دیار خلافت کا سفر شوق (تیسویں قسط)

دیار خلافت کا سفر شوق (تیسویں قسط)
تحریر : مولانا ڈاکٹر قاسم محمود

ارطغرل غازی ہمہ وقت شیخ عماد الدین مصطفی ادہ بالی کی ہدایت و رہنمائی کے طالب ہوتے اور ان کا ہر دم خیال رکھتے۔ اتنی روحانی و قلبی قربت کے باوجود شیخ کو درویشانہ زندگی بسر کرنی ہی پسند تھی۔ شہر سے دور اپنی کٹیا میں ہی شیخ کا قیام رہتا۔ ارطغرل غازی کو جب بھی رہنمائی درکار ہوتی وہیں شیخ کے کچے سے گھر میں ان کی قدم بوسی کو حاضر ہوجاتے۔ ارطغرل غازی کے ساتھ ان کا پورا خاندان شیخ کی روحانی عظمت و مرتبت کا بے حد احترام کرتا۔ ارطغرل کے قابل و ہونہار صاحبزادے عثمان خان جو سلطنت عثمانیہ کے بانی اور اولین تاجدار ٹھہرے، بھی شیخ ادہ بالی کے ہاں روحانی استفادے کیلئے آتے جاتے رہتے۔ اس آمد و رفت کے دوران ایک بار عثمان خان کی نگاہیں اتفاق سے شیخ کی صاحبزادی سے چار ہوئیں۔۔۔ دل پر کس کی چلی ہے، اس کے فیصلے عموماً ایسی ہی ایک نگاہ پر موقوف ہوتے ہیں۔ شاعر نے جو کہا ہے کہ “بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا” بس وہی معاملہ یہاں ہو کر رہا۔ نگاہیں چار کیا ہوئیں دونوں کے دل کے آر پار ہوگئیں اور شہزادہ اور شیخ زادی نے ایک دوسرے کے سامنے دل ہار دیئے۔ یہ ایک فطری معاملہ ہے۔ نظریں دل میں کبھنے کے بعد عثمان خان نے شیخ زادی کا ہاتھ مانگنے کا فیصلہ کرلیا۔ باپ کو بتایا تو ارطغرل غازی بیٹے کے اس فیصلے پر خوش ہوئے مگر شیخ کے سامنے بچی کا ہاتھ دینے کی درخواست پیش کی گئی تو شیخ کو اس بات میں تامل تھا کہ اس رشتے سے ان کے فقر و درویشی میں خلل پڑے گا۔ شیخ نے سوچا وہ ایک درویش ہیں اور ان کی فقیر زادی شاہی گھرانے میں کمفرٹ نہیں محسوس کرے گی، اس لئے یہ کوشش کرتے رہے کہ بات کسی بہانے ٹل ہی جائے تو اچھا ہے۔۔۔ مگر ادھر شیخ زادی اور شہزادے کے دل کا حال کچھ اچھا نہیں تھا۔ دونوں کا قلبی میلان اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ وہ مزید ایک دوسرے کی جدائی برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے تھے، تاہم شیخ تھے کہ اب تک اس معاملے میں یکسو نہیں ہو پا رہے تھے۔

عثمان خان کا خواب:
اسی دوران عثمان خان نے ایک خواب دیکھا جسے ان کے وقائع نویسوں اور مورخین نے بہت اہتمام سے ذکر کیا ہے۔ عثمان خان ایک رات شیخ کے ہاں سوئے ہوئے تھے کہ انہوں نے خواب دیکھا
ایک ہلال شیخ ادہ بالی کے سینے سے نکلا اور رفتہ رفتہ وہ بدر کا چاند بنا اور عثمان کے سینے میں پیوست ہو گیا،پھر عثمان کے پہلو سے ایک درخت نمودار ہوا، جو بڑھتا ہی چلا گیا، یہاں تک کہ اس کی شاخیں آدھی زمین پر پھیل گئیں… اس درخت کی جڑوں سے دنیا کے چار بڑے دریا بہہ رہے تھے اور اس درخت کی شاخیں چار بڑے پہاڑوں کو سنبھالے ہوئے تھیں۔درخت کے پتے تلواروں سے مشابہ تھے۔اچانک ایک تیز ہوا چلی اور درخت کے پتے ایک براعظم کی طرف ہو گئے۔

وہ براعظم ایک انگوٹھی کی طرح دکھائی دیتا تھا۔عثمان اس انگوٹھی کو پہننا ہی چاہتا تھا کہ اس کی آنکھ کھل گئی… یہ اس بات کی بشارت تھی کہ عثمان خان دو بر اعظموں پر پھیلی ہوئی سلطنت کا بانی ہوگا اور شیخ کی صاحبزادی سے اس کی اولا پیدا ہو کر اس سلطنت کی حکمران بنے گی۔ عثمان نے یہ خواب شیخ ادہ بالی کو بیان کیا، خواب سننے کے بعد شیخ نے فورا اپنی بیٹی کا نکاح عثمان سے کر دیا۔ روایات کے مطابق شیخ کی بیٹی مال خاتون ہی تھیں اور انہی سے عثمان خان کا عظیم بیٹا اورخان پیدا ہوا۔

(جاری ہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *