متعلق مشورہ کیا تو انہوں نے نہ صرف اپنے مفید مشوروں سے نوازا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ: ”ان شاءاللہ میں اور ادریس اپل صاحبؒ اس سیمینار میں ضرور حاضر ہوں گے, آپ حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب سے بھی وقت لے لیں اور پروگرام کی تیاری کریں۔“

مقررہ دن احرار صاحب، جناب محمد ادریس اُپل صاحبؒ کے ہمراہ تشریف لائے, حضرت مولانا زاہدالراشدی صاحب کی موجودگی میں خطاب فرمایا اور حضرت شیخ الہندؒ کی شخصیت اور کارناموں سے متعلق ایسی جامع گفتگو فرمائی کہ بعد میں علامہ راشدی صاحب کو یہ کہنا پڑا کہ: ”اب میری گفتگو کی ضرورت نہیں ساری باتیں اُپلؔ صاحبؒ نے بیان فرمادی ہیں۔“

وہ کافی عرصہ سے علیل تھے مگر اس علالت کے باوجود الجمعیة کے لیے لکھتے رہتے تھے۔
کسی عہدے اور منصب کی طمع نہ ہونا اور بڑا ہونے کے باوجود اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھنا ایک نظریاتی کارکن کے اوصاف میں سے ہیں جو ادریس اپل صاحبؒ میں عمر بھر نمایاں رہے۔
اللہ تعالیٰ ان کی حسنات کو قبول فرماکر ان کی کامل مغفرت کا فیصلہ فرمادیں۔
اللھم اغفر وارحم وادخلہ الجنة الفردوس
آمین یارب العالمین

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *